پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو 20 ستمبر کو اسلام آباد کا رخ کریں گے، لیاقت بلوچ

newsdesk
5 Min Read
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا۔

اسلام آباد، 15 ستمبر 2026ء — نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پیٹرول پر وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ 100 روپے کا ریلیف جماعتِ اسلامی کو قبول نہیں، کیونکہ عوام کو حقیقی فائدہ صرف پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے سے مل سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ’’بھتہ نما‘‘ پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو 20 ستمبر کو ملک بھر سے عوام اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

جماعتِ اسلامی کی مذاکراتی ٹیم اور حکومتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور اسلام آباد میں ہوا۔ جماعتِ اسلامی کے وفد کی قیادت لیاقت بلوچ نے کی، جبکہ ٹیم میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان اور ضیاءالدین انصاری شامل تھے۔ حکومت کی طرف سے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ توانائی اویس خان لغاری، وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے حکام کے ہمراہ بریفنگ دی۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں لیاقت بلوچ نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور آئی پی پیز کے معاملے پر وزیراعظم کی قائم کردہ ٹاسک فورسز نے تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کے مطابق وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری نے آئی پی پیز سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔

لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی وزیراعظم کے 100 روپے ریلیف کے اعلان کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعلان کسی بھی طور پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا بدل نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی حکام کی تمام بریفنگز سنی جا رہی ہیں، مگر جماعتِ اسلامی کے احتجاج اور 20 ستمبر کی کال کا بنیادی اور واحد مقصد پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ ان کے بقول حکومت عوامی دباؤ کا رخ بدلنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ عوام کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے گی۔

نائب امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ لیوی اور ٹیکسز کی مد میں عوام پر 130 روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے، اگر یہ بوجھ کم کر دیا جائے تو عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکتا ہے۔ انہوں نے حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ اپنی عیاشیاں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شوگر مافیا میں بھی انہی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جنہیں مسلسل نوازا جا رہا ہے۔

لیاقت بلوچ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا۔ ان کے مطابق ریلیف کے نمائشی اقدامات عوام کے کسی کام کے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں جمع ہونے والی رقم بھی اصل مقصد پر خرچ کرنے کے بجائے ہڑپ کر لی گئی۔

آئی پی پیز سے متعلق بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لیاقت بلوچ نے بتایا کہ وفاقی وزیر اویس لغاری اور جنرل ظفر نے آگاہ کیا کہ 54 آئی پی پیز کے معاملات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جبکہ 36 آئی پی پیز کو بھی حتمی مرحلے میں لانے کی بات کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے 4,600 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنی بڑی بچت ہوئی ہے تو اس کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچایا گیا؟

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج کی بریفنگ سے ثابت ہو رہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے پیش کردہ اعداد و شمار حکومتی دستاویزات ہی سے درست ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ جب تک ’’بھتہ نما‘‘ پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاتی، حکومت کی جان نہیں چھوٹے گی اور ملک بھر سے عوام اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ جماعتِ اسلامی نے بدترین لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا۔

Share This Article