اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ جو گاڑی اپنی اصل تیاری اور ڈیزائن کے وقت پانچ نشستوں والی کار ہو، وہ بعد میں نشستیں بڑھانے یا ساختی تبدیلی کے باعث کسٹمز قانون کے تحت دس یا اس سے زائد افراد کے لیے بنائی گئی گاڑی تصور نہیں کی جا سکتی۔ عدالت کے مطابق کسٹمز درجہ بندی کے تعین میں گاڑی کا اصل ڈیزائن اور بنیادی ساخت اہم رہتے ہیں۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تین رکنی بینچ کی جانب سے تحریر کیا۔ بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کر رہے تھے جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی اس کا حصہ تھے۔ سول پٹیشن نمبر 4459 آف 2023 کا فیصلہ 18 اگست 2026 کو سماعت کے بعد جاری کیا گیا۔ مقدمہ کلیکٹر آف کسٹمز، ماڈل کسٹمز کلیکٹوریٹ پشاور بنام شاہد محمد و دیگر سے متعلق تھا۔
معاملہ شاہد محمد کی جانب سے کسٹمز ڈرائی پورٹ پشاور کے ذریعے درآمد کی گئی ایک لموزین سے متعلق تھا۔ گاڑی کا VIN نمبر 2C3KA53G97H610047 تھا اور اسے گڈز ڈیکلریشن نمبر PDRY HC 1165 مورخہ یکم نومبر 2011 کے تحت درآمد کیا گیا۔ کلیئرنگ ایجنٹ نے ابتدا میں گاڑی کو PCT ہیڈنگ 87.02 کے تحت ظاہر کیا، جو ڈرائیور سمیت دس یا اس سے زائد افراد کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن کی گئی موٹر گاڑیوں سے متعلق ہے۔
کسٹمز حکام نے جانچ پڑتال کے دوران پایا کہ یہ ایک اسٹریچڈ لموزین تھی جو اصل میں پانچ نشستوں والی کار کے طور پر ڈیزائن کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر کسٹمز نے گاڑی کو PCT ہیڈنگ 87.03 کے تحت رکھا، جو موٹر کاروں اور افراد کو لے جانے کے لیے بنیادی طور پر بنائی گئی دیگر گاڑیوں سے متعلق ہے، سوائے ان گاڑیوں کے جو ہیڈنگ 87.02 میں آتی ہیں۔ گاڑی کی اسیسمنٹ PCT 8703.2490 کے تحت کی گئی اور شاہد محمد نے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے فرق کی ادائیگی کے بعد گاڑی ریلیز کرا لی۔
بعد ازاں شاہد محمد نے اسلام آباد میں وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا۔ ایف ٹی او نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی کہ درجہ بندی کے معاملے کا قانون کے مطابق فیصلہ کرایا جائے۔ اس کے بعد معاملہ ڈپٹی کلیکٹر کسٹمز، ایڈجیوڈیکیشن، پشاور کے سامنے آیا، جنہوں نے 3 اکتوبر 2012 کو محکمانہ درجہ بندی PCT 8703.2490 کو برقرار رکھا۔
شاہد محمد نے اس فیصلے کو کلیکٹر کسٹمز اپیلز، پشاور کے سامنے چیلنج کیا، تاہم 27 دسمبر 2012 کو ان کی اپیل خارج کر دی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل، پشاور بینچ سے رجوع کیا۔ ٹربیونل نے 6 مئی 2014 کو اپیلیٹ آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی کی درجہ بندی PCT 8702.9090 کے تحت ہونی چاہیے۔ ٹربیونل نے ان سے وصول کیے گئے اضافی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی واپسی کا بھی حکم دیا۔
کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نے ٹربیونل کے فیصلے کو کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 196 کے تحت کسٹمز ریفرنس نمبر 12 پی آف 2014 کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے 5 اکتوبر 2023 کے فیصلے میں قانونی سوالات محکمہ کسٹمز کے خلاف نمٹاتے ہوئے ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس کے بعد کسٹمز ڈیپارٹمنٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایڈووکیٹ سپریم کورٹ عاطف علی خان پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گاڑی اصل میں پانچ نشستوں والی موٹر کار کے طور پر ڈیزائن اور تیار کی گئی تھی، بعد میں اسے کھینچ کر اور تبدیل کر کے زیادہ مسافروں کے لیے بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ بعد کی تبدیلی کسٹمز درجہ بندی کے لیے گاڑی کی بنیادی نوعیت تبدیل نہیں کر سکتی۔ سید رفاقت حسین شاہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے طور پر پیش ہوئے۔
