ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج تک رسائی کے لیے پاکستان میں پیش رفت

newsdesk
4 Min Read
پاکستان چین بی ٹو بی ہیلتھ کانفرنس کے بعد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے جدید علاج کو پاکستان میں متعارف کرانے کے لیے ریگولیٹری عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد: پاکستان چین بی ٹو بی ہیلتھ کانفرنس کے بعد پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا (ایچ ڈی وی) کے مریضوں کے لیے ایک جدید علاج متعارف کرانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ریگولیشنز و کوآرڈینیشن سید مصطفیٰ کمال کی قیادت میں اس علاج کو ایمرجنسی یوز آتھرائزیشن (ای یو اے) کے راستے سے پاکستان میں دستیاب بنانے کے منصوبے آگے بڑھے ہیں۔

یہ تھراپی اس سے قبل امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) سے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج کے لیے بریک تھرو تھراپی ڈیزگنیشن حاصل کر چکی ہے، جس سے اس کی اس سنگین بیماری میں ممکنہ افادیت کی عکاسی ہوتی ہے جہاں علاج کی بڑی ضرورت موجود ہے۔

گزشتہ سات ماہ سے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال معروف ہیپاٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید حمید اور پاکستان کے کلینیکل ریسرچ ماہر سید منور علی کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہے ہیں تاکہ ملک میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹا جا سکے اور جدید علاج تک رسائی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

اس اقدام کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرل ہیپاٹائٹس کی سنگین ترین اقسام میں سے ایک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو یہ مرض پھیلتا رہ سکتا ہے اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کو جگر کی شدید پیچیدگیوں کے زیادہ خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔

وزیر کی مسلسل دلچسپی اور فالو اَپ کے نتیجے میں اس تھراپی کو تیار کرنے والی چینی بایوٹیکنالوجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے بی ٹو بی ہیلتھ کانفرنس کے دوران پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبید اللہ ملک سے مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان میں فیز تھری کلینیکل ڈویلپمنٹ پروگرام کو تیز ریگولیٹری راستے کے ذریعے آگے بڑھانے اور ساتھ ہی ایمرجنسی یوز آتھرائزیشن کے لیے درکار قانونی و سائنسی جائزے کو آگے بڑھانے پر توجہ دی گئی۔

یہ کوششیں ایل سی آئی فارما کے ساتھ قریبی تعاون سے جاری ہیں، جس کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف صدیقی کر رہے ہیں، تاکہ ریگولیٹری عمل میں معاونت کی جا سکے اور علاج کو پاکستانی مریضوں کے لیے جلد از جلد دستیاب بنانے میں مدد ملے۔

ماہرین صحت کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے مشتبہ مریضوں کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہو سکتی ہے، جن میں سے بہت سے افراد کی تشخیص ابھی تک نہیں ہو سکی۔ توقع ہے کہ یہ اقدام جدید علاج تک رسائی بہتر بنا کر اور کلینیکل ریسرچ کی صلاحیت میں اضافہ کر کے اس جان لیوا بیماری کے خلاف پاکستان کے ردعمل کو مضبوط کرے گا۔

یہ بریک تھرو دوا چین، امریکا، منگولیا اور پاکستان میں فیز ٹو کلینیکل ایویلیوایشن سے گزر چکی ہے، جہاں کلینیکل ڈویلپمنٹ کے دوران اس کا سیفٹی پروفائل سازگار رہا۔ کلینیکل پروگرام میں پاکستان کی شمولیت بین الاقوامی طبی تحقیق میں ملک کے بڑھتے ہوئے کردار اور مریضوں تک جدید علاج پہنچانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

وزارت قومی صحت، ڈریپ، کلینیکل ریسرچرز اور صنعتی شراکت داروں نے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ باقی ماندہ ریگولیٹری تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں گے، تاہم علاج کو پاکستان میں مریضوں کے لیے دستیاب کرنے سے قبل تمام سائنسی، حفاظتی اور قانونی معیارات کو مکمل طور پر پورا کیا جائے گا۔

Share This Article