اسلام آباد: پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں ڈولفن کمیونیکیشن کے تعاون سے عظیم صوفی شاعر، موسیقار، ادیب اور مفکر حضرت امیر خسروؒ کی علمی، ادبی اور فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تھیٹر ڈرامہ ’’امیر خسرو‘‘ پیش کیا گیا۔
5 اکتوبر 2026 کو منعقدہ اس پیشکش کو فن، ادب، موسیقی اور تصوف سے وابستہ شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ ڈرامے میں حضرت امیر خسروؒ کی ہمہ جہت شخصیت، شاعری، روحانی فکر، موسیقی اور برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت میں ان کے کردار کو مؤثر تھیٹر انداز میں اجاگر کیا گیا۔
پیشکش میں حضرت امیر خسروؒ کو برصغیر کی تہذیبی تاریخ کی ایک ممتاز شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔ وہ فارسی کے عظیم شاعر، ہندوی زبان کے اہم ادبی نمائندے، صوفی، موسیقار، مورخ اور درباری دانشور کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں فارسی اور ہندوستانی تہذیب کے رنگ نمایاں طور پر یکجا دکھائی دیتے ہیں، جس نے انہیں برصغیر کی مشترکہ ثقافتی شناخت کا اہم استعارہ بنا دیا۔
ڈرامے کے مختلف مناظر اور مکالموں کے ذریعے ان کی شاعری، ادبی خدمات، صوفیانہ سوچ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ سے روحانی وابستگی، موسیقی کے شعبے میں خدمات، قوالی کی روایت سے تعلق اور برصغیر کی زبان و ثقافت پر اثرات کو پیش کیا گیا۔ حضرت امیر خسروؒ کو قوالی کی تشکیل و فروغ اور برصغیر میں غزل کے موسیقائی انداز کے فروغ کے حوالے سے بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔
پیشکش کا اہم پہلو حضرت امیر خسروؒ اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے روحانی تعلق کو نمایاں کرنا تھا۔ یہ تعلق برصغیر کی صوفیانہ روایت میں محبت، عقیدت اور مرشد و مرید کے رشتے کی ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔
ڈرامے میں امیر خسروؒ کا کردار کلیم خان نے ادا کیا جبکہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے کردار میں شاہد مغل نے پرفارم کیا۔ نیلم ارشد نے راوی کے فرائض انجام دیے۔ دیگر فنکاروں نے بھی تاریخی، ادبی اور ثقافتی کرداروں کو خوبصورتی سے پیش کیا۔
روایتی موسیقی، طبلہ، سارنگی اور صوفیانہ رنگ نے اس پیشکش کو مزید مؤثر بنایا۔ فنکاروں کی جاندار اداکاری اور مکالموں نے حاضرین کو امیر خسروؒ کے عہد، فکر اور روحانی دنیا سے جوڑ دیا۔
ڈرامے کی تحریر ارشد چہال نے لکھی، ہدایات محمد وقار عظیم نے دیں جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر و پروڈیوسر عاصمہ اسماعیل بٹ کی نگرانی میں یہ خصوصی پیشکش پیش کی گئی۔
پروگرام میں فن، ادب، موسیقی اور تصوف سے محبت رکھنے والے شائقین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ہال میں موجود حاضرین نے مختلف مناظر، مکالموں، موسیقی اور فنکاروں کی پرفارمنس کو دل کھول کر داد دی۔
اختتام پر حاضرین کا کہنا تھا کہ ’’امیر خسرو‘‘ جیسی تخلیقی پیشکشیں نہ صرف ہماری عظیم ادبی اور صوفیانہ روایت کو زندہ رکھتی ہیں بلکہ نئی نسل کو برصغیر کے عظیم فنکاروں اور مفکرین کی خدمات سے آگاہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس نے کہا ہے کہ وہ ملک کے عظیم ادبی، تاریخی، صوفیانہ اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے اس نوعیت کے معیاری پروگراموں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔ پی این سی اے کا عزم ہے کہ فن، ادب، موسیقی اور ثقافت سے وابستہ تخلیقی اور بامقصد سرگرمیوں کو مسلسل فروغ دیا جائے تاکہ نئی نسل کو اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے روشناس کرایا جا سکے۔
