اسلام آباد، 9 اکتوبر 2026ء — وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت سید خالد مقبول صدیقی سے پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر اومر حسین اوبا نے وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت میں خیرسگالی ملاقات کی۔ ملاقات میں تعلیم، اعلیٰ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، STEAM تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ایتھوپیا کے سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایتھوپیا کے ساتھ دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان سفارتی تعلقات 1973ء میں قائم ہوئے، جبکہ 2022ء میں اسلام آباد میں ایتھوپیا کے سفارت خانے کا قیام دوطرفہ روابط کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
ملاقات میں تعلیم کے شعبے میں تعاون سے متعلق مجوزہ مفاہمت کی یادداشت کے مسودے پر بھی غور کیا گیا۔ یہ مسودہ دسمبر 2025ء میں سفارتی ذرائع سے ایتھوپیا کو بھجوایا گیا تھا۔ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کے لیے ایک منظم فریم ورک قائم کرنا ہے، جس کے تحت اعلیٰ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت، STEAM تعلیم، تعلیمی و تحقیقی اداروں کے روابط اور اکیڈمک تعاون کو فروغ دیا جا سکے گا۔
وفاقی وزیر نے ایتھوپیا کی جانب سے مسودے کی پیش رفت سے متعلق آگاہی کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان ایتھوپیا کی کسی بھی رائے، مشاہدات یا تجاویز پر غور کے لیے تیار ہے تاکہ باہمی اتفاقِ رائے سے متن کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو متعلقہ سفارتی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے مشترکہ سیمینارز، ورکشاپس، ویبینارز، مہمان لیکچرز، وزٹنگ اسکالرز، طلبہ کے باہمی روابط، ثقافتی تبادلوں، تحقیقی نمائشوں، اختراعی سرگرمیوں اور تعلیمی وسائل کے اشتراک کے امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان براہِ راست روابط، ان کے متعلقہ دائرہ کار اور قابلِ اطلاق طریقہ کار کے مطابق، فیکلٹی کے میل جول، تحقیقی اشتراک اور طلبہ کے لیے علمی مواقع میں اضافے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کو بھی باہمی تعاون کا اہم شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور ایتھوپیا کے متعلقہ اداروں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہنرمندی کے فروغ، قابلیت کے معیارات، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت اور ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھرتی ہوئی مہارتوں کی ضروریات اور لیبر مارکیٹ کے رجحانات سے متعلق معلومات کا تبادلہ تربیتی پروگراموں کو روزگار کے مواقع سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
ملاقات میں STEAM تعلیم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں تحقیق پر مبنی اور بین الشعبہ جاتی تدریس، تحقیقی سرگرمیوں، تعلیمی تجربات اور تدریسی وسائل کے تبادلے پر خاص توجہ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان تعلیمی ترقی اور جدت کے ان ابھرتے ہوئے شعبوں میں ایتھوپیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
سید خالد مقبول صدیقی نے تجویز دی کہ مفاہمت کی یادداشت کے مسودے پر ایتھوپیا کی آرا موصول ہونے کے بعد دونوں جانب سے فوکل پرسنز رابطہ کریں تاکہ باقی ماندہ امور کو حل کر کے باہمی طور پر قابلِ قبول متن تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کے بعد دونوں ممالک مناسب سفارتی ذرائع کے ذریعے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے اور اس پر دستخط کی جانب پیش رفت کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کو اپنے خوشگوار دوطرفہ تعلقات کو عملی تعلیمی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک کے طلبہ، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور ہنرمندی کے شعبے کے لیے ٹھوس مواقع پیدا ہوں۔
ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر اومر حسین اوبا نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا اور پاکستان اور ایتھوپیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی روابط میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان وسیع تر اشتراک کے امکانات کو نمایاں کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے تعلیم کے شعبے میں مجوزہ تعاون کے فریم ورک کو آگے بڑھانے اور ایسے عملی شعبوں کی نشاندہی پر اتفاق کیا جن سے پاکستان اور ایتھوپیا کے تعلیمی روابط اور عوامی سطح کے تعلقات مزید گہرے ہو سکیں۔
