رجسٹرڈ بیع نامہ محض انکار سے مشکوک نہیں بنتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

newsdesk
9 Min Read
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ بیع نامے کو چیلنج کرنے والے فریق پر فراڈ ثابت کرنے کا ابتدائی بوجھ عائد ہوتا ہے۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے راولپنڈی کے 10 مرلہ مکان سے متعلق خاندانی جائیداد تنازع میں قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ بیع نامے کو چیلنج کرنے والا فریق صرف یہ کہہ کر ثبوت کا بوجھ مخالف فریق پر منتقل نہیں کرسکتا کہ دستاویز درست نہیں۔ عدالت کے مطابق فراڈ، جعلسازی یا غلط بیانی کا الزام لگانے والے شخص پر لازم ہے کہ وہ پہلے ان الزامات کو قابل اطمینان شواہد سے ثابت کرے۔

یہ فیصلہ خرم رشید بنام چوہدری حیدر زمان و دیگر کے مقدمے میں سنایا گیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 26 مارچ 2026 کو کیس کی سماعت کی۔ معاملہ راولپنڈی کے مکان نمبر K 617، رقبہ 10 مرلہ، اور 21 اگست 2000 کو تیار ہونے والے رجسٹرڈ بیع نامے سے متعلق تھا۔

مقدمے کی ابتدا مئی 2001 میں ہوئی جب چوہدری محمد انور نے سول دعویٰ دائر کرتے ہوئے ڈیکلریشن اور مستقل حکم امتناعی کی استدعا کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ مذکورہ مکان خرم رشید کے نام رجسٹرڈ بیع نامے کے ذریعے منتقل کیا گیا، تاہم یہ کارروائی فراڈ اور جعلسازی کا نتیجہ تھی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق محمد انور نے دعویٰ کیا کہ ان سے وارث خان اسٹریٹ میں واقع دو مرلہ جائیداد کے معاملے کا بہانہ بنا کر دستخط لیے گئے اور بعد ازاں انہی دستخطوں کو 10 مرلہ مکان کے متنازع بیع نامے کے لیے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس مکان کی فروخت کے بدلے کوئی رقم ادا نہیں کی گئی اور بیع نامہ ان کی قانونی رضامندی کے بغیر تیار اور رجسٹر کیا گیا۔

مدعی نے اپنی عمر رسیدگی اور کمزور بینائی کو بھی مقدمے کا حصہ بنایا اور مؤقف اپنایا کہ ان کی حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی لین دین کیا گیا۔

مدعا علیہان نے الزامات کی سختی سے تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیع نامہ حقیقی اور قانونی تھا جبکہ فروخت کی رقم 6 لاکھ 50 ہزار روپے مکمل طور پر ادا کی گئی۔ مدعا علیہان کے مطابق محمد انور خود راولپنڈی میں سب رجسٹرار کے سامنے پیش ہوئے اور گواہوں کی موجودگی میں رجسٹری مکمل کرائی۔ ان کا یہ بھی مؤقف تھا کہ لین دین کے وقت محمد انور صحت مند تھے اور کسی بیماری یا معذوری کا شکار نہیں تھے۔

مدعا علیہان نے مزید کہا کہ محمد انور کی آنکھ کا آپریشن 20 اپریل 2000 کو ہوا تھا جبکہ بیع نامے کو چیلنج کرنے کا دعویٰ تقریباً 13 ماہ بعد دائر کیا گیا۔ ان کے مطابق مقدمے کا مقصد خرم رشید کو متنازع مکان سے محروم کرنا تھا۔

فریقین کے مؤقف سامنے آنے کے بعد ٹرائل کورٹ نے بیع نامے کی حیثیت، فراڈ اور جعلسازی کے الزامات، حق دعویٰ اور مقدمے کے قابل سماعت ہونے سمیت متعدد امور پر نکات طے کیے۔ سماعت کے دوران رجسٹرڈ بیع نامے کے حاشیہ گواہان پیش ہوئے، جبکہ دستاویزی ریکارڈ اور فریقین کے بیانات بھی عدالت کے سامنے آئے۔

ٹرائل کورٹ نے 29 ستمبر 2011 کو محمد انور کا دعویٰ خارج کردیا۔ اس فیصلے کے خلاف مدعیان نے اپیل دائر کی، جسے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی نے 12 جنوری 2012 کو منظور کرلیا۔ بعد میں معاملہ سول ریویژن نمبر 331 D آف 2012 کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ پہنچا، جہاں 26 ستمبر 2023 کو ریویژن خارج کردی گئی۔ اس کے بعد خرم رشید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 117 کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی فریق کسی حقیقت کا دعویٰ کرے اور دوسرا فریق صرف اس سے انکار کرے تو اس حقیقت کو ثابت کرنے کی ذمہ داری دعویٰ کرنے والے پر ہوتی ہے۔

