ایشین گیمز میں ٹینس ٹیم کی ناکامی، پاکستان کے نظام پر سوالات مزید گہرے

newsdesk
12 Min Read
20ویں ایشین گیمز ایچی۔ناگویا 2026 میں پاکستان ٹینس ٹیم ایک جیت اور 9 شکستوں کے ریکارڈ کے ساتھ باہر ہوئی۔

اسلام آباد: 20ویں ایشین گیمز ایچی۔ناگویا 2026 میں پاکستان کی ٹینس مہم انتہائی مایوس کن انداز میں ختم ہوئی، جس کے بعد کھیل کی سمت، کھلاڑیوں کی تیاری، انتخابی پالیسیوں اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پاکستان نے سنگلز، ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز میں مجموعی طور پر 10 میچ کھیلے۔ حتمی ریکارڈ ایک جیت اور 9 شکستوں پر مشتمل رہا۔ کامیابی کی شرح صرف 10 فیصد رہی، پاکستان نے صرف 2 سیٹ جیتے جبکہ 18 سیٹ ہارے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ رہا کہ پاکستان اپنی 9 شکستوں میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکا۔

پاکستان کی واحد کامیابی مینز ڈبلز میں آئی، جہاں عقیل خان اور محمد شعیب نے منگولیا کے مندخ دوا داش اور سونوم پنتساگ انخ جارگل کو 6-2، 6-0 سے شکست دی۔ تاہم اگلے ہی راؤنڈ میں یہ جوڑی چائنیز تائپے کے چن جوئی ہو اور یو ہسیو ہسو کے خلاف صرف 46 منٹ میں 6-3، 6-2 سے ہار گئی۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ہر کھلاڑی یا جوڑی شکست سے دوچار ہوئی۔

ویمنز سنگلز میں اوشنا سہیل پہلے راؤنڈ میں قازقستان کی یولیا پوتنتسیوا کے ہاتھوں 41 منٹ میں 6-1، 6-0 سے ہار گئیں۔ ماہین آفتاب قریشی کو تھائی لینڈ کی پچارن چیپچانڈیج نے پہلے راؤنڈ میں 53 منٹ کے اندر 6-1، 6-1 سے شکست دی۔ مینز سنگلز میں مزمل مرتضیٰ کو اردن کے زید المشنی نے ایک گھنٹہ پانچ منٹ کے مقابلے میں 6-3، 6-2 سے ہرایا۔

مکسڈ ڈبلز میں اوشنا سہیل اور عقیل خان کی جوڑی قازقستان کے خلاف پہلے راؤنڈ میں 6-2، 6-1 سے شکست کھا گئی۔ اسی ایونٹ میں ماہین آفتاب قریشی اور اعصام الحق قریشی کو قازقستان کے خلاف پہلے راؤنڈ میں 6-3، 7-5 سے شکست ہوئی۔

مینز ڈبلز میں اعصام الحق قریشی اور مزمل مرتضیٰ کی جوڑی جنوبی کوریا کے خلاف پہلے راؤنڈ میں ایک گھنٹہ 50 منٹ کے میچ کے بعد 7-5، 6-4 سے ہار گئی۔ ویمنز ڈبلز میں ماہین آفتاب قریشی اور اوشنا سہیل کو منگولیا نے 48 منٹ میں 6-1، 6-0 سے شکست دی۔ محمد شعیب مینز سنگلز کے دوسرے راؤنڈ میں انڈونیشیا کے ایم رفقی فتریادی کے خلاف ایک گھنٹہ 8 منٹ میں 6-4، 6-4 سے ہارے، جس کے بعد وہ عقیل خان کے ساتھ چائنیز تائپے کے خلاف ڈبلز کے دوسرے راؤنڈ میں 3-6، 2-6 سے شکست کا شکار ہوئے۔

اعداد و شمار پاکستان کے لیے سخت پیغام رکھتے ہیں۔ 9 شکستوں میں پاکستان نے 18 سیٹ ہارے اور ایک بھی سیٹ نہیں جیتا۔ ان 18 ہارے ہوئے سیٹس میں 5 سیٹ 6-1 سے جبکہ 2 سیٹ 6-0 سے ختم ہوئے۔ یعنی 7 سیٹس ایسے تھے جن میں پاکستانی کھلاڑی یا جوڑی صرف ایک گیم جیت سکی یا ایک بھی گیم نہ جیت پائی۔

