پاکستان ایس ایم اے سمپوزیم 2026، نایاب مرض پر قومی و عالمی ماہرین کا تبادلہ خیال

newsdesk
6 Min Read
سیرینا ہوٹل اسلام آباد میں پاکستان ایس ایم اے سمپوزیم 2026 کے دوران ملکی و بین الاقوامی ماہرین شریک ہیں۔

پاکستان SMA سمپوزیم 2026: اسلام آباد میں اہم اجتماع، ملکی و غیر ملکی ماہرین، ڈاکٹرز، پروفیسرز اور محققین کی شرکت

اسلام آباد: STRIVE – Strive Eradication of Disability Foundation کے زیرِ اہتمام پاکستان SMA سمپوزیم 2026 اسلام آباد کے سیرینا ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں اسپائنل مسکولر اٹروفی (SMA) کے حوالے سے آگاہی، بروقت تشخیص، جدید علاج، جینیاتی اسکریننگ، تحقیق اور مریضوں و ان کے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

سمپوزیم میں چیف ہیلتھ سیکٹر ریفارمز یونٹ خیبر پختونخوا ڈاکٹر سید اعجاز علی شاہ، چیئرمین زکوٰۃ و عشر کونسل خیبر پختونخوا امتیاز خان، چیئرمین STRIVE محمد یاسر خان سمیت ڈاکٹرز، طبی ماہرین، محققین، سول سوسائٹی کے نمائندگان، SMA سے متاثرہ خاندانوں، رضاکاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

تقریب کی ایک اہم خصوصیت اسلام آباد اور راولپنڈی کی مختلف جامعات کے پروفیسرز، ہیڈز آف ڈیپارٹمنٹس (HODs) اور اکیڈمک ماہرین کی شرکت تھی، جنہوں نے SMA، جینیاتی امراض، تحقیق، جدید طبی پیش رفت اور مستقبل کی میڈیکل سائنس کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سمپوزیم میں بین الاقوامی سطح پر SMA پر کام کرنے والے ریسرچرز نے بھی شرکت کی، جن میں پولینڈ، برطانیہ (UK) اور دیگر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے محققین شامل تھے۔ غیر ملکی ماہرین کی شرکت نے پاکستان SMA سمپوزیم کو ایک بین الاقوامی علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم کی حیثیت دی، جہاں پاکستان میں SMA کے حوالے سے جاری کوششوں اور عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق و پیش رفت کے درمیان رابطے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف HSRU خیبر پختونخوا ڈاکٹر سید اعجاز علی شاہ نے SMA کے مریضوں کے والدین اور لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان خاندانوں کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اپنے بچوں کی زندگی اور بہتر مستقبل کے لیے مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ SMA جیسے پیچیدہ اور نایاب مرض کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مؤثر معاونت بھی ضروری ہے۔

چیئرمین STRIVE محمد یاسر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ SMA صرف ایک بیماری نہیں بلکہ ایک جنگ اور ایک تحریک ہے، جس میں مریض، والدین، ڈاکٹرز، محققین، حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی اور سماجی اداروں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ STRIVE کا مقصد SMA کے حوالے سے آگاہی کو ملک کے ہر حصے تک پہنچانا، بروقت تشخیص کو فروغ دینا، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور مریضوں کے لیے علاج و سہولیات تک رسائی کے راستے ہموار کرنا ہے۔

یاسر خان نے اعلان کیا کہ STRIVE کے زیرِ اہتمام 30 اور 31 اکتوبر 2026 کو ٹولپ مارکی، اسلام آباد میں ایک بڑے SMA Summit کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں SMA کے حوالے سے اپنی نوعیت کا ایک بڑا اجتماع ہوگا، جس میں ایک ہی چھت تلے مریضوں، والدین، ڈاکٹرز، طبی ماہرین، بین الاقوامی و ملکی محققین، پالیسی سازوں، جامعات، سول سوسائٹی، رضاکاروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا جائے گا۔

سمپوزیم کے دوران مختلف مقررین نے اسپائنل مسکولر اٹروفی کی علامات، بروقت تشخیص، جینیاتی اسکریننگ، جدید علاج، مریضوں کی نگہداشت، تحقیق اور پاکستان میں SMA کے حوالے سے مستقبل کی حکمتِ عملی پر اظہارِ خیال کیا۔ ڈاکٹرز اور محققین نے اس بات پر زور دیا کہ بروقت تشخیص، درست طبی رہنمائی اور جدید علاج تک رسائی SMA سے متاثرہ بچوں اور افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان میں SMA کے حوالے سے عوامی آگاہی، طبی سہولیات، جینیاتی تشخیص، تحقیق اور پالیسی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس نایاب بیماری سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو بہتر معاونت فراہم کی جا سکے۔

سمپوزیم کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ SMA کے خلاف آگاہی، تحقیق اور مریضوں کے حقوق کی جدوجہد کو مزید وسیع کیا جائے گا اور ملکی و بین الاقوامی ماہرین، حکومت، جامعات، طبی شعبے، میڈیا، سول سوسائٹی، مریضوں اور ان کے خاندانوں کے درمیان مضبوط رابطے کے ذریعے پاکستان میں SMA کے حوالے سے ایک مؤثر اور پائیدار نظام تشکیل دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

STRIVE کے مطابق پاکستان SMA سمپوزیم 2026 محض ایک تقریب نہیں بلکہ SMA کے خلاف ایک اجتماعی آواز، علمی و تحقیقی مکالمے اور ایک مضبوط تحریک کو آگے بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے۔

Share This Article