اسلام آباد: تیسری اے پی جی سی بنگلہ دیش جونیئر امیچر گالف چیمپئن شپ 2026 میں نمایاں کارکردگی کے بعد پاکستان جونیئر گالف ٹیم منگل کو سری لنکا کے راستے لاہور پہنچی، جہاں پاکستان گالف فیڈریشن کے سینئر عہدیداروں اور نمائندوں نے نوجوان گالفرز کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔
کامیاب کھلاڑیوں کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں تحائف اور روایتی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ پاکستان گالف فیڈریشن کے حکام نے کھلاڑیوں سے ان کی کارکردگی اور بیرون ملک تجربے کے بارے میں گفتگو کی، جبکہ چیمپئن شپ ٹائٹل جیتنے والے قومی گالفرز کے انٹرویوز بھی ریکارڈ کیے گئے۔
پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں بالخصوص گرلز کیٹیگریز میں شاندار برتری دکھائی۔ انڈس گالف کلب اٹک سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت گالفر جنت عامر جامی نے غیر معمولی عزم اور تسلسل کے ساتھ گرلز انڈر 15 چیمپئن شپ ٹائٹل اپنے نام کیا۔ لاہور جمخانہ کی نبیہہ نفیس نے گرلز انڈر 19 کیٹیگری میں مضبوط کارکردگی پیش کرتے ہوئے پہلی پوزیشن اور چیمپئن شپ ٹائٹل حاصل کیا، جبکہ اسی کیٹیگری میں پاکستان کی اریبہ رضوان رنر اپ رہیں، یوں پاکستان نے ٹاپ دو پوزیشنز اپنے نام کیں۔
بوائز ڈویژنز میں بھی نوجوان گالفرز کی کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔ انڈر 15 کھلاڑی ٹاپ فائیو میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، جبکہ انڈر 19 گالفرز نے ٹاپ ٹین میں پوزیشنز حاصل کیں۔
پاکستان گالف فیڈریشن کے مطابق یہ کامیابی جنوری 2026 میں شروع کیے گئے پی جی ایف جونیئر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ پی جی ایف منیجر ملک کامران کی سربراہی میں جاری اس پروگرام کا مقصد ملک بھر سے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی تلاش، منظم تربیت کی فراہمی اور یکساں مسابقتی مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ مستقبل کے لیے مضبوط ٹیلنٹ پائپ لائن تیار کی جا سکے۔ ملک کامران پی جی اے آف آسٹریلیا سے گیم ڈیولپمنٹ اور ہائی پرفارمنس سرٹیفکیشن رکھتے ہیں۔
اس پروگرام کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی، جب ورلڈ گالف گورننگ باڈی دی آر اینڈ اے نے پی جی ایف کو اپنے گلوبل الائنس بیسٹ پریکٹسز ایکسچینج میں یہ ماڈل پیش کرنے کی دعوت دی۔ بنگلہ دیش گالف فیڈریشن کی دعوت پر بھیجا گیا قومی جونیئر دستہ اسی اقدام کی عملی توسیع ثابت ہوا، جس نے گراس روٹس سطح پر منظم کوششوں کو فوری اور نمایاں کامیابیوں میں تبدیل کیا۔
قومی جونیئر اسکواڈ میں جنت عامر جامی (انڈس گالف کلب، اٹک)، نبیہہ نفیس (لاہور جمخانہ)، اریبہ رضوان، وریشہ شاہد ملک (اسلام آباد کلب)، دعا فرید راؤ (پی اے ایف رسالپور)، محمد موسیٰ عادل وڑائچ (پشاور گالف کلب)، بہزاد مرتضیٰ (کراچی گالف کلب)، مصطفیٰ زبیر (مارگلہ گرینز اسلام آباد) اور محمد بارق ایوب (پی اے ایف اسلام آباد) شامل تھے۔
پاکستان گالف فیڈریشن نے کھلاڑیوں، ان کے والدین، ٹیم منیجر تہمیہ علی کی انتظامی قیادت اور بنگلہ دیش گالف فیڈریشن کی گرمجوش میزبانی کو سراہا۔ فیڈریشن کے مطابق فوری پوڈیم کامیابیوں کے علاوہ اس دورے کا بنیادی مقصد نوجوان گالفرز کو مسابقتی دباؤ اور مختلف بین الاقوامی پلیئنگ کنڈیشنز سے روشناس کرانا تھا۔
فیڈریشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک بھر میں جونیئر گالف کو مزید مضبوط بنانے کے لیے منظم تربیت اور بین الاقوامی ایکسپوژر کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