ایشین گیمز کا یہ ریکارڈ اس لیے بھی زیادہ سنگین دکھائی دیتا ہے کہ اس سے چند ہی روز پہلے پاکستان ڈیوس کپ ورلڈ گروپ ٹو ٹائی میں تیونس کے خلاف 3-0 سے شکست کھا چکا تھا۔ اس مقابلے میں محمد شعیب کو عزیز دوگاز نے 55 منٹ میں 6-2، 6-3 سے ہرایا، مزمل مرتضیٰ کو معز ایچارگی نے 56 منٹ میں 6-1، 6-1 سے شکست دی، جبکہ محمد عابد علی خان اکبر اور مرتضیٰ کی ڈبلز جوڑی 6-3، 6-3 سے ہار گئی۔ تیونس کے 3-0 سے ٹائی جیتنے کے بعد ریورس سنگلز نہیں کھیلے گئے۔

ڈیوس کپ اور ایشین گیمز کے نتائج کو ملا کر دیکھا جائے تو بحث مزید تیز ہو گئی ہے کہ آیا پاکستان مینز ٹینس میں ایسے نوجوان کھلاڑی تیار کر رہا ہے جو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ اس بحث کے مرکز میں سینئر کھلاڑی اعصام الحق قریشی اور عقیل خان کی مسلسل موجودگی بھی ہے۔ دونوں نے پاکستان ٹینس کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، مگر موجودہ سوال یہ ہے کہ قومی پروگرام کب تک اسی نسل پر انحصار کرتا رہے گا اور مضبوط متبادل کب تیار ہوگا۔

عقیل خان 1980 میں پیدا ہوئے اور 2026 ایشین گیمز کے دوران ان کی عمر 46 سال تھی۔ اعصام الحق قریشی بھی 1980 میں پیدا ہوئے اور وہ بھی 46 برس کے تھے۔ اعصام نے نومبر 2025 میں افتتاحی اے ٹی پی چیلنجر پاکستان کے موقع پر پروفیشنل ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کیا تھا، جسے پی ٹی ایف نے ایک دور کا اختتام قرار دیا تھا۔ تاہم ایک سال سے بھی کم عرصے بعد وہ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے واپس آئے۔

اعصام نے ایشین گیمز سے قبل میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ تیونس کے خلاف ڈیوس کپ ٹائی کھیلنے کے لیے فٹ نہیں تھے، مگر اس کے فوراً بعد انہوں نے خود کو فٹ قرار دیتے ہوئے مینز ڈبلز میں شرکت کی تصدیق کی، ساتھ ہی وہ پی ٹی ایف صدر کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے تھے۔ اسی فیصلے نے فیڈریشن کی قیادت اور قومی ٹیم میں بطور کھلاڑی شرکت کے درمیان حد بندی پر سوالات کو جنم دیا۔

اعصام الحق قریشی فروری 2024 میں ایک متنازع ووٹ کے ساتھ چار سالہ مدت کے لیے پی ٹی ایف صدر منتخب ہوئے تھے۔ فیڈریشن کی جانب سے ایشین گیمز 2026 کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں اعصام، عقیل، مزمل مرتضیٰ، محمد شعیب، اوشنا سہیل اور ماہین آفتاب قریشی شامل تھے۔ تشویش صرف یہ نہیں کہ سینئر کھلاڑی منتخب ہوئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر بڑے بین الاقوامی موقع کو عمر رسیدہ تجربہ کار کھلاڑیوں کے کیریئر کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے یا نوجوان کھلاڑیوں کو بڑے مقابلوں کا حقیقی تجربہ دیا جائے۔

اعصام کے ایشین گیمز نتائج میں مزمل مرتضیٰ کے ساتھ جنوبی کوریا کے خلاف مینز ڈبلز میں 7-5، 6-4 کی شکست اور ماہین آفتاب قریشی کے ساتھ قازقستان کے خلاف مکسڈ ڈبلز میں شکست شامل رہی۔ یہ نتائج یہ ثابت نہیں کرتے کہ اعصام طبی طور پر غیر فٹ تھے، تاہم یہ انتخاب، فٹنس، مسابقتی تیاری، عمر اور ایک ایسے فیڈریشن صدر کے کردار پر عوامی بحث کے لیے بنیاد ضرور فراہم کرتے ہیں جو خود بھی قومی ٹیم کا فعال کھلاڑی ہو۔

اسی نوعیت کی بحث عقیل خان کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی ڈیوس کپ تاریخ میں ان کی طویل خدمات اور کردار واضح ہیں، مگر بڑے ایونٹس میں ان کے مسلسل انتخاب سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر ذمہ داری سنبھالنے کے کافی مواقع مل رہے ہیں یا نہیں۔

