ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے شفاف اور قابل عمل بجلی نظام ناگزیر قرار

newsdesk
4 Min Read
ADS کے زیر اہتمام مکالمے میں پاور مارکیٹ اصلاحات، ٹریس ایبلٹی اور ٹیکسٹائل مسابقت پر گفتگو کی گئی۔

فیصل آباد: پاکستان کے برقی منڈی کے اصلاحاتی عمل کو ایک ایسے توانائی نظام میں ڈھلنا ہوگا جو تجارتی طور پر قابل عمل، قابل اعتماد اور شفاف ہو، تاکہ ملک کا برآمدی ٹیکسٹائل شعبہ مسابقت برقرار رکھ سکے اور توانائی کی بچت، قابل تجدید توانائی کے انضمام اور صنعتی ڈی کاربنائزیشن کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار الٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز (ADS) کے زیر اہتمام منعقدہ مکالمے “Threads of Accountability: Traceability and Energy Policy for Textile Competitiveness” میں کیا گیا۔ نشست میں ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، پاور سیکٹر کے ماہرین، پائیداری اور تصدیق کے ماہرین، کاروباری نمائندوں اور قابل تجدید توانائی سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

مکالمے میں پاکستان کی بدلتی ہوئی پاور مارکیٹ اور توانائی منتقلی کے برآمدی ٹیکسٹائل صنعت پر عملی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ گفتگو کا مرکز مسابقتی بنیادوں پر بجلی کی خریداری، توانائی تحفظ، ای ایس جی تقاضوں کی پاسداری، ٹریس ایبلٹی اور ڈی کاربنائزیشن رہا۔

افتتاحی کلمات میں ADS کے چیف ایگزیکٹو امجد نذیر نے Shared Transition Responsibility Movement (STRM) کا تعارف کرایا اور کہا کہ صنعتی ڈی کاربنائزیشن کے مالی اور تکنیکی بوجھ کو مینوفیکچررز، برانڈز اور فنانسرز کے درمیان مشترکہ طور پر برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔

ADS کے انرجی ٹرانزیشن آفیسر محمد عثمان بن احمد نے Competitive Trading Bilateral Contract Market (CTBCM) اور صنعتی مسابقت کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے مسابقتی خریداری، دوطرفہ معاہدوں اور وہیلنگ کے ذریعے صنعت کی شمولیت، Use of System Charges (UoSC)، سکیورٹی گارنٹیز، بیلنسنگ و سیٹلمنٹ اور قابل تجدید توانائی کی فراہمی کے لیے فرم کپیسٹی کی ضروریات پر روشنی ڈالی۔

مکالمے میں بتایا گیا کہ نیپرا کے ستمبر 2026 کے تعین کے مطابق B-3 صارفین کے لیے مؤثر UoSC 9 روپے 46 پیسے فی کلو واٹ آور اور B-4 صارفین کے لیے 12 روپے 32 پیسے فی کلو واٹ آور ہے، جس میں Distribution of Subsidy Surcharge کی مد میں 3 روپے 23 پیسے فی کلو واٹ آور شامل ہیں۔

ماہرین نے نیٹ ورک کی گنجائش، میٹرنگ، ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں اور صنعت کی بامعنی شمولیت کے لیے درکار پیش بینی اور پالیسی تسلسل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ FPCCI کی انرجی ایڈوائزری کمیٹی کے سربراہ ریحان جاوید نے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں اضافے کی نشاندہی کی، جبکہ پائیداری کے ماہرین نے ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی، لائف سائیکل ڈیٹا، تصدیق اور قابل اعتماد ماحولیاتی رپورٹنگ کے امور پر گفتگو کی۔

شرکا نے زور دیا کہ صنعتی ڈی کاربنائزیشن کی بنیاد توانائی کی کارکردگی، پراسیس آپٹمائزیشن اور ویسٹ ہیٹ ریکوری پر رکھی جانی چاہیے، جس کے بعد تجارتی طور پر موزوں صورت میں قابل تجدید توانائی، الیکٹریفیکیشن اور اسٹوریج کو اپنایا جائے۔

مکالمے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صرف پاور مارکیٹ کھول دینا کامیاب توانائی منتقلی نہیں کہلا سکتا، جب تک اصلاحات صنعت کو قابل اعتماد، شفاف اور معاشی طور پر قابل عمل توانائی حل فراہم نہ کریں۔

Share This Article