ذہنی صحت کی قومی پالیسی 2026-2035 کا اجرا، 3 کروڑ 24 لاکھ افراد تک سہولت پہنچانے کا عزم

newsdesk
6 Min Read
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی و صوبائی حکام، تعلیمی شعبے اور ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور جی آئی ایچ ڈی-ایس ٹی ایم یو کے نمائندوں کے ہمراہ پاکستان کی قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا کیا۔ فوٹو: WHO/Hamid Inam

اسلام آباد، یکم اکتوبر 2026ء — پاکستان کے گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کے موقع پر حکومت پاکستان نے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026-2035 کا اجرا کر دیا ہے، جس کا مقصد ملک میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے ضرورت مند 3 کروڑ 24 لاکھ سے زائد افراد تک خدمات پہنچانا ہے۔ یہ پالیسی عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ، شفا تعمیر ملت یونیورسٹی کے اشتراک سے شروع کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی و صوبائی حکام، تعلیمی شعبے کے نمائندوں، ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور جی آئی ایچ ڈی، ایس ٹی ایم یو کے نمائندوں کی موجودگی میں پالیسی کا اجرا کیا۔

وزارت قومی صحت خدمات، ریگولیشنز و کوآرڈی نیشن کی قیادت میں اسلام آباد میں یکم سے 2 اکتوبر تک منعقد ہونے والے اس سمٹ میں 800 شرکا بالمشافہ اور آن لائن شریک ہیں۔ ان میں ذہنی صحت کے ماہرین، جامعات سے وابستہ شخصیات، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار اور پالیسی ساز شامل ہیں۔ سمٹ کا مقصد ایسے شواہد پر مبنی اقدامات پر غور کرنا ہے جو پاکستان اور عالمی سطح پر جامع ذہنی صحت ایکشن پلان 2030 کو آگے بڑھا سکیں۔ یہ بین الاقوامی فریم ورک عالمی صحت اسمبلی کے تمام رکن ممالک نے منظور کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے محتاج ہیں، تاہم آبادی کے صرف تقریباً 5 فیصد حصے کو ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی حاصل ہے۔ اس طرح علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد تک پہنچتا ہے۔ اہل افرادی قوت کی محدود دستیابی بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے۔ پاکستان میں ہر ایک لاکھ آبادی کے لیے تقریباً 0.19 ماہر نفسیات موجود ہیں، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ اوسط 7 فی ایک لاکھ افراد ہے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ذہنی صحت ایک ہنگامی مسئلہ ہے، یہ قومی سلامتی اور قومی معیشت کا معاملہ بھی ہے۔ ان کے مطابق ہر وزارت اور ہر فرد سمیت سب کو اکٹھا کرنا ہوگا، کیونکہ ملک کے عوام کے لیے محفوظ اور صحت مند ماحول بنانے میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں واقعی سخت محنت کرنا ہوگی۔ یہ کانفرنس عملی اقدامات پر منتج ہونی چاہیے، اور ہم تمام قومی و صوبائی اداروں، حکام اور بین الاقوامی و قومی شراکت داروں کے شکر گزار ہیں کہ وہ اس اہم بحران سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ قومی ذہنی صحت پالیسی ہر خاندان کے قریب نگہداشت پہنچانے کے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس عزم کو اسکولوں، بنیادی صحت کی سہولتوں اور کمیونٹیز میں عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ لوگ عزت اور احترام کے ساتھ بروقت مدد حاصل کر سکیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا کہ ذہنی صحت میں سرمایہ کاری دانشمندانہ سرمایہ کاری ہے۔ ڈپریشن اور اضطراب سمیت دیگر کیفیتوں سے نمٹنے پر لگایا گیا ہر ڈالر بہتر صحت اور پیداواریت میں اضافے کے ذریعے چار ڈالر کی واپسی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کی مدد کی ضرورت میں کوئی شرمندگی نہیں، زندگی کے کسی بھی مرحلے پر کوئی بھی شخص متاثر ہو سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او پاکستان اور تمام ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ہر شخص کو، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو یا کوئی بھی ہو، درکار ذہنی صحت کی مدد تک رسائی مل سکے، کیونکہ ذہنی صحت کے بغیر صحت ممکن نہیں۔

پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ بچوں کے سیکھنے، نشوونما پانے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کے لیے ذہنی صحت اور فلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کی کوششوں میں بچوں اور نوعمروں کو مرکز میں رکھنا ہوگا، جبکہ روک تھام، بروقت شناخت اور نگہداشت پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل ماحول چونکہ نوجوان زندگیوں کو بڑھتے ہوئے متاثر کر رہے ہیں، اس لیے ایک صحت مند اور زیادہ مضبوط نسل کی تعمیر میں ذہنی صحت کی لچک کو شامل ہونا چاہیے۔

گلوبل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید عثمان حمدانی نے کہا کہ پاکستان ذہنی صحت کے ایجنڈے میں ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ تحقیق، نفاذی سائنس، پالیسی سازی اور کمیونٹی کی سطح پر اختراع میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ملک نے یہ ثابت کیا ہے کہ بنیادی صحت، اسکولوں اور کمیونٹیز کے ذریعے قابل توسیع اور شواہد پر مبنی طریقوں سے مؤثر ذہنی صحت کی دیکھ بھال فراہم کی جا سکتی ہے۔

پاکستان کا ہدف ہے کہ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کو ذہنی صحت کی پالیسی، نفاذی سائنس، جدت اور عالمی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے اپنا نمایاں بین الاقوامی پلیٹ فارم بنایا جائے، ساتھ ہی ایسے ذہنی صحت کے نظام کو آگے بڑھایا جائے جو مساوی، موسمیاتی اثرات کے مقابل مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار ہوں۔

Share This Article