پاکستان ویمنز ٹینس کے نتائج بھی حوصلہ افزا ثابت نہ ہوئے۔ اوشنا سہیل ویمنز سنگلز، ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز تینوں میں آگے نہ بڑھ سکیں۔ سوانحی ریکارڈ کے مطابق اوشنا سہیل، اعصام الحق قریشی کی کزن ہیں اور وہ پاکستان کے 6 رکنی ایشین گیمز ٹینس دستے کا حصہ تھیں۔ یہ خاندانی تعلق بذات خود انتخاب کو غلط ثابت نہیں کرتا، تاہم تینوں ایونٹس میں پہلے راؤنڈ سے اخراج کے بعد انتخابی عمل اور معیار پر سوال اٹھنا قابل فہم ہے۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ٹینس کی گراوٹ کو صرف انفرادی کھلاڑیوں سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مسابقتی نظام بنانا بالآخر فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔ ایک صحت مند قومی پروگرام کو مسلسل ایسے کھلاڑی پیدا کرنے چاہییں جو موجودہ اسٹارز کی جگہ لے سکیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کو باقاعدہ بین الاقوامی ٹورنامنٹس، منظم تربیتی کیمپس، تجربہ کار کوچنگ، جسمانی تیاری اور آئی ٹی ایف سرکٹ پر کھیلنے کے لیے مناسب مالی معاونت درکار ہوتی ہے۔ اس راستے کے بغیر کوئی بھی ملک برسوں تک ایک ہی محدود گروہ پر انحصار کرتا رہتا ہے اور حقیقی جانشین نسل تیار نہیں ہو پاتی۔

تیاری کے معیار پر بھی وسیع سوالات موجود ہیں۔ پاکستان کی ماضی کی کامیاب ٹینس نسلیں زیادہ مقابلوں، تربیتی کیمپس اور مسلسل بین الاقوامی نمائش سے جڑی رہی ہیں۔ آج ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا عملی تیاری کے بجائے اعلانات، تصاویر اور سوشل میڈیا تشہیر پر زیادہ زور تو نہیں دیا جا رہا۔

ایشین گیمز کے موجودہ اعداد و شمار ایک مشکل مگر ضروری بحث کا تقاضا کرتے ہیں: 10 میچ، ایک کامیابی، 9 شکستیں، 2 سیٹ جیتے، 18 سیٹ ہارے، 9 شکستوں میں ایک بھی سیٹ نہیں جیتا، 5 سیٹ 6-1 سے اور 2 سیٹ 6-0 سے ہارے۔ یہ محض ایک خراب ٹورنامنٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے۔ اس کی سنگینی اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان نے پہلے تیونس کے خلاف ڈیوس کپ میں 3-0 سے شکست کھائی اور پھر ایشین گیمز میں 10 میں سے صرف ایک میچ جیتا۔

اس صورتحال کا جواب صرف شرکت کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنے سے نہیں مل سکتا۔ پاکستان ٹینس کو واضح پلیئر ڈویلپمنٹ حکمت عملی، شفاف انتخابی معیار، ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے باقاعدہ بین الاقوامی مقابلے اور اس نسل کے بعد کی سنجیدہ منصوبہ بندی درکار ہے جو کئی دہائیوں سے ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔ پی ٹی ایف قیادت بارہا کھلاڑیوں کی ترقی اور پاکستان ٹینس کو آگے لے جانے کی بات کرتی رہی ہے۔ اعصام نے بھی 2024 میں صدر منتخب ہونے کے بعد کہا تھا کہ وہ کھلاڑیوں، کوچز اور ٹرینرز کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان ٹینس کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔ مگر زمینی حقائق اعلانات سے مختلف دکھائی دیتے ہیں اور ایشین گیمز کے نتائج اب اس دعوے کا قابل پیمائش امتحان بن چکے ہیں۔

پاکستان ٹینس کے لیے یہ موقع محض ایک اور فوٹو سیشن کا نہیں بلکہ سمت درست کرنے کا ہونا چاہیے۔ ملک کو ایسا نظام چاہیے جو اگلی نسل کو ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار کرے، نہ کہ ایسا ڈھانچا جو بار بار پچھلی نسل کی طرف اس لیے لوٹے کہ نئی نسل کو مناسب طور پر تیار ہی نہیں کیا گیا۔ ایشین گیمز 2026 سے اخراج انتخاب، تیاری، پلیئر ڈویلپمنٹ، بین الاقوامی نمائش اور گورننس کے سنجیدہ جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کا بڑا مسئلہ صرف میچ ہارنا نہیں ہوگا، بلکہ ممکنہ کھلاڑیوں کی پوری نسل کو کھو دینا ہوگا۔

Share This Article