اسلام آباد، 27 اگست 2026: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے زیر اہتمام تین روزہ نیشنل سی ایم ای/سی پی ڈی کیپسٹی بلڈنگ ورکشاپ اسلام آباد میں شروع ہوگئی۔ ورکشاپ کا عنوان “Designing High-Impact CME / CPD: From Concept to Completion” ہے اور یہ 27 سے 29 اگست 2026 تک جاری رہے گی۔
ورکشاپ کی صدارت پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج کر رہے ہیں، جبکہ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (نمز)، راولپنڈی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل وسیم عالمگیر تھے۔ اس قومی سطح کے پروگرام میں ملک بھر سے ادارہ جاتی سربراہان، میڈیکل ایجوکیشن کے ماہرین، فیکلٹی اراکین اور میڈیکل و ڈینٹل اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔
اپنے افتتاحی کلمات میں پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھنے اور مریضوں کی دیکھ بھال کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے زندگی بھر سیکھنے کا عمل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی ایک ایسا قومی سی ایم ای/سی پی ڈی نظام تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے جو قابل اعتماد، عملی، شفاف اور پائیدار ہو، تاکہ ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹس مسلسل اپنے علم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکیں، اپنی صلاحیتیں بہتر بنائیں اور پیشہ ورانہ عمل میں بہتری لا سکیں۔
صدر پی ایم ڈی سی نے واضح کیا کہ یہ اقدام محض ایک اور ضابطہ جاتی شرط متعارف کرانے کے لیے نہیں، بلکہ مسلسل تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے حقیقی کلچر کو فروغ دینے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر منظم اور معیار کی ضمانت کے حامل نظام کے قیام کے لیے پی ایم ڈی سی، جامعات، میڈیکل و ڈینٹل اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں، صحت کے اداروں اور پریکٹیشنرز کے درمیان تعاون نہایت اہم ہے۔
مہمان خصوصی لیفٹیننٹ جنرل وسیم عالمگیر نے پی ایم ڈی سی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلسل پیشہ ورانہ ترقی صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو میڈیکل سائنس، ٹیکنالوجی اور کلینیکل پریکٹس میں ہونے والی پیش رفت سے باخبر رکھنے کے لیے ضروری ہے، جس کا حتمی فائدہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ورکشاپ میں سی ایم ای/سی پی ڈی کے مکمل سلسلے پر توجہ دی جا رہی ہے، جس میں پیشہ ورانہ عمل میں موجود خامیوں اور تعلیمی ضروریات کی نشاندہی، قابل پیمائش تعلیمی مقاصد، تعلیمی ڈیزائن، دیانت داری اور آزادی، نتائج کی جانچ، گورننس، دستاویزات، نگرانی اور کوالٹی ایشورنس شامل ہیں۔
پی ایم ڈی سی کا مقصد ایک شفاف، معتبر اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ سی ایم ای/سی پی ڈی فریم ورک قائم کرنا ہے، جس میں سرگرمیوں کی مناسب منظوری، دستاویز بندی، نگرانی اور شناخت ممکن ہو، جبکہ پاکستانی ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس کی پیشہ ورانہ ترقی، عالمی سطح پر پہچان اور روزگار کے مواقع کو بھی تقویت ملے۔
یہ اقدام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کے تحت کیا جا رہا ہے، جس میں سیکشنز 2(c)، 47(2)(k) اور 27 شامل ہیں۔ یہ دفعات سی پی ڈی مواقع اور تنظیموں کو تسلیم کرنے، نیز رجسٹرڈ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل و ڈینٹل پریکٹیشنرز کے لیے یکساں کم از کم سی پی ڈی معیار قائم کرنے کا قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔
