سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کی شفافیت پر وفاقی وزارت صحت نے تحقیقات کا حکم دے دیا

newsdesk
6 Min Read
وفاقی وزارت صحت نے سندھ میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحان سے متعلق شکایات پر پی ایم ڈی سی کو 15 روز میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد: وفاقی وزارت قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے سندھ میں منعقدہ ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحان کی شفافیت اور میرٹ سے متعلق شکایات پر تفصیلی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات اور عوامی نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کے بعد کیا گیا۔

وزارت نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو ہدایت کی ہے کہ شکایات کا جائزہ لے کر 15 روز کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔ اس سلسلے میں 2 اکتوبر 2026 کو وزارت قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کے سیکشن افسر ایڈمن فائیو محمد اسحاق کی جانب سے پی ایم ڈی سی کے صدر رضوان تاج کے نام باضابطہ خط جاری کیا گیا۔

خط کے مطابق مجاز اتھارٹی نے سندھ میں ایم ڈی کیٹ امتحان سے متعلق سامنے آنے والے تحفظات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور شفافیت و منصفانہ عمل کو یقینی بنانے کے لیے جامع تحقیقات چاہتی ہے۔ وزارت نے کہا کہ حالیہ میڈیا رپورٹس میں سندھ کے امتحان کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی متعدد شکایات سامنے آئیں۔ عوامی نمائندوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انکوائری کے تحت سب سے پہلے امتحانی نتائج کا مرکز وار تجزیہ کیا جائے گا۔ اس تجزیے میں امیدواروں کی تعداد، حاصل کردہ نمبرز اور فیصد، کامیابی کی شرح، زیادہ نمبروں کی تقسیم اور نتائج میں کسی غیر معمولی یا نمایاں فرق کا جائزہ شامل ہوگا۔

حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ امتحان سے متعلق تمام متعلقہ ریکارڈ اور ڈیٹا محفوظ کیا جائے اور اس کا معائنہ کیا جائے۔ اس ریکارڈ میں حاضری شیٹس، نشستوں کے پلان، امتحانی مراکز کا ریکارڈ، نتائج کا ڈیٹا اور نگرانی کے انتظامات شامل ہوں گے۔ جہاں قانونی طور پر ممکن ہوگا، وہاں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

وزارت نے مزید حکم دیا ہے کہ بدعنوانی، غیر منصفانہ فائدے یا بے ضابطگی سے متعلق تمام شکایات اور الزامات کی جانچ کی جائے۔ ان میں طریقہ کار کی خلاف ورزی، غیر مجاز مدد، کسی اور کے نام پر امتحان دینے، پرچہ لیک ہونے، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی کوتاہیوں کے دعوے شامل ہیں۔

انکوائری صرف شکایات تک محدود نہیں رہے گی۔ وزارت نے ہدایت کی ہے کہ دستیاب شواہد کو دیکھا جائے اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے معاملے کا متعلقہ قانون اور قواعد کے تحت جائزہ لیا جائے۔

تحقیقات کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہوگا کہ امتحان کے انعقاد اور نتائج کی تیاری سے متعلق رپورٹس اور ریکارڈ حاصل کیے جائیں۔ اس سے حکام کو امتحانی عمل اور حتمی نتائج کا موازنہ کرنے اور کسی بھی ممکنہ بے قاعدگی کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بے ضابطگی، بدعنوانی، تکنیکی خرابی یا کوئی اور معاملہ ایسا پایا گیا جس نے امتحان کی ساکھ یا نتیجے کو مادی طور پر متاثر کیا ہو، تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انکوائری کا مقصد الزامات کا جائزہ لینا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا حقیقتاً کوئی مسئلہ پیش آیا یا نہیں۔ خط خود اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ بدعنوانی یا غیر منصفانہ طرز عمل ہوا ہے۔

یہ خط سیکشن افسر ایڈمن فائیو محمد اسحاق نے جاری کیا، جنہوں نے 2 اکتوبر 2026 کو دستاویز پر دستخط کیے۔ مراسلہ اسلام آباد میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر رضوان تاج کو ارسال کیا گیا۔

خط کی نقول معلومات کے لیے وفاقی وزیر صحت کے پرنسپل اسٹاف افسر عدیل رضا، وفاقی سیکرٹری صحت کے پی ایس او محمد شاہد علی کریم، رجسٹرار پی ایم ڈی سی ڈاکٹر سید ریحان اصغر نقوی اور وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری راجہ ساجد خداداد کو بھی بھجوائی گئیں۔

وزارت نے ہدایت کی ہے کہ درج نکات کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے اور انکوائری رپورٹ 15 دن کے اندر وزارت کو فراہم کی جائے۔

اس تحقیقات میں امتحانی مراکز، امیدواروں کے ریکارڈ، نمبرز، زیادہ اسکور کے رجحانات، حاضری، نشستوں کے انتظامات، نگرانی، نتائج کی تیاری اور غیر منصفانہ مدد یا دیگر ممکنہ خلاف ورزیوں سے متعلق شواہد کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ انکوائری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایم ڈی کیٹ کے نتائج میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے وزارت نے امتحانی عمل اور نتائج کو ریکارڈ اور شواہد کی بنیاد پر پرکھنے پر خاص زور دیا ہے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کوئی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں۔

وزارت کی جانب سے مقرر کردہ پانچ نکاتی انکوائری فریم ورک کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا امتحان درست انداز میں منعقد ہوا، نتائج صحیح طور پر مرتب کیے گئے اور کیا کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سندھ میں ایم ڈی کیٹ امتحان کی شفافیت یا ساکھ کو متاثر کیا۔

Share This Article