پشاور: خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت ایتھلیٹ سلمیٰ علی نے ثابت کر دیا ہے کہ پختہ عزم اور مسلسل محنت سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کو عبور کر سکتی ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن جیسے قدامت پسند علاقے سے ابھرنے والی سلمیٰ علی آج پاکستان بھر کی نوجوان خواتین کے لیے ایک متاثر کن مثال بن چکی ہیں۔
سلمیٰ علی نے کراچی میں منعقدہ 54ویں نیشنل ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی نمائندگی کرتے ہوئے شاندار کارکردگی دکھائی اور ایک طلائی جبکہ دو چاندی کے تمغے اپنے نام کیے۔
مالاکنڈ ڈویژن میں عمومی معاشرتی روایات اکثر خواتین کے پیشہ ورانہ کھیلوں میں آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں، تاہم سلمیٰ علی نے اپنی صلاحیت، لگن اور مستقل مزاجی کے ذریعے اپنے خاندان کو قائل کیا۔ اب ان کا خاندان ان کے ایتھلیٹک خوابوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔
سلمیٰ علی نے یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب سے اسپورٹس سائنسز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ اس وقت پشاور میں معروف کوچ عابد آفریدی کی نگرانی میں سخت تربیت کر رہی ہیں۔ ان کے روزانہ کے معمولات میں فٹنس جم سیشنز، منظم غذائی شیڈول اور برداشت بڑھانے کی تربیت شامل ہے۔
میڈیا نمائندے غنی الرحمٰن سے گفتگو میں سلمیٰ علی نے کہا کہ قومی سطح پر کامیابی حاصل کرنا ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، تاہم ان کا اصل ہدف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا اور عالمی پوڈیمز پر سبز ہلالی پرچم بلند کرنا ہے۔
انہوں نے اپنی محنت اور اللہ تعالیٰ کے کرم پر بھرپور یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’اللہ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ ان شاء اللہ میری محنت رنگ لائے گی اور میں عالمی سطح پر قوم کا سر فخر سے بلند کروں گی۔‘‘
