اسلام آباد: وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کو انتظامی اور مالی معاملات کے حوالے سے سنگین مسائل کا سامنا ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ قیادت میں بار بار تبدیلی، صحت کے مختلف اداروں کی کارکردگی، میڈیکل کونسلز، غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبوں اور حیاتیاتی نمونوں کی بیرون ملک منتقلی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
نیوز اینالسٹ ندیم چودھری کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں وزارت قومی صحت کے معاملات، مختلف ذیلی اداروں اور صحت کے شعبے میں سامنے آنے والے انتظامی و مالی خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 18 ماہ کے دوران وفاقی صحت کے 6 سیکریٹری تبدیل کیے گئے، جس سے وزارت میں پالیسی کے تسلسل اور انتظامی استحکام سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں ایک اہم معاملہ پاکستان سے تقریباً 173 ہزار خون کے نمونے جینوم تحقیق کے لیے بیرون ملک منتقل کیے جانے کا بھی اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحت کے ماہرین نے اس عمل میں شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے تحقیق کے مالی ذرائع، غیر ملکی سائنسی شراکت داروں اور اس منصوبے میں شامل اداروں سے متعلق مکمل معلومات سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں حیاتیاتی نمونوں کے جمع کرنے، منظوری، بیرون ملک منتقلی اور استعمال کے طریقہ کار کے بارے میں بھی وضاحت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ان معاملات کو رپورٹ میں ایسے سوالات کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن کی متعلقہ اداروں سے تصدیق اور وضاحت ضروری ہے۔
پاکستان نرسنگ کونسل، فارمیسی کونسل اور الائیڈ ہیلتھ کونسل کے حوالے سے بھی مختلف شکایات اور الزامات رپورٹ کا حصہ ہیں۔ ان میں کالجوں کی رجسٹریشن، بھرتیوں، معائنوں اور انتظامی فیصلوں سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حوالے سے رپورٹ میں نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں میں اضافے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی فیسیں بعض طلبہ کو بیرون ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں جبکہ ملک میں میڈیکل کی کئی نشستیں خالی رہنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ بھی رپورٹ میں زیر بحث آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماضی میں ویکسین کی تیاری اور دیگر اہم طبی کاموں کے حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے ادارے کی پیداواری سرگرمیوں میں کمی آئی ہے اور اس کی بعض سرگرمیاں اب محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جن میں اینٹی وینم اور اینٹی ریبیز مصنوعات کی تیاری کے لیے جانوروں کی دیکھ بھال بھی شامل ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے حوالے سے بھی رپورٹ میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر قائم انکوائری کمیٹی کی بعض سفارشات پر اب تک مکمل عملدرآمد نہیں ہوا جبکہ بعض خریداری اور ٹینڈر کے معاملات بھی تاخیر کا شکار ہیں۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھرتیوں کے بعض عمل امیدواروں کے انتخاب سے متعلق اندرونی اختلافات کے باعث متعدد مرتبہ منسوخ ہوئے۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے بارے میں بھی رپورٹ میں انتظامی تاخیر اور بین الاقوامی مطالعات سے متعلق مالی معاملات کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ایک خاتون افسر سے متعلق ہراساں کیے جانے کی شکایت اور اس معاملے میں انتظامی کارروائی میں تاخیر کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
پولی کلینک کے بارے میں رپورٹ میں ٹینڈرز جاری نہ ہونے اور ادویات کے ریکارڈ سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض ادویات سرکاری نظام میں موجود دکھائی دیتی ہیں لیکن گودام کے ریکارڈ میں ان کی جسمانی موجودگی کے حوالے سے سوالات سامنے آئے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منظور شدہ پی سی ون نہ ہونے کے باعث ادارے کے معاملات بھی رکے ہوئے ہیں جبکہ بعض صحت اداروں میں کلینیکل ڈاکٹرز انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں غیر ملکی فنڈز اور صحت کے پروگراموں کے انتظام سے متعلق معاملات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں ایک خصوصی وبائی امراض کے ہسپتال کی انڈس ہسپتال کو منتقلی اور گلوبل فنڈ سے متعلق مالی معاملات کے آڈٹ اعتراضات کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان معاملات کی مزید جانچ اور وضاحت کی ضرورت ہے۔
وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے حوالے سے بھی آڈٹ اعتراضات کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ویکسین کی خریداری، زائد المیعاد ویکسین، قیمتوں اور ٹینڈر کے طریقہ کار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
بارڈر ہیلتھ سروسز کے کراچی منتقل کیے جانے کے بعد فضائی عملے کی صحت کلیئرنس سے حاصل ہونے والی رقم کے ریکارڈ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان رقوم کے حوالے سے مکمل مرکزی کمپیوٹرائزڈ آڈٹ نظام موجود نہ ہونے سے مالی نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کے طریقہ کار پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ہونے والی خریداری، بھرتیوں اور فنڈز کی تقسیم کا آزاد اور غیر جانبدار فارنزک آڈٹ کرایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل سے مختلف شکایات اور مالی و انتظامی معاملات کی اصل صورتحال سامنے لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
Read in English: Health ministry faces questions over administration, funds and biological samples
