فخر زمان کی نظریں 2027 ورلڈ کپ پر، پاکستان کی ٹرافی خشک سالی ختم کرنے کا عزم

newsdesk
8 Min Read
فخر زمان کے مطابق قومی ٹیم 2027 ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھ کر ون ڈے سہ ملکی سیریز میں اتر رہی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان کے جارح مزاج بائیں ہاتھ کے بلے باز فخر زمان بڑے ٹورنامنٹ جیتنے کا مزہ بھی جانتے ہیں اور اس خوشی کے لیے برسوں انتظار کی کسک بھی محسوس کر چکے ہیں۔

مردان سے تعلق رکھنے والے فخر زمان نے 2017 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں وہ سنچری بنائی تھی جو پاکستان کرکٹ کی یادگار ترین اننگز میں شمار ہوتی ہے۔ اسی فتح کے ساتھ پاکستان نے اپنا آخری عالمی ٹائٹل جیتا تھا۔ اس وقت فخر 27 برس کے تھے، جبکہ 2027 ورلڈ کپ تک وہ 37 سال کے ہو چکے ہوں گے۔

جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں شیڈول 2027 ورلڈ کپ ممکنہ طور پر فخر زمان کے لیے پاکستان کو آئی سی سی ٹائٹل کی طویل محرومی سے نکالنے کا آخری موقع ہوگا۔ یہی بات ان کے ہم عصر کھلاڑیوں، جن میں بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی جیسے نام شامل ہیں، کے لیے بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔

2017 کی کامیابی کے بعد یہی نسل شہرت کی بلندیوں پر پہنچی۔ پاکستان نے 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل اور 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فائنل تک رسائی حاصل کی، مگر 2022 کے بعد آنے والی گراوٹ کا سلسلہ اب تک مکمل طور پر تھم نہیں سکا۔ اس دوران آئی سی سی ایونٹس میں مایوسیاں بھی پاکستان کے حصے میں آئیں۔

گزشتہ ایک سال کے دوران دوطرفہ سیریز میں کامیابیوں کی بدولت پاکستان ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں چھٹے اور ون ڈے رینکنگ میں پانچویں نمبر تک پہنچا ہے، تاہم ٹیم پر اب بھی یہ دباؤ موجود ہے کہ وہ بڑے ایونٹس میں اپنی اصل صلاحیت دکھائے۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جمعہ کو پاکستان کے تربیتی سیشن کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فخر زمان نے اعتراف کیا کہ قومی ٹیم کو بڑے ٹورنامنٹ جیتے کافی وقت گزر چکا ہے۔ یہ سیشن سری لنکا کے خلاف پاکستان کی ون ڈے سہ ملکی سیریز کے افتتاحی میچ سے قبل ہوا۔

فخر زمان نے کہا، “ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیتے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ ہم فائنل تک بھی پہنچے ہیں اور سیمی فائنل بھی کھیلے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ ٹرافی جیتنے پر ایک قوم کے طور پر جو خوشی ملتی ہے، وہ صرف فائنل یا سیمی فائنل کھیلنے سے نہیں ملتی، چاہے آپ کتنی ہی بار وہاں تک پہنچ جائیں۔”

انہوں نے بتایا کہ کھلاڑیوں نے اس معاملے پر سنجیدگی سے بات چیت کی ہے۔ فخر کے مطابق، “ہم نے بیٹھ کر اس پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور بہت سے کھلاڑی اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ان شاء اللہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے اور اللہ کی مدد کی بھی امید ہے۔ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ یہ ٹرافی پاکستان واپس آئے۔”

پاکستان کا 2027 ورلڈ کپ کی جانب سفر ون ڈے سہ ملکی سیریز سے شروع ہو رہا ہے، جس میں قومی ٹیم کا مقابلہ سری لنکا اور 2019 ورلڈ کپ کی فاتح انگلینڈ سے ہوگا۔ سیریز ڈبل راؤنڈ روبن فارمیٹ کے تحت کھیلی جائے گی۔

