ایل آئی آئی بی ایس 2026 اختتام پذیر، پاکستان کے ’’اگلے قدم‘‘ پر اصلاحات اور ٹیکنالوجی کو کلیدی قرار

newsdesk
10 Min Read
لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ 2026 میں پاکستان کے معاشی مستقبل، ٹیکنالوجی اور عالمی پوزیشننگ پر مختلف نشستیں منعقد ہوئیں۔

اسلام آباد، 17 ستمبر 2026: لیڈرز اِن اسلام آباد بزنس سمٹ (LIIBS) 2026 کا نواں ایڈیشن ’’دی نیکسٹ موو‘‘ کے عنوان سے اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگیا۔ سمٹ میں پالیسی سازوں، عالمی کاروباری اداروں کے سربراہان اور فکری رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی معاشی صلاحیت کو پائیدار برتری میں بدلنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔

افتتاحی وزارتی خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی نمو تقریباً 3.7 فیصد رہی اور یہ رفتار رواں مالی سال میں بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار نے واپسی کی ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد اور آئی ٹی برآمدات بیرونی کھاتے کو سہارا دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمت واضح ہے کہ پاکستان کو کھپت پر مبنی نمو کے ماڈل سے آگے بڑھ کر پائیدار اور پیداواری ترقی پر مبنی معیشت تعمیر کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اپنے وزارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں رہ سکتا، اسے ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والا ملک بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ایسے پیداواری کاروبار کھڑے کرنا ہے جو عالمی اداروں سے مقابلہ کرسکیں۔ ان کے مطابق مضبوط تعلیم، افرادی قوت میں مساوی شمولیت، اور مینوفیکچرنگ، دفاع اور مستقبل کی دیگر ٹیکنالوجیز تک ٹیلنٹ کی رسائی بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہوگا جہاں شہر زیادہ پیداواری ہوں، محض گنجان نہیں، اور نوجوانوں کے پاس معاشی مستقبل میں حصہ لینے کی مہارت موجود ہو۔

وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان کے پاس اچھے لوگ موجود ہیں اور ان کے لیے بہتر کام ہونا چاہیے۔ انہوں نے بہتر گورننس کے ساتھ ساختی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی گورننس میں ہم آہنگی نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو غیر منظم اخراجات اور پھر آئی ایم ایف قرضوں کی طرف رجوع کرنے کے چکر سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے برآمدات بڑھانا ضروری ہے، جبکہ نجی شعبے کے ساتھ رابطے کے بغیر مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں۔ اسی لیے حکومت نے گزشتہ سال سپر ٹیکسز میں کمی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے اور ایس ایم ایز کو فنانس کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے اور سمیڈا جیسے اداروں میں اصلاحات کی جارہی ہیں۔

اختتامی نشست میں سابق نگران وزیراعظم پاکستان سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا ضروری ہے، تاہم اصل سوال ساختی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق کئی ایسے ممالک، جنہیں سنگین تشدد کا سامنا رہا، بڑی برآمدی معیشتیں بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس لیے توجہ کمزور نمو کو صرف دہشت گردی سے منسوب کرنے کے بجائے بنیادی معاشی رکاوٹوں کو سمجھنے اور دور کرنے پر ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے قبضے پر مبنی پالیسیاں ہمیشہ استحصال کا باعث بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اتفاقِ رائے کے ساتھ مہارتوں پر مبنی برابر مواقع اور میرٹ پر مبنی پالیسیاں تشکیل دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے پاس بہترین جامعات ہیں تو ان کے طلبہ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیے بغیر انہیں کچھ کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اشرافیہ کے قبضے کو بدلنا ہوگا اور کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

سمٹ کا مرکزی تناظر پاکستان کی آئندہ حکمتِ عملی پر غور تھا۔ اس دوران معاشی پالیسی، ٹیکنالوجی اور عالمی پوزیشننگ کے حوالے سے ملک کے اہم موڑ کا جائزہ لیا گیا اور آگے کا راستہ متعین کرنے کے لیے مختلف شعبوں کی آرا کو یکجا کیا گیا۔ اسی وسیع زاویے نے دن بھر کی کارروائی کی بنیاد فراہم کی۔

سمٹ میں عالمی اداروں کے رہنماؤں اور صنعتوں کے اعلیٰ عہدیداران نے چھ نشستوں میں شرکت کی۔ موضوعات میں جغرافیائی سیاست اور جیو اکنامکس، کاروبار، ٹیکنالوجی اور مسابقتی منظرنامہ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی، سرمایہ اور مالیات، اور پاکستان کا ’’اگلا قدم‘‘ شامل تھے۔ تمام ممتاز مقررین کو ’’Syed Babar Ali: A Centennial Tribute‘‘ نامی کتاب پیش کی گئی، جس کے مصنف نٹ شیل گروپ کے بانی و چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیر برائے سرمایہ کاری محمد اظفر احسن ہیں۔

