اسلام آباد، 31 اکتوبر 2026ء: ملک کی نمایاں عوامی، ادبی، پالیسی اور کاروباری شخصیات نے اسلام آباد میں ممتاز صنعت کار، ماہرِ تعلیم اور فلاحی شخصیت سید بابر علی کی 100ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی، جہاں محمد اظفر احسن کی کتاب “Syed Babar Ali, A Centennial Tribute” کی رونمائی کی گئی۔ تقریب کا اہتمام کارپوریٹ پاکستان گروپ اور نٹ شیل گروپ نے کیا۔
تقریب میں مقررین نے سید بابر علی کی زندگی، خدمات اور ملکی ترقی میں ان کے کردار کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر کہا گیا کہ کسی قومی ہیرو کو اس کی زندگی ہی میں اس انداز سے سراہا جانا ایک نادر مثال ہے اور سید بابر علی ان چند شخصیات میں شامل ہیں جنہیں اظفر احسن کی اس کتاب کی صورت میں یہ اعزاز حاصل ہوا۔
معروف شاعر اور دانشور افتخار عارف نے سید بابر علی سے اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ان کی کاروبار، صنعت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر زبان، ادب اور فنون کے لیے ان کی خدمات سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید بابر علی نے زبانوں، ادب، خطاطی اور روایتی و علاقائی علم کے قیمتی ذخیرے کو جس انداز میں محفوظ کیا، دنیا میں کسی ایک فرد کی جانب سے اس نوعیت کا کام کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پیکیجز گروپ سے کیا، جہاں انہیں سید بابر علی کی رہنمائی حاصل رہی، اور ان کا تعلق آج بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق سید بابر علی کی فکری تیزی، دانش، زاویۂ نظر اور وژن آج بھی غیر معمولی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ادارے بناتے ہیں، مگر سید بابر علی بذاتِ خود ایک ادارہ ہیں۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے 1980 کی دہائی میں سید بابر علی سے اپنی ابتدائی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیر معمولی صاحبِ بصیرت شخصیت ہیں، جو وہاں مواقع دیکھ لیتے تھے جہاں دوسروں کی نگاہ نہیں جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی سوچ سے پائیداری تک، سید بابر علی اپنے عہد سے بہت آگے تھے۔
سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ دنیا میں کامیابی کی انفرادی داستانیں بہت ملتی ہیں، مگر دیرپا اداروں کے قیام کی مثالیں کم ہیں۔ ان کے مطابق سید بابر علی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ایک نہیں بلکہ متعدد پائیدار ادارے قائم کیے۔
پاکستان کے سابق چیف آف ایئر اسٹاف (2015 تا 2018) ایئر چیف مارشل سہیل امان نے اقتصادی ترقی اور تعلیم کے شعبے میں سید بابر علی کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے لمز کو ان چند تعلیمی اداروں میں شمار کیا جنہیں عالمی سطح پر معیار کے حوالے سے تسلیم کیا جاتا ہے اور جس کے قیام کو ایک فرد کی کاوش سے منسوب کیا جاتا ہے۔
پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج کے چیئرمین ندیم کرامت نے کہا کہ سید بابر علی پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کی تشکیل دینے والی شخصیات میں شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی بینک، آئی ایف سی اور بینک آف امریکا کے ساتھ سید بابر علی کی طویل وابستگی کا ذکر کیا۔
پلینیٹو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر عائلہ ماجد نے لمز میں اپنے دنوں اور سید بابر علی سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات پاکستان کے صنعتی اور تعلیمی ڈھانچے میں گہرائی تک رچی بسی ہیں۔
تقریب کے اختتام پر کتاب کے مصنف محمد اظفر احسن نے بتایا کہ سید بابر علی کی جون میں 100ویں سالگرہ کے تناظر میں اس کتاب کی تیاری کا خیال کیسے سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ سید بابر علی کا فلسفہ دوسروں سے سیکھنے پر مبنی رہا ہے۔ اظفر احسن نے کتاب میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس کتاب کا مقصد اور پیغام نوجوان نسل کے لیے تحریک فراہم کرنا ہے۔
