پاکستان، جرمنی کا انسانی حقوق اور مذہبی آزادی پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

newsdesk
5 Min Read
اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے جرمن کمشنر تھامس ریچل نے جرمن سفیر انا لیپل کے ہمراہ ملاقات کی۔

اسلام آباد، 14 ستمبر 2026ء: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے جرمن وفاقی حکومت کے کمشنر برائے آزادیٔ مذہب یا عقیدہ تھامس ریچل نے ملاقات کی۔ جرمن سفیر برائے پاکستان محترمہ انا لیپل بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، آزادیٔ مذہب یا عقیدہ، اقلیتوں کے حقوق، آزادیٔ اظہار، کم عمری کی شادی، جبری شادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے جی ایس پی پلس فریم ورک سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جرمن کمشنر تھامس ریچل نے خطے میں امن کے فروغ، اقوام متحدہ کے اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی اور ادارہ جاتی اقدامات سے متعلق دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پیچیدہ سلامتی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ افغانستان میں جنگوں، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے اثرات نے پاکستان کے سماجی، ثقافتی اور مذہبی ماحول کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ مشکل سلامتی حالات کے باوجود حکومت انسانی حقوق، آزادیٔ مذہب یا عقیدہ، آزادیٔ اظہار، سیاسی سرگرمیوں، اقلیتوں کے حقوق اور خواتین و بچوں کے تحفظ کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے قیام سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ قانون سازی کے بعد کمیشن کی تشکیل کا عمل پارلیمانی سطح پر جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ یہ کمیشن اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور آزاد کردار ادا کرے گا۔

ملاقات کے دوران صحافیوں کے حقوق سے متعلق حالیہ ادارہ جاتی پیش رفت، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور قومی کمیشن برائے حیثیتِ خواتین کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیر نے کم عمری کی شادی کی روک تھام سے متعلق قانون سازی کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد بچوں، خاص طور پر کم عمر لڑکیوں، کو قبل از وقت شادی، صحت سے متعلق مسائل اور دیگر سماجی مشکلات سے محفوظ رکھنا ہے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یورپی یونین کا جی ایس پی پلس فریم ورک پاکستان کے لیے صرف تجارتی سہولت نہیں بلکہ انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ کے لیے ایک مفید ترغیبی نظام بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے تقاضے پاکستان میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے متعلق اصلاحات کے لیے اضافی محرک فراہم کرتے ہیں، جس سے بالخصوص معاشرے کے کمزور، محروم اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس کو محض تجارت اور کاروبار کے زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ اس کے انسانی اور سماجی پہلوؤں کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

جرمن کمشنر تھامس ریچل نے بین المذاہب مکالمے اور مذہبی رواداری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذہبی اور عقائدی پس منظر رکھنے والے افراد اور برادریوں کے درمیان باہمی احترام عالمی امن کے لیے ضروری ہے۔

تھامس ریچل نے کہا کہ جرمنی میں بھی مختلف مذہبی برادریاں آباد ہیں اور مختلف مذاہب کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں دیگر مذاہب اور گروہوں کے لیے احترام، برداشت اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں۔

دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ انسانی حقوق، آزادیٔ مذہب یا عقیدہ، قانون کی حکمرانی، بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے۔ ملاقات خوشگوار، دوستانہ اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

Share This Article