راولپنڈی: ہولی فیملی ہسپتال میں 5 سالہ بچے کا کٹا ہاتھ دوبارہ جوڑ دیا گیا

newsdesk
2 Min Read
ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے شعبہ پلاسٹک سرجری میں 5 سالہ بچے کے کٹے ہاتھ کی کامیاب ری پلانٹیشن کی گئی۔

راولپنڈی، 28 اگست 2026: ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے شعبہ پلاسٹک سرجری میں ڈاکٹروں نے جہلم سے ریفر کیے گئے 5 سالہ بچے کے جسم سے الگ ہو جانے والے ہاتھ کی کامیاب ری پلانٹیشن کر کے اہم طبی کامیابی حاصل کی ہے۔

ذرائع کے مطابق بچے کا ہاتھ ٹوکے کے وار سے شدید زخمی ہونے کے بعد مکمل طور پر جسم سے جدا ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد اسے فوری طور پر ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں 28 اگست 2026 کو شعبہ پلاسٹک سرجری میں معائنے کے بعد ہنگامی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈاکٹر طیب اور ڈاکٹر امبرین کی سربراہی میں طبی ٹیم نے پیچیدہ مائیکرو ویسکیولر سرجری کے ذریعے بچے کے کٹے ہوئے ہاتھ کو دوبارہ جسم کے ساتھ جوڑا۔ آپریشن کے دوران خون کی شریانوں، رگوں اور دیگر اہم ساختوں کو باریک تکنیک سے بحال کیا گیا تاکہ ہاتھ میں خون کی روانی دوبارہ قائم ہو سکے۔

ڈاکٹرز کے مطابق کمسن بچے میں ہاتھ کی ری پلانٹیشن نہایت پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے۔ ایسے کیسز میں بروقت ریفرل، کٹے ہوئے عضو کو درست طریقے سے محفوظ رکھنا اور ماہر مائیکرو سرجیکل ٹیم کی موجودگی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے شعبہ پلاسٹک سرجری نے اس کامیاب آپریشن کو پیچیدہ ٹراما کے علاج اور مائیکرو سرجری کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ آپریشن کے بعد بچے کو خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ ہاتھ میں خون کی روانی اور بحالی کے عمل کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ کسی حادثے میں جسم کا کوئی عضو کٹ جائے تو اسے براہ راست برف پر نہ رکھا جائے۔ ایسے عضو کو صاف پلاسٹک بیگ میں محفوظ کر کے اس بیگ کو برف والے دوسرے برتن میں رکھا جائے اور مریض کو فوری طور پر مائیکرو سرجری کے مرکز منتقل کیا جائے۔

Share This Article