سینیٹ میں “ایم ڈی کیٹ ٹیوشن مافیا” کے خلاف کارروائی کا فیصلہ، میڈیکل کالج فیسیں 18 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ تک پہنچ گئیں
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ میں ایم ڈی کیٹ “ٹیوشن مافیا” اور نجی میڈیکل کالجوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ کوچنگ اکیڈمیاں طلبہ اور والدین سے اربوں روپے بٹور رہی ہیں جبکہ میڈیکل تعلیم متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت اجلاس میں حکام نے اعتراف کیا کہ ایم ڈی کیٹ امتحانات میں تاخیر کے باعث طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جس سے نجی اکیڈمیوں کو اضافی فیسیں وصول کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک سینئر افسر نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں قائم کوچنگ سینٹرز ایک طاقتور “ٹیوشن مافیا” کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو طلبہ کو جذباتی وعدوں کے ذریعے بھاری رقوم ادا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ماضی میں ایف ایس سی امتحانات کے بعد ایم ڈی کیٹ میں سات سے نو ماہ تک تاخیر ہوتی رہی، جس سے طلبہ غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ میں مبتلا رہے۔ حکام کے مطابق حکومت اب ایسا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جس میں طلبہ صرف اپنی ایف ایس سی تیاری کی بنیاد پر ایم ڈی کیٹ پاس کر سکیں اور مہنگی اکیڈمیوں پر انحصار ختم ہو۔
اجلاس میں وزارتِ صحت نے باضابطہ اعلان کیا کہ اگلا ایم ڈی کیٹ امتحان 16 اگست 2026 کو منعقد ہوگا۔ حکام کا کہنا تھا کہ مختصر اور مقررہ شیڈول سے کوچنگ اکیڈمیوں کو اضافی تیاری کے نام پر مزید پیسے وصول کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ سینیٹرز نے پی ایم ڈی سی کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈسپلنری کمیٹیوں، ڈاکٹروں کے خلاف زیر التوا شکایات، مقامی و غیر ملکی گریجویٹس کے لائسنسنگ کیسز اور پی ایم ڈی سی صدر کے اختیارات سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا۔
نجی میڈیکل کالجوں کی فیسوں میں غیر معمولی اضافے پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ کمیٹی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ فیسیں تقریباً 18 لاکھ روپے سے بڑھ کر 25 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہیں، جس پر ریگولیشن اور شفافیت سے متعلق سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے تمام صوبوں کی نمائندگی پر مشتمل خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جسے دو ماہ میں پی ایم ڈی سی امور، ایم ڈی کیٹ مسائل اور فیسوں میں اضافے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سینیٹرز نے خبردار کیا کہ اگر فیسوں میں بے قابو اضافہ اور ٹیوشن انڈسٹری کو نہ روکا گیا تو میڈیکل تعلیم صرف امیر طبقے تک محدود ہو کر رہ جائے گی اور باصلاحیت طلبہ ڈاکٹر بننے کے خواب سے محروم ہو جائیں گے۔
Copied From : Senate Targets MDCAT “Tuition Mafia” as Medical College Fees Jump From Rs18 Lakh to Rs25 Lakh – Peak Point

