اسلام آباد: ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے بزنس انکیوبیشن سینٹر سے متعلق معلومات کے حصول کی درخواست ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تنازع کا شکار ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ایچ ایس اے کی جانب سے دیا گیا جواب بیشتر سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیتا بلکہ اس میں ایسی دستاویزات شامل کی گئیں جو مانگی گئی مخصوص معلومات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
یہ درخواست 26 اگست 2025 کو رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر اور پبلک انفارمیشن آفیسر کو جمع کرائی گئی تھی۔ درخواست گزار نے بزنس انکیوبیشن سینٹر سے متعلق تقریباً 19 نکات پر معلومات طلب کی تھیں، جن میں سینٹر کی منظوری، قانونی اختیار، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی شناخت، قواعد، مالی معاملات، عملہ، شراکت داریاں، اسٹارٹ اپس اور کارکردگی رپورٹس شامل تھیں۔
درخواست میں خاص طور پر ان اجلاسوں یا قراردادوں کی نقول مانگی گئی تھیں جن کے ذریعے بزنس انکیوبیشن سینٹر قائم کیا گیا، اس کے آپریشنز کو چلانے والے قواعد، اور ایچ ای سی، وزارت قومی صحت خدمات یا کسی دوسرے مجاز ادارے سے حاصل منظوری یا شناخت کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
درخواست گزار نے یہ بھی پوچھا تھا کہ آیا ایچ ایس اے بزنس انکیوبیشن سینٹر ایچ ای سی بزنس انکیوبیشن سینٹر پالیسی 2021 کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ کورسز اور سرٹیفکیٹس، قیام کے بعد وصول کی گئی فیسوں، گرانٹس اور عطیات، نجی و سرکاری شراکت داروں کے ساتھ معاہدوں، عملے کی تقرریوں اور تنخواہوں، انکیوبیٹڈ اسٹارٹ اپس، سالانہ رپورٹس، آڈٹس اور آمدن و اخراجات کے مکمل گوشواروں کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن کے روبرو 30 دسمبر 2025 کو جمع کرائے گئے درخواست گزار کے جواب الجواب کے مطابق ایچ ایس اے نے اصل درخواست کے سیریل نمبر 4 اور سیریل نمبر 7 کے تحت معلومات فراہم کیں، تاہم باقی معلومات کے اجرا سے استثنیٰ کا دعویٰ کیا۔
درخواست گزار نے کمیشن کو بتایا کہ ادارے کا جواب معلوماتی درخواست کے اصل نکات کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ باقی معلومات رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت فراہم کی جانی چاہئیں۔
بعد ازاں 11 مئی کو جمع کرائے گئے فالو اَپ میں درخواست گزار نے شکایت کی کہ عوامی ادارہ بظاہر بڑی تعداد میں مواد جمع کرا رہا ہے، مگر اسے اصل سوالات سے براہ راست منسلک نہیں کیا جا رہا۔ درخواست گزار نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے استدعا کی کہ ایچ ایس اے کی فراہم کردہ دستاویزات کا اصل آر ٹی آئی درخواست سے موازنہ کیا جائے اور مکمل معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ایچ ایس اے کے جواب کے طور پر بیان کردہ دستاویزی پیکج میں اکتوبر 2024 کے ایچ ایس اے سنڈیکیٹ اجلاس کی کارروائی، انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ پروگراموں کے تعلیمی قواعد و ضوابط، بزنس انکیوبیشن سینٹرز سے متعلق ایچ ای سی پالیسی، ایچ ایس اے میں کام کرنے والے تین اسٹارٹ اپس کی مختصر فہرست، اور 30 جون 2023 کو ختم ہونے والے سال کے آڈٹ شدہ مالی گوشوارے شامل تھے۔
دستاویزات میں جن تین اسٹارٹ اپس کا ذکر کیا گیا وہ Health and Wellness Centre، Tax and Legal، اور Capacity Training کے نام سے شناخت کیے گئے۔
درخواست گزار کی شکایت یہ ہے کہ فراہم کردہ دستاویزات بزنس انکیوبیشن سینٹر سے متعلق اٹھائے گئے بیشتر مخصوص سوالات کے براہ راست جواب فراہم نہیں کرتیں۔
آر ٹی آئی درخواست میں حکومتی اور ایچ ای سی فنڈنگ، نجی عطیات، غیر سرکاری تنظیموں اور غیر ملکی ڈونرز کی معاونت، Enablers اور Keytaab جیسے شراکت داروں سے متعلق مالی شرائط، بی آئی سی عملے کے نام اور تنخواہیں، اور سینٹر کے تحت کام کرنے والے ہر اسٹارٹ اپ کی موجودہ حیثیت کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔
درخواست گزار نے ایچ ایس اے کے جواب میں اس سے منسوب ان ریمارکس پر بھی اعتراض کیا جن میں اسے ہراسانی اور مذموم عزائم سے جوڑا گیا تھا۔ اپنے جواب الجواب میں اس نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اے اور رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات طلب کرنا ہراسانی قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کمیشن ایسے ریمارکس کو نظر انداز کرے۔
درخواست گزار کا مزید دعویٰ ہے کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود سوالات کے مکمل جواب فراہم نہیں کیے گئے۔ اس کے مطابق ایچ ایس اے نے براہ راست جواب دینے کے بجائے بار بار گمراہ کن یا غیر متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں۔ درخواست گزار نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی درخواست کی ہے۔
یہ معاملہ اس وسیع سوال کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عوامی ادارے آر ٹی آئی درخواستوں کا جواب کس انداز میں دیتے ہیں، خاص طور پر جب شہری عوامی فنڈز، ادارہ جاتی فیصلوں اور حکومت کی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کرتے ہیں۔
