ای سی سی نے مالیاتی فریم ورک، ترقیاتی اقدامات اور متعدد گرانٹس کی منظوری دے دی

newsdesk
10 Min Read
فنانس ڈویژن میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

اسلام آباد، 8 اکتوبر 2026: وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس فنانس ڈویژن میں ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کیے گئے 17 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ ایجنڈے میں مالی رسائی، ترقیاتی اقدامات، انفراسٹرکچر، ادارہ جاتی اصلاحات اور مختلف شعبہ جاتی امور شامل تھے۔

اجلاس میں فنانس ڈویژن کی سمری پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تیار کردہ مالیاتی فریم ورک کی منظوری دی گئی، جس کے تحت ایجنسی فنانشل انسٹی ٹیوشنز کو چھوٹے کاروباروں اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے حکومت کی موجودہ رسک کوریج اسکیموں میں شامل کیا جا سکے گا۔ یہ شمولیت ہول سیل اور ایجنسی انتظامات کے ذریعے ہوگی، جبکہ مقصد اہل مائیکرو فنانس اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں کے نیٹ ورک سے فائدہ اٹھا کر قرضوں تک رسائی کو وسیع کرنا ہے۔

ای سی سی نے کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ فنڈ کے سیکنڈ سپلیمنٹل ٹرسٹ ڈیڈ میں ایڈینڈم کی بھی منظوری دی، جس کے ذریعے فنڈ کے دائرہ کار کو وسعت دی جائے گی تاکہ موجودہ کریڈٹ گارنٹی سہولت کو سستے ہاؤسنگ فنانس کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کی سمری پر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے لیے 2.0 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی۔ یہ رقم وزیراعظم کے وژن کے مطابق سمیڈا کے منظور شدہ بزنس پلان پر عمل درآمد میں سہولت کے لیے دی جائے گی۔

اسی وزارت کی ایک اور سمری پر یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے فوری مالی تقاضے پورے کرنے اور اس کے بندش کے عمل کی تکمیل میں سہولت کے لیے 11.329 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔

نجکاری ڈویژن کی سمری پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے لیے 8.0 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ رقم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انفراسٹرکچر منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد میں معاونت کے لیے استعمال ہوگی۔

ای سی سی نے وزارت ریلوے کے لیے 10.0 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی، جس کا مقصد تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے بجٹ کور فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے سے مقامی تھر کوئلے کو بجلی پیدا کرنے اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سمری پر کمیٹی نے 596.18 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی۔ یہ رقم اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں بلدیاتی انتخابات، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی ضمنی انتخابات، اور پنجاب میں حلقہ بندیوں کی سرگرمیوں کے لیے سرنڈر شدہ فنڈز کی دوبارہ تخصیص اور توثیق کے لیے دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کی ایک الگ سمری میں پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اور ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لیے نان حساس مواد کی خریداری کی مد میں 17.873 ارب روپے کی تخصیص کا معاملہ پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے فوری طور پر 2.0 ارب روپے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے جاری کرنے کی منظوری دی۔

وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی سمری پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے 300 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی، تاکہ مالی سال 2026-27 کے دوران وزیراعظم آفس اور وزیراعظم اسٹاف کالونی سے متعلق ضروری مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

ای سی سی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے لیے 150 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی۔ یہ رقم ترکیہ کے شہر انتالیہ میں ہونے والے کانفرنس آف دی پارٹیز کے 31ویں اجلاس (COP31) میں پاکستان کی شرکت سے متعلق ضروریات کے لیے مختص کی گئی ہے۔

وزارت بین الصوبائی رابطہ کے حق میں پاکستان اسپورٹس انڈومنٹ فنڈ اسکیم 2025 کے لیے 934.481 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اس رقم سے فنڈ کو اس کے منظور شدہ فریم ورک کے مطابق فعال بنانے اور قومی کھیلوں کے نظام کی ترقی میں مدد ملے گی۔

وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی سمری پر وزیراعظم کے اقدام کے تحت ایک ہزار زرعی ماہرین کی چین میں قلیل مدتی تربیت کے لیے 1,666.176 ملین روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد زرعی ٹیکنالوجی، جدت اور تحقیق کے شعبوں میں مہارت کو مضبوط بنانا ہے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سمری پر ای سی سی نے 2026 کی تمباکو فصل کے لیے کم از کم اشاری قیمتوں اور 2026-27 کے لیے سیس ریٹس میں نظرثانی کی منظوری دی۔

اسی وزارت کی جانب سے پاسکو کے صوبائی حکومتوں کے ذمے واجبات کو اٹ سورس کٹوتیوں کے ذریعے ایڈجسٹ کرنے سے متعلق سمری بھی پیش کی گئی، تاہم کمیٹی نے معاملہ مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مزید مشاورت کے بعد تجویز دوبارہ پیش کی جائے۔

ریونیو ڈویژن کی سمری پر ای سی سی نے ایس آر او 693(I)/2006 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کا تعلق ملک میں تیار ہونے والے ٹائروں کی درآمد پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کے نفاذ سے ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔

کمیٹی نے پاکستان ریونیو آٹومیشن پرائیویٹ لمیٹڈ (PRAL) کے لیے 4.0 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی، تاکہ جاری ری اسٹرکچرنگ اور ایف بی آر کے ٹرانسفارمیشن پلان پر عمل درآمد میں مدد دی جا سکے۔

وزارت تجارت کی سمری پر ای سی سی نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے وسائل کو منظور شدہ فریم ورک کے مطابق سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت دی، تاکہ فنڈ کے وسائل کا پیداواری استعمال اور پائیدار مالی انتظام یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

دوسری جانب وزارت خزانہ نے وفاقی سرکاری اداروں کے قرضوں سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور سی ایم یو کے اعداد و شمار کا موازنہ درست بنیادوں پر نہیں کیا گیا۔ وزارت کے مطابق سی ایم یو کی جانب سے بتایا گیا 10.1 کھرب روپے وفاقی سرکاری اداروں کے قرضوں اور دیگر سودی واجبات کا مجموعی حجم ہے، یہ نئے قرضوں کی رقم نہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق رپورٹنگ کی مدت کے دوران وفاقی سرکاری اداروں نے صرف 164 ارب روپے کے نئے یا اضافی قرضے حاصل کیے۔ سرکاری اداروں کے قرضوں کا مجموعی حجم 8.8 کھرب روپے سے بڑھ کر 10.1 کھرب روپے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ 1.3 کھرب روپے کے نئے قرضے لیے گئے۔

وضاحت میں کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں سرکاری اداروں کے بینکوں سے حاصل کردہ قرضے شامل ہیں، جبکہ سی ایم یو کے اعداد و شمار کا دائرہ زیادہ وسیع ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق سرکاری اداروں کے بینک قرضے 2.954 کھرب روپے ہیں، جبکہ سی ایم یو کے مطابق مجموعی قرضے اور دیگر سودی واجبات 10.1 کھرب روپے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق 10.1 کھرب روپے کی پوری رقم بینکوں سے لیے گئے قرضوں پر مشتمل نہیں۔ اس میں بینکوں اور نجی اداروں کے قرضوں کا حصہ تقریباً 3.1 کھرب روپے ہے، جبکہ 2.098 کھرب روپے کے کیش ڈویلپمنٹ لونز، 2.581 کھرب روپے کے غیر ملکی قرضے، 2.181 کھرب روپے کا جمع شدہ مارک اپ اور قرضوں کی تجدید سے متعلق اخراجات بھی شامل ہیں۔ دیگر سودی واجبات، جن میں لیز اور اثاثوں کے استعمال سے متعلق واجبات شامل ہیں، تقریباً 135 ارب روپے ہیں۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ سی ایم یو کے اعداد و شمار کا مقصد وفاقی سرکاری اداروں کے مجموعی قرضوں، مالی ذمہ داریوں اور ان سے وابستہ مالی خطرات کی مکمل تصویر فراہم کرنا ہے، اس لیے 10.1 کھرب روپے کے مجموعی قرضوں اور واجبات کو نئے بینک قرضے ظاہر کرنا حقائق اور رپورٹنگ کے درست طریقہ کار کے منافی ہے۔

Share This Article