مقررین اور شرکا میں لوسیا ریئل مارٹن، گلوبل ایگزیکٹو ڈائریکٹر، اے سی سی اے؛ ڈاکٹر فیصل ہاشمی، سینئر ڈائریکٹر پبلک افیئرز، سسٹین ایبلٹی اینڈ کمیونیکیشن، پاکستان و افغانستان ریجن، دی کوکا کولا کمپنی؛ عامر ابراہیم، سی ای او جاز ورلڈ اور چیئرمین موبی لنک بینک، جاز کیش و ٹی پی ایل انشورنس؛ محمد اظفر احسن، بانی و چیئرمین نٹ شیل گروپ اور پاکستان کے سابق وزیر برائے سرمایہ کاری؛ سائمن اینڈریوز، ریجنل ڈائریکٹر، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن؛ ڈاکٹر سیموئل رزک، ریزیڈنٹ ریپریزنٹیٹو پاکستان، یو این ڈی پی؛ اینڈریو بیلی، مینیجنگ ڈائریکٹر، بی اے ایس ایف پاکستان؛ ماہین رحمان، سی ای او انفرا ضامن پاکستان؛ ڈاکٹر عائشہ کے خان، ریجنل مینیجنگ ڈائریکٹر، ایکیومن؛ سجیّد اسلم، پارٹنر، Sustainadility، امریکا؛ سرکان اوزترک، چیف آف اسٹاف اینڈ اسٹریٹجی آفیسر، ویون گروپ؛ عرفان وہاب خان، ایس وی پی، ٹیلی نار گروپ اور چیئرمین ایزی پیسہ ڈیجیٹل بینک؛ سائرہ اعوان ملک، صدر، ٹی سی ایس ہولڈنگز؛ کبیر نقوی، انٹرپرینیور اِن ریزیڈنس، ابھی گروپ؛ فاطمہ اسد سعید، سی ای او، ابیکس؛ ثاقب احمد، گلوبل چیف گروتھ آفیسر، سسٹمز لمیٹڈ؛ حارث محمود چوہدری، صدر و سی ای او، موبی لنک بینک؛ ثاقب صباح، مینیجنگ ڈائریکٹر گروتھ مارکیٹ یونٹس، ایس اے پی؛ طارق رشید، گلوبل ٹیلکو گروتھ لیڈر، سسٹمز لمیٹڈ؛ آصف احمد، گروپ چیف بزنس سلوشنز آفیسر، پی ٹی سی ایل؛ مجیب ظہور، مینیجنگ ڈائریکٹر، ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان؛ جاوید قریشی، سی ای او، پاکستان بزنس کونسل؛ ڈاکٹر امجد وحید، سی ای او، این بی پی فنڈز؛ محمد شعیب، سی ایف اے، سی ای او و شریک بانی، لکی انویسٹمنٹس؛ امتیاز گدر، سی ایف اے، سی ای او، المیزان انویسٹمنٹ مینجمنٹ؛ عمیر اعجاز، سی ای او، رقمی اسلامی ڈیجیٹل بینک؛ ایئر چیف مارشل سہیل امان، پاکستان کے چیف آف ایئر اسٹاف 2015-18 اور چیف ایگزیکٹو اسٹریٹجک انگیجمنٹس، نٹ شیل گروپ؛ زیاد بشیر، چیئرمین، پاکستان بزنس کونسل؛ اور فہد حسین، اینکر و کالم نگار شامل تھے۔

افتتاحی نشست کے بعد دوسری نشست ’’جیوپولیٹکس، جیو اکنامکس اینڈ پاکستان‘‘ کے موضوع پر ہوئی، جس میں سرمایہ کاری کے اعتماد اور موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی گئی۔ تیسری نشست ’’بزنس، ٹیکنالوجی اینڈ دی نیو کمپیٹیٹو لینڈ اسکیپ‘‘ میں اس امر پر روشنی ڈالی گئی کہ کاروبار کس طرح تیزی سے خود کو ڈھال سکتے ہیں، لچک پیدا کرسکتے ہیں، نئی منڈیاں کھول سکتے ہیں اور پائیدار نمو حاصل کرسکتے ہیں۔

چوتھی نشست ’’اے آئی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اینڈ اکنامک ویلیو‘‘ میں یہ جائزہ لیا گیا کہ ٹیکنالوجی پیداواریت، صارفین کے تجربات، کاروباری ماڈلز اور مسابقتی برتری کو کس طرح تبدیل کررہی ہے۔ دوسری آخری نشست ’’کیپٹل، فنانس اینڈ دی کانفیڈنس اکانومی‘‘ میں پاکستان کے لیے ملکی و بین الاقوامی سرمایہ متحرک کرنے، مالیاتی منڈیوں کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور طویل المدتی معاشی ترقی کے امکانات پر غور کیا گیا۔

اختتامی نشست ’’پاکستانز مومنٹ آف چوائس‘‘ میں سیاسی قیادت، حکومت، کاروبار، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اور نجی شعبے کے نقطہ ہائے نظر کو یکجا کیا گیا تاکہ عالمی تاریخ کے ایک اہم مرحلے پر پاکستان کے فیصلہ کن انتخاب کا جائزہ لیا جاسکے۔

ایل آئی آئی بی ایس 2026 اس اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ پاکستان کے لیے موقع یقین کا انتظار کرنے میں نہیں بلکہ اُن اصلاحات، سرمائے، ٹیکنالوجی اور شراکت داریوں پر فیصلہ کن عمل میں ہے جو پہلے ہی دسترس میں ہیں۔

Share This Article