اسلام آباد: سماجی و سیاسی رہنما اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق مشیر زبیر احمد جرال نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور نمائندگی کے معاملے میں ہر شہری کے لیے یکساں اصول اپنائے جانے چاہییں۔
پاکستان میں رہنے والے کشمیریوں کے انتخابی حقوق اور آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے زبیر احمد جرال نے کہا کہ پاکستان میں آباد لاکھوں کشمیری تقسیمِ ہند کے متاثرین کی اولاد ہیں، جنہوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے لوگوں کو کشمیری شناخت اور سیاسی نمائندگی سے محروم کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں مقیم کشمیریوں سے ووٹ یا نمائندگی کا حق واپس لیا جاتا ہے تو پھر بیرونِ ملک دوہری شہریت رکھنے والے کشمیریوں کے انتخابی حقوق کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ سب کے لیے ایک ہی معیار نافذ ہو۔
زبیر احمد جرال نے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی ووٹر فہرستوں پر بھی اعتراض اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان میں رہنے والے کشمیریوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جامع تصدیق کی ضرورت ہے تاکہ درست حقائق سامنے آ سکیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اپنے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات، کارکنوں کی قربانیوں اور مسئلہ کشمیر سے متعلق تاریخی مؤقف پر قائم رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث کارکنوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
زبیر احمد جرال نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل کی کہ وہ متعلقہ اداروں کو موجودہ احتجاج، اس کی مبینہ فنڈنگ اور اس سے جڑے تمام معاملات کا شفاف جائزہ لینے کی ہدایات جاری کریں۔
انہوں نے تجویز دی کہ اگر مہاجر نشستوں کے موجودہ نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں تو پاکستان میں مقیم کشمیریوں کی نمائندگی مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ایک متوازن نظام وضع کیا جائے، جس سے ان کی شناخت اور سیاسی نمائندگی برقرار رہے، جبکہ انتخابی عمل میں ضروری اصلاحات بھی کی جا سکیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر زبیر احمد جرال نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے کشمیریوں کے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، اس لیے تمام متعلقہ اداروں کو انصاف اور مساوات کے اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہییں۔
