لاہور (کلچرل رپورٹر) پاکستانی نژاد امریکی میوزک پروڈیوسر پریم جی نے مشرقی اور مغربی دھنوں کو جدید انداز میں یکجا کرتے ہوئے الیکٹرانک میوزک میں اپنی الگ شناخت بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ کراچی میں پیدا ہونے والے اور اس وقت امریکی ریاست ٹیکساس میں مقیم پریم جی الیکٹرانک میوزک پروڈیوسر، ڈی جے، نغمہ نگار اور کمپوزر ہیں۔
پریم جی جدید ہاؤس میوزک کو جنوبی ایشیائی ثقافت، دھنوں اور جذبات کے ساتھ جوڑ کر ایسا موسیقی انداز پیش کر رہے ہیں جس میں عالمی ڈانس فلور کی توانائی کے ساتھ دیسی موسیقی کی جھلک بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کی موسیقی پر پاکستان اور امریکا دونوں ثقافتوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ امریکا میں قیام کے دوران انہیں جدید الیکٹرانک اور ہاؤس میوزک سے قریب سے وابستہ ہونے کا موقع ملا، جبکہ جنوبی ایشیائی ثقافت سے ان کا رشتہ ان کی دھنوں اور جذبات میں واضح دکھائی دیتا ہے۔
پریم جی کے مطابق وہ دونوں موسیقی رنگوں کو اس انداز میں یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان، بھارت اور دنیا بھر میں موجود جنوبی ایشیائی نوجوان اس سے خود کو وابستہ محسوس کر سکیں۔ ان کے میوزک میں مشرقی احساس اور مغربی الیکٹرانک بیٹ کا امتزاج نمایاں ہے۔
پریم جی کے میوزیکل پراجیکٹس Qalandar، Mera Pyar اور Karachi میں جنوبی ایشیائی موسیقی کے رنگ جدید الیکٹرانک انداز کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ تاہم ان کا مقصد صرف پرانے یا معروف گیتوں کو نئے انداز میں پیش کرنا نہیں، بلکہ مستقبل میں اپنی منفرد الیکٹرانک میوزک شناخت قائم کرنا بھی ہے۔
پریم جی اپنے موسیقی فلسفے کو "Connecting Cultures Through Electronic Music" قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول موسیقی ایک ایسی زبان ہے جو جغرافیہ اور زبان کی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتی ہے۔
کراچی سے ٹیکساس تک پریم جی کا سفر ان کی موسیقی میں دو مختلف ثقافتوں کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ اپنی پاکستانی اور امریکی شناخت کو الگ الگ رکھنے کے بجائے دونوں ثقافتوں کے اثرات کو اپنی فنکارانہ شناخت کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ان کے گانے سپوٹی فائی اور یوٹیوب پر بھی موجود ہیں۔
