’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘ پر عمل درآمد تیز کرنے کا فیصلہ

newsdesk
4 Min Read
وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ون پیشنٹ، ون آئی ڈی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کی زیر صدارت ’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں منصوبے کو وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق جلد فعال کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے کو مربوط کر کے علاج معالجے کے نظام کو شفاف اور جدید بنایا جائے گا۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جدید میڈیکل ریکارڈ کے ذریعے صحت کے نظام میں شفافیت اور بہتری لائی جا رہی ہے۔

منصوبے کے تحت ہر شہری کا شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا منفرد میڈیکل ریکارڈ نمبر، یعنی ایم آر نمبر ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے مریض کا طبی ریکارڈ مختلف ہسپتالوں اور اداروں میں بکھرا رہنے کے بجائے ایک ہی شناخت کے تحت دستیاب ہوگا۔ ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقلی کی صورت میں مریض کی مکمل طبی تاریخ اور سابقہ ریکارڈ باآسانی حاصل کیا جا سکے گا۔

وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر تیزی سے کام جاری ہے، تاہم پاکستان میں یونیورسل میڈیکل ریکارڈ کا ڈیٹا موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘ منصوبے کو مزید تاخیر اور غیر ضروری تکرار کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

اجلاس میں منصوبے کے لیے واضح Terms of Reference مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ 14، 15 ماہ سے زیر بحث مسائل کو اب باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے اور تمام مسائل کا عملی حل نکالا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف مسائل کی نشاندہی کافی نہیں، ان کے حل کے لیے واضح اقدامات اور ذمہ داریاں بھی مقرر کی جائیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بہترین معیار اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے ’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘ منصوبے کا تھرڈ پارٹی ریویو اور آڈٹ کرایا جائے گا۔ وزیر صحت کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ سے منصوبے کی پیش رفت، خامیوں اور مطلوبہ اصلاحات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے گا۔ منصوبے میں موجود ممکنہ خامیوں کی نشاندہی اور ان کے ازالے کے اقدامات کو بھی ٹی او آرز کا حصہ بنایا جائے گا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام متعلقہ ادارے متفقہ طریقہ کار کے تحت منصوبے کو تیزی سے حتمی شکل دیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں اور منصوبے کو عملی طور پر آگے بڑھائیں۔

سسٹم کو سمجھنے اور اسے بہتر انداز میں چلانے کے لیے وزارت صحت میں ایک آئی ٹی ونگ کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ’ون پیشنٹ، ون آئی ڈی‘ منصوبے کو عملی اقدامات، واضح شرائط کار اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے جلد نافذ العمل بنایا جائے گا۔

Share This Article