قائمہ کمیٹی تجارت کا ٹیرف اصلاحات، برآمدات اور تجارتی خسارے پر تفصیلی غور

newsdesk
7 Min Read
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اسلام آباد، 12 اگست 2026ء — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ٹیرف اصلاحات، برآمدات کے فروغ کے اقدامات، تجارت سے متعلق اہم اداروں کی کارکردگی، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ، مجوزہ قانونی ترامیم اور پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیرف اصلاحات کے تحت رواں سال صنعت کو تقریباً 120 ارب روپے کے ٹیرف فوائد منتقل کیے گئے، جن کا مقصد ملکی پیداوار کی معاونت اور مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہے۔ وزارت تجارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سابقہ ٹیرف کمیوں کے نتیجے میں برآمدات میں اندازاً 1.27 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ چیئرمین نے کہا کہ ٹیرف کو معقول بنانا محض صنعت کو رعایت دینے کا معاملہ نہیں بلکہ اضافی ٹیکسوں میں کمی، خام مال اور پیداواری لاگت گھٹانے اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے کی حکمت عملی ہے۔

اجلاس میں ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی تنظیمِ نو کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فنڈ کے انتظامی ڈھانچے میں نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کی طرف پیش رفت ہوئی ہے اور نمایاں برآمد کنندگان ترجیحات کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس پالیسی سمت کو سراہا کہ روایتی انفراسٹرکچر نوعیت کے منصوبوں کے بجائے ایسے اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کا برآمدات میں اضافے سے براہ راست اور قابلِ پیمائش تعلق ہو۔ کمیٹی نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے پورٹ فولیو میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے 40 فیصد مختص حصے کا بھی جائزہ لیا اور چھوٹے کاروباروں کو برآمدی فنانسنگ تک مساوی اور مناسب رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی نے پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کی کارکردگی اور سرمایہ کاری حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمپنی اپنے خطرات کا تقریباً 30 فیصد خود رکھتی ہے جبکہ تقریباً 70 فیصد لندن، دبئی اور سنگاپور سمیت بین الاقوامی ری انشورنس مارکیٹوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ چیئرمین نے کمپنی کے وسائل کے محتاط اور بہتر استعمال کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مضبوط رسک مینجمنٹ کے اصول برقرار رکھتے ہوئے منافع میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔

اجلاس میں ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ میں ترامیم سے متعلق نجی رکن کے بل، ٹریڈ آرگنائزیشنز (تیسری ترمیم) بل 2026ء، پر بھی غور کیا گیا، جو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے متعلق ہے۔ بحث کے دوران کراچی چیمبر کی منفرد حیثیت اور ضلع کی بنیاد پر بعض شقوں سے مجوزہ استثنا کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نے ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو وزارت تجارت اور وزارت قانون و انصاف کی مشاورت سے قانونی زبان میں مناسب طور پر ترتیب دیا جائے، جس کے بعد انہیں مزید غور کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

کمیٹی نے چین اور دیگر آزاد تجارتی معاہدوں کے شراکت دار ممالک کے ساتھ پاکستان کے مسلسل تجارتی خسارے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس عدم توازن کے اسباب کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیندک منصوبے اور معدنی برآمدات سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ پاکستان اپنے معدنی وسائل سے مناسب معاشی فائدہ حاصل کر رہا ہے یا نہیں۔

کمیٹی کو یکم جنوری 2027ء سے شروع ہونے والی مجوزہ جی ایس پی پلس اسکیم، اس کے عبوری دورانیے اور تعمیل کے تقاضوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ پاکستان کی تیاری، دستیاب مواقع، درپیش چیلنجز اور اسکیم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے درکار اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے۔

اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی مالی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا اور اس کے واجب الادا مارک اپ واجبات پر تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ یہ معاملہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ اٹھایا جائے، جبکہ واجب الادا رقوم اور ان کی ادائیگی کے لیے مجوزہ اقدامات پر جامع بریفنگ طلب کی گئی۔

موثر پارلیمانی نگرانی اور مزید غور کے لیے کمیٹی نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ، جی ایس پی پلس، چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے اور معدنی برآمدات پر تفصیلی پریزنٹیشنز اور جامع رپورٹس فراہم کی جائیں۔

متعلقہ فریقوں سے رابطہ مضبوط بنانے اور تجارتی اداروں کا زمینی جائزہ لینے کے لیے کمیٹی نے اپنا آئندہ اجلاس کراچی میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے دفاتر کے دورے اور تفصیلی بریفنگز شامل ہوں گی۔

اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے اراکین کی شرکت اور بحث میں قابلِ قدر کردار پر شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی شائستہ پرویز، کرن حیدر، طاہرہ اورنگزیب، خورشید احمد جونیجو، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، اسد عالم نیازی، ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی اور میر امیر علی خان مگسی نے ذاتی طور پر شرکت کی۔ بل کے محرک ڈاکٹر فاروق ستار بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزارت تجارت، وزارت قانون و انصاف اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سینئر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

Share This Article