سیریز کے پہلے تین میچ راولپنڈی میں ہوں گے، جبکہ باقی لیگ میچز اور فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ فائنل 31 اکتوبر کو شیڈول ہے۔

فخر زمان کے مطابق پاکستان اس سیریز میں 2027 ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھ کر اترے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ پچز بھی ایسی تیار کی جا رہی ہیں جو جنوبی افریقہ میں متوقع کنڈیشنز سے مماثلت رکھتی ہوں، جہاں پاکستان کو ورلڈ کپ کے دوران اپنے زیادہ تر میچ کھیلنے ہوں گے۔

پاکستانی اسکواڈ کا توازن بھی اسی سمت اشارہ کرتا ہے، جس میں چار بولرز، چھ بیٹرز اور ایک آل راؤنڈر کا کمبی نیشن نظر آتا ہے۔ یہ امتزاج عمومی طور پر جنوبی افریقی حالات کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

فخر زمان نے کہا، “2027 ورلڈ کپ کے لیے کمبی نیشن بہت اچھا دکھائی دے رہا ہے۔ آپ وکٹوں کی تیاری میں بھی یہ چیز دیکھ سکتے ہیں۔ سب کے ذہن میں ورلڈ کپ ہے اور ٹیم کمبی نیشن بہترین لگ رہا ہے۔”

سینئر بلے باز کا خیال ہے کہ صدر ٹرافی میں شرکت کے بعد ون ڈے کیمپ میں آنے والے کھلاڑیوں کو میچ پریکٹس کا فائدہ ہوگا۔ صدر ٹرافی ڈپارٹمنٹل ٹیموں پر مشتمل فرسٹ کلاس ڈومیسٹک ٹورنامنٹ ہے۔ فخر کے مطابق اسکواڈ کے مجموعی بین الاقوامی تجربے کے ساتھ یہ فرسٹ کلاس کرکٹ قومی ٹیم کے لیے مثبت پہلو ہے۔

انہوں نے کہا، “سب سے اچھی بات یہ ہے کہ تمام کھلاڑی فرسٹ کلاس سیزن کھیل کر آ رہے ہیں۔ وہ ردھم میں ہیں اور طویل اسپیلز کی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔ جب آپ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں تو 50 اوورز کی کرکٹ اتنی لمبی محسوس نہیں ہوتی، لیکن اگر آپ مسلسل ٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہیں تو 50 اوورز کا فارمیٹ کچھ لمبا محسوس ہو سکتا ہے۔”

قریباً ایک دہائی سے آئی سی سی ٹرافی نہ جیتنے کے باوجود فخر زمان نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ 92 ون ڈے میچز میں ان کی اوسط 45 سے زائد ہے اور وہ 3,861 رنز بنا چکے ہیں۔ سہ ملکی سیریز میں پاکستان کو کم از کم چار میچز کھیلنے ہیں، اس لیے فخر کے پاس 4,000 ون ڈے رنز مکمل کرنے کا موقع بھی موجود ہوگا۔

ورلڈ کپ سے قبل پاکستان اگلے سال مئی میں انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز بھی کھیلے گا۔ فخر زمان کے لیے یہ فارمیٹ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، “اپنی بات کروں تو ون ڈے کرکٹ میرا پسندیدہ فارمیٹ ہے، اس لیے میں اس کے لیے خاص طور پر پرجوش ہوں۔”

اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنی نسل کے مقبول ترین پاکستانی کرکٹرز میں شمار ہونے والے فخر زمان اپنے کیریئر کے اختتامی مرحلے کو اسی انداز میں یادگار بنا پاتے ہیں یا نہیں، جس طرح انہوں نے 2017 میں پاکستان کو عالمی ٹرافی دلانے میں کردار ادا کر کے اپنی پہچان بنائی تھی۔ موقع انہیں اسی فارمیٹ میں مل رہا ہے جسے وہ خود اپنا پسندیدہ فارمیٹ کہتے ہیں۔

Share This Article