اسلام آباد: انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (CAMEA) نے پاکستان افریقہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولپمنٹ اینڈ ریسرچ (PAIDAR) کے اشتراک سے مصر کے یومِ انقلاب کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام کیا۔
تقریب کا آغاز پاکستان اور مصر کے قومی ترانوں سے ہوا۔ اس موقع پر آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر معین الحق، آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود، پایدار کے صدر سینیٹر مشاہد حسین سید، مصر میں پاکستان کے سفیر عامر شوکت، ڈائریکٹر کامیا ڈاکٹر آمنہ خان، مصر کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر ایہاب عبدالحمید حسن اور وزارتِ خارجہ پاکستان کے ایڈیشنل فارن سیکریٹری (افریقہ) سفیر حمید اصغر خان نے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ایہاب عبدالحمید حسن تھے جبکہ سفیر حمید اصغر خان مہمانِ اعزاز تھے۔
سفیر معین الحق نے اپنے خطاب میں مصر کی قدیم تہذیبی میراث اور عرب، افریقی اور اسلامی دنیا میں اس کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر کی دوستی مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور قریبی تعاون پر استوار ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ’’انگیج افریقہ‘‘ پالیسی میں مصر کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ آئی ایس ایس آئی تحقیق، مکالمے اور پالیسی تبادلوں کے ذریعے مصری تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان میں مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب عبدالحمید حسن نے 23 جولائی 1952 کے انقلاب کو مصر کی جدید تاریخ کا فیصلہ کن سنگِ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق اس انقلاب نے قومی آزادی، خودمختاری اور سماجی انصاف کے اصولوں کو نمایاں کیا اور عرب دنیا، افریقہ اور گلوبل ساؤتھ میں آزادی کی تحریکوں کے لیے تحریک کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے دیرینہ اور کثیرالجہتی تعلقات اعلیٰ سطحی روابط اور دوطرفہ سیاسی مشاورت کے کامیاب دسویں دور کے بعد مزید رفتار پکڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مکالمے، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی تعاون سے متعلق دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ میں تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے کلمات میں 23 جولائی 1952 کے انقلاب کو مصر کی تاریخ کا اہم موڑ قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان اور مصر کی دیرینہ دوستی اور علاقائی امور پر مشترکہ نقطہ نظر کا ذکر کیا۔ انہوں نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے افریقہ کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے لیے کامیا کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے عرب دنیا میں مصر کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اسے خطے کا مرکزِ ثقل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر ان چند ممالک میں شامل تھا جن کا قائداعظم محمد علی جناح نے دورہ کیا۔ ان کے مطابق 1952 کا مصری انقلاب ایک فیصلہ کن موڑ تھا جس نے عرب دنیا میں قوم پرست تحریکوں کو متاثر کیا اور پاک مصر تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید واضح کیا۔
مصر میں پاکستان کے سفیر عامر شوکت نے پاکستان اور مصر کے پائیدار اور کثیرالجہتی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان قریبی سیاسی مکالمے اور دوطرفہ مشاورت کی حالیہ بحالی کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے مصر کی نمایاں ترقی کو سراہتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، علمی تبادلوں اور تھنک ٹینک تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
سفیر حمید اصغر خان نے مصر کے تہذیبی، ثقافتی اور فکری ورثے کو غیر معمولی قرار دیا اور قاہرہ کو تاریخ، علم اور مذہبی تنوع کا مرکز کہا۔ انہوں نے علاقائی امن، جنوبی تعاون اور اقتصادی رابطوں کے فروغ میں پاکستان کے لیے مصر کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سیاحت اور عوامی روابط میں دوطرفہ تعاون کے بڑھتے ہوئے امکانات پر بھی زور دیا۔
اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے مصر کے یومِ انقلاب کی اہمیت بیان کی اور امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ میں مصر کے بااثر شراکت دار کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان اور مصر کی دیرینہ دوستی کا ذکر کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
