محسن نواز کا پاکستانی کھیلوں میں ذہنی مضبوطی کا نیا باب شروع کرنے کا عزم

newsdesk
4 Min Read
محسن نواز نے کھلاڑیوں کی نفسیاتی تیاری کو پاکستان کی کھیلوں میں کامیابی کا اہم ستون قرار دیا۔

اسلام آباد: پاکستان کے ممتاز ایف کلاس لانگ رینج شوٹر اور اسپورٹس سائیکالوجسٹ محسن نواز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک کے کھلاڑیوں کی ذہنی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مہارت وقف کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں میں کامیابی کے لیے درست ذہنی سمت کو پاکستان کی حکمت عملی کا بنیادی ستون بنایا جانا چاہیے۔

تمغۂ امتیاز اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے محسن نواز 2026 کے چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز میں پاکستان کے پہلے سرکاری اسپورٹس سائیکالوجسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی مضبوطی، جذباتی توازن اور کارکردگی میں بہتری کو قومی سطح پر کھیلوں کی تیاری کا لازمی حصہ بنانے کے حامی ہیں۔

محسن نواز کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، تاہم اس صلاحیت کو بڑے عالمی مقابلوں میں میڈلز تک پہنچانے کے لیے منظم ذہنی تیاری ضروری ہے۔ ان کے مجوزہ طریقہ کار میں دباؤ سے نمٹنے، ذہنی تناؤ اور اضطراب میں کمی، اہداف کے تعین، تصوراتی مشقوں اور ایسے تربیتی ماحول کی تیاری شامل ہے جہاں کھلاڑی پریکٹس کے دوران ہی مقابلے جیسی کیفیت کا تجربہ کر سکیں۔ اس عمل سے انہیں غیر مانوس ماحول میں بھی اطمینان، توجہ اور اعتماد برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محسن نواز نے کہا کہ مقابلے کے دباؤ کو ختم کرنے کی کوشش کے بجائے ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کو ایسے عملی طریقے سکھائے جائیں جن کے ذریعے وہ دباؤ کو سنبھال سکیں اور اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف کلاس لانگ رینج شوٹنگ میں ان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ارتکاز اور جذباتی کنٹرول کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

بین الاقوامی کھیلوں میں ان کی حیثیت کو مزید تقویت ان کے نمایاں عالمی کرداروں سے ملتی ہے۔ محسن نواز عالمی سطح کے اداروں Kahles Optics اور Peregrine Bullets کے آفیشل برانڈ ایمبیسیڈر ہیں، جبکہ HawkSmith Gun & Sporting Club سے بھی ان کی اہم وابستگی ہے۔

اسی سوچ کے تحت محسن نواز نے HawkSmith کے ساتھ تیار کیے جا رہے ایک ایسے منصوبے کو قومی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ معیار کی شوٹنگ اور کھیلوں کی سہولیات متعارف کرانا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ملک کے نوجوانوں میں ایک منظم اور پیشہ ورانہ اسپورٹس لائف اسٹائل کو فروغ دینے، جدید انفراسٹرکچر فراہم کرنے اور آئندہ نسل کے لیے ایتھلیٹک ڈویلپمنٹ کے راستے ہموار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

محسن نواز نے ملک بھر کی اسپورٹس فیڈریشنز اور کوچز پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی مقابلوں سے بہت پہلے نفسیاتی جائزوں، کھلاڑیوں کی پروفائلنگ اور ٹیم میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے پروگرامز کو اپنی تیاری کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق ذہنی تیاری کسی ایک مرحلے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ کھلاڑی کی مسلسل تربیت کا لازمی جزو بننی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ منظم ذہنی کنڈیشننگ کے ذریعے پاکستانی کھلاڑیوں کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ بین الاقوامی میدانوں میں مضبوط اعصاب، مستقل مزاجی اور نتائج پر مرکوز سوچ کے ساتھ حصہ لیں۔

Share This Article