اسلام آباد، 7 اکتوبر: انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے کہا ہے کہ غزہ کا تنازع صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی اداروں کی ساکھ، علاقائی سلامتی، عالمی رائے عامہ اور موجودہ عالمی نظام سے متعلق تصورات تک پھیل چکے ہیں۔
”Beyond the Battlefield: What Has Gaza Changed?“ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں مقررین نے کہا کہ غزہ کی صورتحال نے بین الاقوامی قانون کے اطلاق میں پائے جانے والے تضادات کو آشکار کیا، روایتی جغرافیائی و سیاسی صف بندیوں کو چیلنج کیا اور عالمی نظام کے بارے میں ایک وسیع تر ازسرِنو جائزے کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق اس کے فلسطین، پاکستان، مسلم دنیا اور عالمی سیاست کے لیے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سیمینار سے ڈاکٹر خرم اقبال، ایسوسی ایٹ پروفیسر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز، قائداعظم یونیورسٹی؛ بریگیڈیئر (ر) سعید نذیر، دفاعی و سلامتی امور کے تجزیہ کار؛ ڈاکٹر سلمیٰ ملک، ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز، قائداعظم یونیورسٹی؛ اور انسانی حقوق کے کارکن ڈاکٹر زرنی نے خطاب کیا۔ نشست کی صدارت آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمٰن نے کی جبکہ آئی پی ایس کے وائس چیئرمین سفیر (ر) سید ابرار حسین بھی شریک تھے۔
افتتاحی کلمات میں سفیر (ر) ابرار حسین نے کہا کہ غزہ تنازع کے نتائج کو اس مخصوص علاقے کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے تبدیلی کے تین بڑے پہلوؤں کی نشاندہی کی: بین الاقوامی قانون اور اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی ساکھ، علاقائی اور عالمی جغرافیائی سیاسی حرکیات میں تبدیلی، اور مسئلہ فلسطین کی ازسرِنو مرکزی حیثیت۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق نے خاص طور پر گلوبل ساؤتھ میں عدم اعتماد کو بڑھایا ہے۔
ڈاکٹر خرم اقبال نے غزہ تنازع کے نتیجے میں سامنے آنے والی تین اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق مغربی دارالحکومتوں، خصوصاً امریکا میں اسرائیل کے لیے طویل عرصے سے موجود دو جماعتی سیاسی حمایت بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث نمایاں دباؤ میں آئی ہے۔ انہوں نے خطے پر اس تنازع کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابراہام معاہدوں سے منسلک عمل متاثر ہوا ہے اور مغربی ایشیا و جنوبی ایشیا کی سلامتی کی حرکیات کے درمیان نئے روابط ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے لیے اسرائیل بھارت بڑھتے ہوئے تعلقات کے مضمرات پر بھی بات کی، خصوصاً ایسے وقت میں جب علاقائی سلامتی کی صف بندیاں تبدیل ہو رہی ہیں۔
بریگیڈیئر (ر) سعید نذیر نے غزہ کی صورتحال کا انسانی، عسکری، علاقائی اور بین الاقوامی زاویوں سے جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے غزہ کی تباہی، تعمیرِ نو سے متعلق سیاسی و سلامتی چیلنجز، فلسطینی سیاسی تقسیم اور امن عمل کے گرد موجود مسلسل غیر یقینی صورتحال پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق اس تنازع نے اسرائیل کی عسکری ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور کو توڑا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ سیاسی اور سفارتی مقاصد کی پشت پناہی کے بغیر عسکری طاقت کی حدود سامنے آ جاتی ہیں۔ علاقائی سطح پر انہوں نے بدلتی ہوئی ڈیٹرنس حرکیات، توانائی کی سلامتی، اہم اسٹریٹجک گزرگاہوں اور علاقائی سلامتی انتظامات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے غزہ تنازع کے قواعد پر مبنی عالمی نظام پر اثرات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران نے بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق کو بے نقاب کیا ہے اور عالمی اداروں کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کا تنازع عالمی نظام کا ایک وسیع تر امتحان بن چکا ہے، جبکہ جنگ بندیوں اور انسانی اصولوں کی بار بار خلاف ورزیوں نے موجودہ میکانزم کی ناکافی حیثیت کو ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے اس تنازع کے اثرات پر بھی بات کی، خصوصاً طرزِ حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی فورمز پر سفارتی کردار کے حوالے سے۔
آن لائن خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زرنی نے کہا کہ غزہ نے بین الاقوامی سیاسی نظام کے وسیع تر ازسرِنو جائزے کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق اس تنازع نے بین الاقوامی قانون کے اطلاق میں تضادات کو نمایاں کیا اور فلسطین سے متعلق عالمی تصورات کی تشکیل میں سول سوسائٹی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے تجربے نے اسرائیل کے عسکری اور سیاسی تاثر سے متعلق قائم شدہ خیالات کو چیلنج کیا ہے اور موجودہ بین الاقوامی تعلقات میں نوآبادیاتی ورثے کے مسلسل اثرات کے بارے میں آگاہی بڑھائی ہے۔
اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے کہا کہ پیچیدہ بین الاقوامی مسائل کو شارٹ کٹ کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کے لیے مسلسل اور مرحلہ وار کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ تنازع عالمی نظام میں ہونے والی وسیع تر تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے، اس لیے موجودہ حالات کو ان کے تاریخی اور بین الاقوامی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے علاقائی اور عالمی چیلنجز کے باہمی تعلق اور فوری حل کے بجائے طویل المدتی سوچ کی ضرورت پر زور دیا۔
