اسلام آباد، 12 اگست 2026ء: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کار و استحقاقات نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے نام سے منسوب ایک جعلی تقرر/آفر لیٹر کی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو معاملے کی مزید تحقیقات کر کے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
قائمہ کمیٹی کا 17واں اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں رکن قومی اسمبلی محمد افضل کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں عبد الواجد کے نام سے جاری ہونے والے اس جعلی تقرر/آفر لیٹر کے معاملے کا جائزہ لیا گیا جسے غلط طور پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے منسوب کیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ ملزم عبد الواجد کو گرفتار کر کے متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیش کے لیے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے نام سے قومی اسمبلی کے جعلی شناختی کارڈز تیار کیے اور ایک جعلی تقرر نامہ بنایا جس میں خود کو قومی اسمبلی پاکستان کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ملزم کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ باقاعدہ ضبطی میمو کے تحت قبضے میں لے کر معائنے اور فرانزک تجزیے کے لیے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ غور و خوض کے بعد کمیٹی نے ایف آئی اے کو مزید تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا کہا۔
اجلاس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے میٹروپولیٹن آفیسر (ریگولیشن) جواد الحسن کی عدم حاضری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ مذکورہ افسر کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے۔
کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کی جانب سے سابق ڈائریکٹر جنرل سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ امتیاز علی شاہ کے خلاف پیش کردہ سوال استحقاق نمبر 71 پر بھی غور کیا۔ محرک نے نشاندہی کی کہ سابق ڈائریکٹر جنرل نے اجلاس میں عدم حاضری کے لیے کمیٹی سے تحریری رخصت حاصل نہیں کی تھی۔ اس پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مذکورہ افسر کو اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کار و کارروائی 2007ء کے قواعد 295، 296، 30، 31 اور 205 میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ تفصیلی غور، بحث اور وزارت پارلیمانی امور سمیت وزارت قانون و انصاف کی آراء لینے کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ قواعد 295، 296 اور 205 میں مجوزہ ترامیم منظور نہ کی جائیں، جبکہ قواعد 30 اور 31 میں تجویز کردہ ترامیم منظور کی جا سکتی ہیں۔
کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی جانب سے قاعدہ 44 میں پیش کی گئی ترامیم پر بھی غور کیا۔ بحث اور متعلقہ وزارتوں کی آراء کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ قاعدہ 44 میں مجوزہ ترامیم منظور نہ کی جائیں۔
قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کار و کارروائی 2007ء کے قواعد 118، 119 اور قاعدہ 234A کے حذف کیے جانے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بحث کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ قاعدہ 118 میں ترمیم ترامیم کے ساتھ منظور کی جائے اور قاعدہ 234A کو مجوزہ طور پر حذف کیا جائے۔ تاہم قاعدہ 119 میں مجوزہ ترمیم کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
محرک کی عدم دستیابی کے باعث کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کی جانب سے دیے گئے سوالات استحقاق کو بھی آئندہ اجلاس تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ مزید برآں کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی اظہر قیوم نہرا کی کنوینرشپ میں قائم ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی چوہدری نصیر احمد عباس، ناصر اقبال بوسال، وسیم قادر، اظہر قیوم نہرا، سردار محمد یعقوب خان ناصر، میر خان محمد جمالی، میر غلام علی تالپور، شگفتہ جمانی، خواجہ اظہار الحسن، سنجے پروانی، نعیمہ کشور خان اور چوہدری محمد شہباز بابر نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔ عالیہ کامران اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ بھی بطور محرک اجلاس میں شریک ہوئیں۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی اجلاس میں موجود تھے۔ وزارت پارلیمانی امور، وزارت قانون و انصاف اور ایف آئی اے کے سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
