جغرافیائی کشیدگی اور مہنگی توانائی عالمی ترقی کے لیے بڑا خطرہ قرار

newsdesk
4 Min Read
ACCA-IMA کے GECS سروے میں جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں اور لاگت کے دباؤ کو عالمی نمو کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

اسلام آباد، 3 نومبر 2026: ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (IMA) کے سروے کے مطابق جغرافیائی عدم استحکام، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور لاگت کے مسلسل دباؤ عالمی معاشی ترقی کے لیے اہم خطرات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

عالمی معاشی حالات سے متعلق سروے (GECS) کی 2026 کی تیسری سہ ماہی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایشیا پیسفک میں کاروباری سرگرمیوں میں مضبوطی اور نئے آرڈرز میں بہتری کے باوجود خطے میں کاروباری اعتماد کم ہوا ہے۔

سروے کے مطابق ایشیا پیسفک نیو آرڈرز انڈیکس مسلسل دوسری سہ ماہی میں بہتر ہوا اور سروے کی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ سرمایہ جاتی اخراجات اور روزگار کے اشاریے بھی مضبوط ہوئے اور اپنی تاریخی اوسط کی طرف بڑھے۔

تاہم اسی سہ ماہی کے دوران خطے کے اکاؤنٹنٹس کے اعتماد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے دوسری سہ ماہی میں ہونے والے اضافے کا تقریباً تین پانچواں حصہ واپس ہو گیا۔ اگرچہ اعتماد اب بھی اپنی طویل مدتی اوسط سے کچھ اوپر رہا، لیکن نئی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتوں کو اس کمی کی ممکنہ وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔

ایشیا پیسفک میں سروے میں شامل 24.1 فیصد فنانس پروفیشنلز نے جغرافیائی عدم استحکام کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 18.4 فیصد رہی۔ خطے میں ہنر اور مہارت کی کمی کے ساتھ ساتھ سپلائی چین میں رکاوٹوں کا ذکر بھی عالمی سطح کے مقابلے میں زیادہ کیا گیا۔

لاگت کا دباؤ بدستور بلند ہے۔ ایشیا پیسفک کے 62 فیصد جواب دہندگان نے تیسری سہ ماہی میں آپریٹنگ لاگت بڑھنے کی نشاندہی کی، جبکہ سروے کی طویل مدتی اوسط 52 فیصد ہے۔ اسی دوران 41 فیصد فنانس پروفیشنلز نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ تین ماہ میں ان کے ممالک میں شرح سود بڑھے گی۔ یہ شرح دوسری سہ ماہی میں 30 فیصد اور پہلی سہ ماہی میں 24 فیصد تھی۔

عالمی سطح پر تقریباً 70 فیصد اکاؤنٹنٹس نے آپریٹنگ لاگت میں اضافے کی اطلاع دی، جبکہ تقریباً نصف نے آئندہ تین ماہ میں شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی۔ دوسری سہ ماہی میں یہ شرح 42 فیصد تھی۔

ACCA کے چیف اکانومسٹ جوناتھن ایش ورتھ نے کہا کہ ایشیا پیسفک کے معاشی اشاریے حوصلہ افزا رہے ہیں اور خطہ عالمی مصنوعی ذہانت (AI) سرمایہ کاری کے رجحان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور طاقتور ال نینو موسمی اثرات کے متوقع نتائج ترقی کے لیے منفی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق AI سرمایہ کاری میں نمایاں سست روی بھی نمو پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

IMA کے سینئر ڈائریکٹر، یورپ آپریشنز اینڈ گلوبل اسپیشل پروجیکٹس، الین ملڈر نے کہا کہ عالمی معیشت متضاد سمتوں میں کھنچ رہی ہے؛ ایک طرف AI سرمایہ کاری نمو کو سہارا دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف توانائی کی بلند قیمتیں، افراط زر اور سرکاری بانڈز کی پیداوار بڑھتا ہوا دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔

سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباروں کو اضافی لاگت صارفین تک منتقل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس سے طلب کمزور ہو سکتی ہے اور بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

Share This Article