ون ڈے اسکواڈ سے باہر مگر نگاہیں ورلڈ کپ پر: معاذ صداقت کا جارحانہ سفر جاری

newsdesk
6 Min Read
معاذ صداقت نے سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مسلسل دو نصف سنچریاں اسکور کیں۔

اسلام آباد: پاکستان کے نوجوان جارح مزاج بائیں ہاتھ کے بلے باز معاذ صداقت کو انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف آنے والی ون ڈے انٹرنیشنل سہ فریقی سیریز کے لیے اسکواڈ میں جگہ نہیں مل سکی، تاہم 21 سالہ کرکٹر نے اپنی توجہ اگلے ورلڈ کپ پر مرکوز کر رکھی ہے۔

سری لنکا کے خلاف حال ہی میں ختم ہونے والی تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں معاذ نے بین الاقوامی سطح پر بھرپور تاثر چھوڑا۔ انہوں نے ابتدائی دو میچوں میں مسلسل نصف سنچریاں بنا کر پاکستان کو سیریز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کارکردگی صرف ذاتی سنگ میل تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کے زیادہ جارحانہ بیٹنگ انداز کی طرف بڑھتے رجحان کی بھی عکاس تھی، جس میں معاذ نمایاں کردار کے طور پر سامنے آئے۔

پہلے میچ میں انہوں نے 29 گیندوں پر 50 رنز بنائے اور کپتان صاحبزادہ فرحان کے ساتھ مل کر پاکستان کو کمزور پاور پلے کے بعد سنبھالا دیا۔ دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں معاذ نے سری لنکن بولرز پر کھل کر حملہ کیا اور 51 گیندوں پر 96 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں سات چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔ وہ اپنی پہلی بین الاقوامی سنچری کے قریب پہنچ کر رہ گئے۔

تاہم پاکستان کی نمائندگی میں ان کا یہ تسلسل فی الحال اگلے موقع کا منتظر رہے گا، کیونکہ انہیں ون ڈے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ وہ اس فارمیٹ میں چھ میچ کھیل چکے ہیں، جن میں رواں سال ان کا ڈیبیو بھی شامل ہے۔ معاذ نے بنگلہ دیش کے خلاف اپنے صرف دوسرے ون ڈے میں فوری اثر دکھاتے ہوئے 75 رنز بنائے اور بائیں ہاتھ کی اسپن بولنگ سے تین وکٹیں بھی حاصل کیں۔

بعد ازاں مئی، جون میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز میں مشکل پچز پر وہ اپنی فارم برقرار نہ رکھ سکے اور ان کے اسکور آٹھ، صفر اور 27 رہے۔ آئندہ سہ فریقی سیریز کے اسکواڈ سے ان کے اخراج کی وجوہات واضح نہیں ہیں۔ البتہ یہ وقفہ انہیں 2027 ورلڈ کپ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے کھیل پر مزید کام کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جمعرات کو جاری ایک ویڈیو انٹرویو میں معاذ صداقت نے کہا، "میرا ہدف ون ڈے ورلڈ کپ ہے اور میں اس کے لیے تیاری کر رہا ہوں۔ میرے پاس آنے والے دنوں میں 15 سے 20 روز کا وقت ہے، جسے میں ورلڈ کپ کے لیے خود پر کام کرنے کے لیے وقف کروں گا۔"

پشاور کی ٹیپ بال کرکٹ سے ابھر کر فرنچائز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں شہرت حاصل کرنے والے معاذ نے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی حلقوں میں اپنی ساکھ مضبوط کی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والے کیریبین پریمیئر لیگ سیزن میں بھی دو سنچریاں اسکور کیں۔

معاذ کے مطابق ان کی ترقی کی کنجی اپنی قدرتی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے میں ہے، نہ کہ کمزوریوں پر حد سے زیادہ توجہ دینے میں۔ انہوں نے کہا، "ٹریننگ میں میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی مضبوطیوں پر زیادہ سے زیادہ کام کروں اور کمزوریوں پر نسبتاً کم، کیونکہ اگر گیند میری رینج سے باہر ہو تو میں پھر بھی اسے ایک یا دو رنز کے لیے کھیل سکتا ہوں۔ لیکن اگر گیند میری رینج میں ہو تو میں آنکھیں بند کر کے بھی اسے چھکے کے لیے مار سکتا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا، "اگر آپ میری سی پی ایل اور بین الاقوامی اننگز دیکھیں تو میں شروع ہی سے مثبت ارادہ رکھتا ہوں۔ اگر گیند میری رینج میں آئے تو میں اسے نہیں چھوڑتا، اور جب گیند ذرا اِدھر اُدھر ہو تو اسٹرائیک روٹیٹ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔"

اپنی بیٹنگ پوزیشن کے بارے میں بھی معاذ کا مؤقف واضح ہے۔ اگرچہ وہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ بیٹنگ آرڈر میں کسی بھی جگہ کھیلنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کے مطابق وہ اننگز کا آغاز کرتے ہوئے سب سے زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں بطور اوپنر کھیلتے ہوئے سب سے زیادہ پُرسکون محسوس کرتا ہوں۔"

2027 ورلڈ کپ کے لیے پاکستان اسکواڈ میں جگہ حاصل کرنا معاذ کو اوپننگ پوزیشن کی دوڑ میں لا سکتا ہے، جہاں صائم ایوب، جن کی اوسط تقریباً 47 ہے، اور تجربہ کار فخر زمان بھی موجود ہیں۔

معاذ اس مقابلے کو رکاوٹ کے بجائے چیلنج سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "اگر مجھے نیچے کے نمبر پر بھی بیٹنگ کے لیے کہا گیا تو میں اتنی اچھی بیٹنگ کرنے کی کوشش کروں گا کہ ٹیم مینجمنٹ مجھے اوپر بھیجنے پر مجبور ہو جائے۔"

Share This Article