اسلام آباد، 6 اکتوبر 2026ء — وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان، کرغز جمہوریہ، تاجکستان اور ترکمانستان کے ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز نے ملاقات کی۔ ملاقات میں آئی ایف سی پاکستان کی پرنسپل کنٹری آفیسر ناز خان بھی شریک تھیں۔
ملاقات کے دوران پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور مالی سہولتوں تک رسائی بڑھانے کے لیے آئی ایف سی کی جاری اور ممکنہ معاونت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے آئی ایف سی کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ادارے کی مسلسل شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے لیے فنانسنگ میں اضافہ اور سرمایہ کاری پر مبنی نمو حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کاروباری طبقے، ایس ایم ایز، زرعی مالیات، سستی رہائش اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو نجی سرمایہ متحرک کرنے کے اہم شعبے قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان میں بہتر ہوتی ہوئی میکرو اکنامک صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان مثبت پیش رفتوں کو سرمایہ کاری میں اضافے، سرمائے کی تشکیل اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں تبدیل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے ملکی اور بین الاقوامی نجی سرمائے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور مالی رسائی وسیع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آئی ایف سی کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو کاروباری افراد کے لیے فنڈ کے قیام سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔ یہ فنڈ متعلقہ شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے کاروباری اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنایا جا سکے۔ وفد نے سستی رہائش کے شعبے میں جاری رابطوں پر بھی بریفنگ دی، جن کا مقصد ممکنہ ڈویلپر فنانس ماڈلز کے ذریعے سپلائی سائیڈ رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
زرعی مالیات کے حوالے سے گفتگو آئی ایف سی کے ایگری کنیکٹ اقدام پر مرکوز رہی۔ اس ضمن میں بہتر اسٹوریج انفراسٹرکچر اور الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسیدوں کو ضمانت کے طور پر مؤثر انداز میں استعمال کر کے نجی فنانسنگ متحرک کرنے کے مواقع کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے زرعی شعبے میں سپلائی سائیڈ مسائل کے حل اور قرض دہندگان و کسانوں کے لیے زیادہ یقین دہانی پیدا کرنے کو اہم قرار دیا۔
ملاقات میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بھی اہم موضوع رہی۔ آئی ایف سی نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ پانی اور بجلی کے شعبوں میں اپنی مصروفیات سے آگاہ کیا۔ ان منصوبوں میں پانی کے معیار اور حفاظت کو بہتر بنانے کے اقدامات اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں جدید میٹرنگ انفراسٹرکچر کو آگے بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں۔ بات چیت میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ پی پی پیز کے ذریعے خدمات کی فراہمی بہتر، نقصانات کم اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے نجی سرمایہ متحرک کیا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ اور آئی ایف سی نے مقامی کرنسی میں فنانسنگ بڑھانے اور نجی شعبے کے منصوبوں کے لیے طویل مدتی مالی وسائل کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پیداواری سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ملکی مالی وسائل کے ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی فنانس کو مؤثر طور پر بروئے کار لانا ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے ایس ایم ایز، کاروباری افراد، زراعت اور ہاؤسنگ کے لیے مالی مواقع بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طویل مدتی اور قابل استطاعت سرمائے تک بہتر رسائی نجی سرمایہ کاری کو کھولنے، کاروباری توسیع میں مدد دینے اور پیداواری سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہوگی۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں جدید مالیاتی حل کی تیاری اور نجی سرمایہ متحرک کرنے میں آئی ایف سی کے کردار کو سراہا۔
دونوں جانب سے نجی شعبے کی فنانسنگ، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ فریقین نے مالی سہولتوں تک رسائی بڑھانے، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کی پائیدار، سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے لیے ملکی و بین الاقوامی سرمائے کو متحرک کرنے پر مشترکہ توجہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
