اسلام آباد (پی آر): قومی زبان کے فروغ کے ادارے اور ویمن یونیورسٹی مردان کے اشتراک سے دو روزہ بین الاقوامی قومی اقبال کانفرنس 2026 کا افتتاحی اجلاس ایوانِ اردو، قومی زبان کے فروغ کے ادارہ، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں علمی، ادبی، تحقیقی اور سفارتی شخصیات نے شرکت کی اور علامہ محمد اقبالؒ کے فلسفے، تصورِ خودی، قومی شناخت، فکری آزادی اور عہدِ حاضر میں اقبال کے پیغام کی معنویت پر اظہارِ خیال کیا۔ تقریب کا آغاز قومی ترانے، تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد ویمن یونیورسٹی مردان کا مختصر تعارف پیش کیا گیا۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب اورنگزیب خان کچھی نے کہا کہ علامہ محمد اقبالؒ کی فکری میراث پاکستان کی قومی اور ثقافتی شناخت کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقبال کا پیغام نوجوان نسل تک پہنچانے کے لیے علمی اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے مؤثر اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی اور معاشی خوش حالی اسی وقت ممکن ہے جب نوجوانوں اور خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی ترقی کو اس کی ثقافت سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ یہ کانفرنس صرف تحقیقی مقالات کی پیش کش تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی سفارشات کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔
ویمن یونیورسٹی مردان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کو نوجوان نسل سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور انہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو خودی کا درس دیا۔ ان کے مطابق اقبال نے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا تصور پیش کیا اور پاکستان اسی خواب کی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری مسلمانوں کو ان کی عظمت یاد دلاتی ہے، جب کہ ان کے خطبات اسلام کی حقیقی روح سے روشناس کراتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے کہا کہ جس طرح عمر خیام شاعر ہونے کے ساتھ ریاضی دان بھی تھے اور ابن خلدون فلسفی تھے، اسی طرح علامہ اقبالؒ محض شاعر نہیں بلکہ مفکر، فلسفی، ماہرِ معاشیات اور ماہرِ قانون بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کی شاعری نوجوانوں میں خود اعتمادی، خود شناسی اور مقصدیت پیدا کرتی ہے، جب کہ ان کا فلسفہ انہیں اپنی ثقافتی شناخت سے وابستہ رہتے ہوئے علم و تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
قومی زبان کے فروغ کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کانفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد اقبال کے افکار و فلسفے کو بین الاقوامی علمی تناظر میں اجاگر کرنا اور تحقیق و فکری مکالمے کے نئے امکانات پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا پیغام کسی ایک دور تک محدود نہیں بلکہ قومی زندگی میں فکری آزادی اور انسانی بیداری کو مسلسل فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق اقبال کا پیغام نوجوان نسل کے لیے فکری رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے مزید کہا کہ علامہ اقبالؒ کی پہلی کتاب ’’علم الاقتصاد‘‘ تھی، جس میں اہم معاشی اصول پیش کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت انسانی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ذہنی سکون و استحکام کے لیے معاشی آسودگی بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے پاکستان اور ایران کے مشترکہ ادبی و ثقافتی ورثے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کی فارسی شاعری دونوں ملکوں کے علمی، ادبی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں ممتاز علمی اور سفارتی شخصیات کی موجودگی علامہ اقبالؒ سے گہری دلچسپی کی عکاس ہے۔
ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے کہا کہ اگرچہ اقبال کو عموماً شاعر کے طور پر جانا جاتا ہے، تاہم وہ مفکر، فلسفی اور سیاسی بصیرت رکھنے والی شخصیت بھی تھے جنہوں نے مستقبل کے بارے میں غیر معمولی پیش گوئیاں کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ وہ اقبال کی جنم بھومی ہے۔ ان کے مطابق اقبال فکر و دانش کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور ایران میں بھی وہ پاکستان کی طرح بے حد مقبول ہیں۔ انہوں نے اقبال کو سورج جیسی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقبال صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل مکتبِ فکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقبال ایران نہیں گئے، مگر انہوں نے ایران اور اس کی ثقافت کو گہرائی سے سمجھا، جو ایرانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔
کلیدی مقرر بیرسٹر ولید اقبال، جو ماہرِ قانون، ماہرِ تعلیم، سابق سینیٹر اور علامہ محمد اقبالؒ کے پوتے ہیں، نے اقبال کے فلسفے اور موجودہ چیلنجز سے اس کے تعلق پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کا فلسفۂ خودی انسان کو اپنی صلاحیت پہچاننے اور بامقصد عمل اختیار کرنے کا درس دیتا ہے، جب کہ ان کا فکری وژن قومی خود مختاری اور اجتماعی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
