مزدوروں کی اجرت بڑھانے اور لیبر کوڈ کی متنازع شقیں واپس لینے کا مطالبہ

newsdesk
4 Min Read
نیشنل لیبر فیڈریشن کے وفد نے صوبائی وزیر محنت پنجاب سے ملاقات میں مزدوروں کے مسائل اور لیبر قوانین پر تحفظات پیش کیے۔

اسلام آباد/لاہور: نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے صدر شمس الرحمٰن سواتی کی قیادت میں صوبائی وزیر محنت پنجاب خواجہ منشاء اللہ بٹ سے ملاقات کی، جس میں پنجاب کے محنت کشوں کو درپیش مسائل، کم از کم اجرت، لیبر قوانین، سماجی تحفظ، لیبر انسپیکشن اور صنعتی تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

وفد میں نیشنل لیبر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل چوہدری حسیب الرحمٰن، وسطی پنجاب ریجن کے صدر امین منہاس اور لاہور کے صدر سید عبدالعزیز شگری بھی شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ بجٹ میں کم از کم اجرت میں اضافہ نہ ہونے سے مزدور طبقے میں شدید مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

وفد نے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ، بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے محنت کش خاندانوں کے لیے زندگی گزارنا نہایت مشکل بنا دیا ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت میں فوری اور حقیقت پسندانہ اضافہ کیا جائے تاکہ مزدور باوقار زندگی گزار سکیں۔

ملاقات میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ حکومت کی جانب سے راشن کارڈ، سبسڈی اور دیگر سماجی بہبود کی اسکیموں کے ذریعے فراہم کی جانے والی امداد کو اجرتی نظام کا حصہ بنایا جائے اور ان کے مساوی مالی وسائل کم از کم اجرت میں شامل کیے جائیں۔ وفد کے مطابق اس اقدام سے مزدوروں کو براہِ راست فائدہ ہوگا، امدادی نظام میں شفافیت آئے گی اور کرپشن و سیاسی مداخلت کے راستے بند کیے جا سکیں گے۔

صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمٰن سواتی نے پنجاب لیبر کوڈ کے مسودے میں شامل متنازع دفعات پر بھی تفصیلی تحفظات پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ بعض شقیں یونین سازی کی آزادی کو محدود کرتی ہیں، اجتماعی سودے بازی کے حق کو کمزور بناتی ہیں، غیر رسمی روزگار کو قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں اور آجر کی تعریف و اقسام کے ذریعے مزدوروں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتی ہیں۔

شمس الرحمٰن سواتی نے کہا کہ انہی دفعات پر حالیہ بین الاقوامی لیبر کانفرنس آئی ایل او میں ورکرز گروپ نے سخت تحفظات ظاہر کیے تھے، جس پر وفاقی حکومت کے نمائندوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ متنازع دفعات پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں واپس لیا جائے گا۔

وفد نے پنجاب میں لیبر انسپیکشن کے نظام کو مؤثر بنانے، پیشہ ورانہ صحت و حفاظت کے قوانین پر سخت عمل درآمد، لیبر گورننس کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور محکمہ محنت کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔

صوبائی وزیر محنت خواجہ سلمان منہاس نے وفد کی تجاویز اور مطالبات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ کم از کم اجرت میں اضافے کا مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب لیبر کوڈ سے متعلق مزدور تنظیموں کے تحفظات، لیبر انسپیکشن کے نظام میں بہتری اور دیگر متعلقہ امور کو مناسب فورمز پر زیر غور لایا جائے گا اور قابلِ عمل سفارشات کی روشنی میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے امید ظاہر کی کہ پنجاب حکومت مزدوروں کے جائز مطالبات کو ترجیح دے گی اور ایسے عملی اقدامات کرے گی جن سے محنت کش طبقے کو معاشی تحفظ، سماجی انصاف اور آئینی و قانونی حقوق کی مؤثر ضمانت مل سکے۔

Share This Article