اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے بجلی کے شعبے کو زیادہ مؤثر، مالی طور پر مضبوط اور سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنانے کے لیے جامع اصلاحات ضروری ہیں، تاہم صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی بنیادی ترجیح رہے گا۔
وزیر خزانہ نے فنانس ڈویژن میں پاور سیکٹر ریگولیٹری رجیم سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحاتی عمل کا جائزہ لیا گیا اور صنعت میں آنے والی بڑی تبدیلیوں، خصوصاً سولر پاور کے تیز استعمال اور بجلی کی طلب کے بدلتے ہوئے رجحانات پر غور کیا گیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجلی کا شعبہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اس لیے ایسا ریگولیٹری نظام درکار ہے جو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہو، سرمایہ کاری اور مسابقت کو سہارا دے، خدمات کے معیار کو بہتر بنائے اور صارفین کے مفاد کو سامنے رکھے۔
اجلاس میں پاور سیکٹر کو درپیش متعدد اہم چیلنجز کا جائزہ لیا گیا، جن میں موجودہ استعداد سے متعلق ذمہ داریاں، قومی گرڈ پر بجلی کی طلب میں تبدیلیاں، سروس کے معیار کے مسائل اور نئی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ ارکان نے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مضبوط تر مراعات اور حکومتی سبسڈیز کی فراہمی کے بہتر نظام کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مارکیٹ کا ڈھانچہ ایسا ہونا چاہیے جس سے بجلی کی کمپنیوں کو کارکردگی اور خدمات کا معیار بہتر بنانے کے لیے واضح تر ترغیبات ملیں۔ کمیٹی نے اصلاحاتی عمل کے حصے کے طور پر مسابقت بڑھانے اور نجی شعبے کی شمولیت میں اضافے پر بھی غور کیا۔
اجلاس میں ایک تجویز یہ بھی زیر غور آئی کہ بجلی کے نیٹ ورک اور سپلائی کے کاروبار کو زیادہ واضح طور پر الگ کیا جائے۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک آپریٹرز کی بنیادی توجہ بجلی کے نیٹ ورک کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال پر ہوگی، جبکہ مسابقتی سپلائی کمپنیاں مناسب ریگولیٹری نظام کے تحت کام کریں گی۔
کمیٹی نے ایک قابل پیش گوئی اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر بھی بات چیت کی۔ اس میں خطرات کی تقسیم کے واضح اصول، بہتر لائسنسنگ انتظامات اور ایسے ٹیرف طریقہ کار شامل ہوں گے جو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں اور ساتھ ہی صارفین کو غیر ضروری اخراجات سے محفوظ رکھیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد پاور سیکٹر کی مالی حالت بہتر بنانا، ضیاع اور غیر مؤثریت کو کم کرنا اور طویل مدتی نجی سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
اجلاس میں بجلی کی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے نئے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور دیگر ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی غور کیا کہ آیا ڈسٹری بیوشن کمپنیاں الگ اداروں یا اسپیشل پرپز وہیکلز کے ذریعے مناسب اضافی انفراسٹرکچر اور متعلقہ تجارتی سرگرمیاں اختیار کر سکتی ہیں۔
ان سرگرمیوں کا مقصد موجودہ سرکاری اثاثوں کا بہتر استعمال، اضافی آمدن کا حصول اور بالآخر صارفین کو فائدہ پہنچانا ہوگا۔ تاہم وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایسی تجارتی سرگرمیاں شفافیت، مناسب حفاظتی انتظامات اور واضح قواعد کے تحت ہی چلنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری انفراسٹرکچر سے حاصل ہونے والے مالی فوائد صارفین کے ساتھ مناسب طور پر شیئر ہونے چاہئیں اور یہ سرگرمیاں محض نگرانی کے بغیر آمدن کا اضافی ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔
کمیٹی نے حکومتی معاونت اور سبسڈیز کو زیادہ ہدفی اور مؤثر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا۔ ارکان نے زور دیا کہ اصلاحات کا مرکز مالی پائیداری، بجلی کی بہتر خدمات اور صارفین کے لیے قابل برداشت بجلی ہونا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مستقبل کا ریگولیٹری نظام اتنا لچکدار ہونا چاہیے کہ تقسیم شدہ بجلی کی پیداوار، بیٹری اسٹوریج اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے نئے رجحانات سے نمٹ سکے۔ ساتھ ہی یہ نظام قابل اعتماد بجلی کی فراہمی برقرار رکھے، مؤثر سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور نجی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرے۔
اجلاس کو ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے مجوزہ پروگرام، اس کے ٹرمز آف ریفرنس اور ٹیرف میتھڈالوجی پر کام کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کو ہدایت کی کہ وہ منظم اور مشاورتی طریقہ کار اختیار کرے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آرا کو سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ گروپ قابل عمل سفارشات تیار کرے جنہیں بعد ازاں اسٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے غور کے لیے پیش کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر اصلاحات کا عمل شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ اس کا جائزہ لے کر بہتری لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے اسٹیک ہولڈرز کی فعال شرکت پر بھی زور دیا، جبکہ یہ ہدایت دی کہ کام واضح ٹائم لائنز کے مطابق آگے بڑھے اور عملی سفارشات کی صورت میں نتیجہ دے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، فنانس ڈویژن کے سینئر حکام، متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