بیرسٹر ولید اقبال نے کہا کہ جامعات میں اقبالیات اور فکری تحقیق کو فروغ دے کر طلبہ میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور علمی خود اعتمادی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال قوم کو جسم اور شاعر کو قوم کی آنکھ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اقبال نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز لیکچرر کی حیثیت سے کیا اور بعد ازاں وکالت کے شعبے میں آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی فلاح، سماجی انصاف اور معاشی مساوات کے موضوعات 1907 ہی میں اقبال کی شاعری میں موجود تھے، جب وہ کیمبرج میں زیرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اقبال کے قانونی کیریئر پر دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور اقبال نے اپنی زندگی میں 111 مقدمات کی پیروی کی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے علامہ اقبالؒ کی معروف نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا‘‘ کو دوبارہ نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کی۔
وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد کے چیف جسٹس، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے اقبال کے تصورِ عدل، اسلامی فکر اور سماجی ذمہ داریوں پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کے نزدیک انصاف، اخلاقی اقدار اور اجتماعی شعور ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل کے بنیادی عناصر ہیں۔
اقبال اکادمی پاکستان لاہور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالروف رفیقی نے اقبالیات اور اقبال کی فکری میراث کے تحفظ پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کے مستند متون، افکار اور ادبی سرمایے کو نوجوان نسل تک پہنچانا ایک اہم علمی اور قومی ذمہ داری ہے۔
اقبال شناس، فارسی شاعر اور ادبی شخصیت بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے اقبال کی صد سالہ تقریبات میں اپنی شرکت کا ذکر کیا اور 150 سالہ تقریبات کا حصہ بننے پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے معاشی عدم مساوات کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شدید معاشی ناہمواریوں کے ساتھ معاشرے قائم نہیں رہ سکتے اور ایسی ناہمواریاں حکمرانوں اور سیاسی نظاموں کے زوال کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقبال نے فارسی زبان کو خودی اور انسانی وقار کے فلسفے کے اظہار کے لیے مؤثر ذریعہ بنایا، اور ان کی شاعری آج بھی فکری روشنی فراہم کرتی ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ اقبالیات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق الاسلام نے کہا کہ مختلف ادبی جرائد و رسائل نے اقبال پر خصوصی شمارے شائع کیے جو ادبی تاریخ کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اقبال تقریبات کے دوران کیے گئے ابتدائی اور اہم اقدامات مستقبل کی تقریبات میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
پروفیسر ڈاکٹر رفیق الاسلام نے مزید کہا کہ اقبال نے جدید اسلامی یونیورسٹی کا تصور پیش کیا اور لڑکیوں کی تعلیم کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے بچوں کو گھریلو نظم و نسق کی عملی مہارتیں سکھانے کے لیے نصاب میں کورسز شامل کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے لڑکیوں کے لیے گھریلو نفسیات اور فرسٹ ایڈ ٹریننگ سے متعلق اختیاری کورسز متعارف کرانے کی سفارش بھی کی۔
نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد کے شعبہ فارسی اور شعبہ ترجمہ و ترجمانی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حمیر شہباز نے اقبال کی فارسی شاعری کے فکری اور ثقافتی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کے فارسی کلام میں انسانی وقار، خودی اور روحانی ارتقا کے گہرے تصورات موجود ہیں، جو مشرقی اور مغربی فکری روایتوں کے درمیان مکالمے کا پل بن سکتے ہیں۔
عسکری بینک کے کنٹری ڈائریکٹر فیصل غوری نے اقبال کے فلسفۂ عزم و کامیابی پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے اقبال کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی مقصد پہلے آسمان کی طرح دور دکھائی دیتا ہے، مگر حاصل ہونے کے بعد وہ پاؤں تلے زمین کی طرح قابلِ رسائی ہو جاتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور سفارش کی کہ کوئی لڑکی اس بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔
کانفرنس کے مختلف سیشنز میں ویمن یونیورسٹی مردان کی کرن قمر اور قومی زبان کے فروغ کے ادارے کے طارق بن آزاد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں وائس چانسلرز کا سیشن ہوا جس میں آٹھ جامعات نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں لاہور سے خصوصی طور پر آنے والے نبیل نے اقبال کا کلام اس کے تراجم کے ساتھ پیش کیا۔
ویمن یونیورسٹی مردان اور قومی زبان کے فروغ کے ادارے کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی قومی اقبال کانفرنس 2026 کو علامہ اقبالؒ کے فلسفے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے ہم آہنگ کرنے، نوجوان نسل میں فکری آزادی، قومی شعور اور تحقیق کے فروغ کی جانب ایک اہم علمی پیش رفت قرار دیا گیا۔