عدالت نے قانونی اصول “ei incumbit probatio qui dicit, non qui negat” کا بھی حوالہ دیا، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ثبوت کا بوجھ اس پر ہوتا ہے جو دعویٰ کرتا ہے، نہ کہ اس پر جو محض انکار کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فراڈ اور جعلسازی جیسے الزامات عمومی بیان یا سادہ انکار سے ثابت نہیں ہوتے۔ عدالت کے مطابق رجسٹرڈ بیع نامے پر عملدرآمد کرنے والے شخص کا بعد میں محض انکار کردینا اس بات کے لیے کافی نہیں کہ ابتدائی ثبوت کا بوجھ اس شخص پر منتقل کردیا جائے جس کے حق میں دستاویز موجود ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر مدعی فراڈ، جعلسازی یا غلط بیانی ثابت کرنے میں ناکام رہے تو پھر مدعا علیہ پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ لین دین کی درستگی ثابت کرے۔

سپریم کورٹ کے مطابق موجودہ مقدمے میں مدعیان ایسا قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کرسکے جس سے خرم رشید کے خلاف 21 اگست 2000 کے رجسٹرڈ بیع نامے کے حوالے سے فراڈ، جعلسازی یا غلط بیانی کے الزامات ثابت ہوتے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ مدعیان کوئی ایسا گواہ بھی پیش نہ کرسکے جو ان الزامات کو ثابت کرتا۔

دوسری جانب خرم رشید نے رجسٹرڈ بیع نامے کے حاشیہ گواہان کو پیش کیا۔ عدالت نے ان کے بیانات کو قابل اعتماد اور اطمینان بخش قرار دیا۔ درخواست گزار کے اٹارنی اور دیگر contesting defendants کے بیانات نے بھی رجسٹرڈ لین دین کی صحت کی تائید کی۔

فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اسی خاندان کے افراد کے درمیان پہلے بھی ایک دو مرلہ پلاٹ کی فروخت سے متعلق مقدمہ بازی ہوچکی تھی۔ سابقہ مقدمات کو یکجا کیا گیا تھا اور ٹرائل کورٹ نے بعد میں فراڈ، جعلسازی یا غلط بیانی ثابت نہ ہونے پر انہیں خارج کردیا تھا۔ اس مشترکہ فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا گیا، اس لیے وہ حتمی ہوچکا تھا۔

سپریم کورٹ نے شواہد اور قانونی اصولوں کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ مدعیان خرم رشید کے حق میں رجسٹرڈ بیع نامے کی تیاری میں فراڈ، جعلسازی یا غلط بیانی ثابت کرنے کا بوجھ پورا نہیں کرسکے۔

عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد اور قانون کا درست جائزہ لیا اور دعویٰ خارج کرتے وقت کوئی غیر قانونی یا بے قاعدہ اقدام نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کے مطابق اپیلٹ اور ریویژنل عدالتوں نے شواہد اور طے شدہ قانونی اصولوں کی درست قدر نہیں کی۔

سپریم کورٹ نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا 26 ستمبر 2023 کا فیصلہ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ کا 12 جنوری 2012 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، جبکہ ٹرائل کورٹ کا 29 ستمبر 2011 کا فیصلہ بحال کردیا جس کے تحت دعویٰ خارج کیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ سول مقدمات میں ایک اہم اصول کو دوبارہ واضح کرتا ہے کہ رجسٹرڈ دستاویز کو صرف اس بنا پر فراڈ پر مبنی نہیں کہا جاسکتا کہ اسے انجام دینے والا شخص بعد میں لین دین سے انکار کردے۔ ایسے الزام کے لیے پہلے مضبوط اور قابل اعتماد شواہد عدالت کے سامنے لانا ضروری ہیں۔ جب تک یہ ابتدائی ذمہ داری پوری نہ ہو، مخالف فریق پر لین دین کی صحت ثابت کرنے کا بوجھ منتقل نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ رجسٹرڈ جائیداد کے لین دین کو کالعدم قرار دینے سے پہلے گواہوں، رجسٹری ریکارڈ اور دیگر شواہد کا محتاط جائزہ لیا جانا چاہیے۔ موجودہ مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرڈ بیع نامے کے حق میں پیش شواہد لین دین کی تائید کرتے ہیں، جبکہ فراڈ کے الزامات ثابت نہیں ہوسکے۔

Share This Article