سپریم کورٹ نے PCT ہیڈنگ 87.02 اور 87.03 کے فرق کا جائزہ لیا۔ عدالت نے کہا کہ ہیڈنگ 87.02 ان گاڑیوں کے لیے ہے جو ڈرائیور سمیت دس یا اس سے زائد افراد کی نقل و حمل کے لیے ہوں، جبکہ ہیڈنگ 87.03 موٹر کاروں اور افراد کو لے جانے کے لیے بنیادی طور پر بنائی گئی دیگر گاڑیوں سے متعلق ہے، جو ہیڈنگ 87.02 میں شامل نہ ہوں۔ عدالت کے مطابق درجہ بندی کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہو سکتا کہ بعد ازاں تبدیلی کے بعد گاڑی میں کتنے افراد بیٹھ سکتے ہیں۔
بینچ نے ریکارڈ سے قرار دیا کہ گاڑی اصل میں پانچ نشستوں والی گاڑی کے طور پر ڈیزائن اور تیار کی گئی تھی۔ مینوفیکچرر کی ویب سائٹ سے دستیاب معلومات اور VIN کے جائزے نے بھی اس کے اصل ڈیزائن کی تصدیق کی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شاہد محمد کی جانب سے جس سیل سرٹیفکیٹ پر انحصار کیا گیا وہ اصل مینوفیکچرر کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا، اس لیے وہ گاڑی کے اصل ڈیزائن سے متعلق شواہد کو ختم نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے وضاحتی نوٹس پر بھی انحصار کیا اور کہا کہ متعلقہ ٹیرف ہیڈنگ میں لفظ “ڈیزائنڈ” اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت کے مطابق ساختی تبدیلی کے ذریعے بعد میں نشستوں کا اضافہ کسی گاڑی کو ایسی گاڑی نہیں بنا دیتا جو اصل طور پر دس یا اس سے زائد افراد کو لے جانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہو۔
عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے کلیکٹر آف کسٹمز کراچی بنام میسرز محمد شفیق، رپورٹڈ 2022 SCMR 2107، کا بھی حوالہ دیا۔ اس مقدمے میں بھی ہیڈنگ 87.02 اور 87.03 سے متعلق یہی سوال زیر غور آیا تھا اور عدالت نے گاڑی کے مینوفیکچرر سرٹیفکیٹ اور اصل نشستوں کی گنجائش کو اہم قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ پانچ نشستوں والی اصل تیار شدہ گاڑی محض بعد میں نشستیں بڑھانے سے دس یا اس سے زائد افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی گاڑی نہیں بن جاتی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ درآمد کے وقت گاڑی میں اضافی نشستوں کی موجودگی بذات خود یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ گاڑی اصل میں دس یا اس سے زائد افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی۔ ٹیرف درجہ بندی کے لیے اصل ڈیزائن اور ساخت متعلق رہتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کلیکٹر آف کسٹمز بنام میسرز محمد شفیق، اسپیشل کسٹمز ریفرنس ایپلی کیشن نمبر 1229 آف 2015، فیصلہ مورخہ 29 جنوری 2016، پر انحصار کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ موجودہ ریفرنس کے فیصلے سے قبل ہی سپریم کورٹ محمد شفیق کیس میں کالعدم قرار دے چکی تھی۔
سپریم کورٹ نے پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا اور پشاور ہائی کورٹ کا 5 اکتوبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں گاڑی کی اصل پانچ نشستوں والی ساخت کی بنیاد پر اسے PCT ہیڈنگ 87.03 کے تحت درجہ بند کرنے کا مؤقف برقرار رہا، اگرچہ بعد میں اس میں ساختی تبدیلی کی گئی تھی۔

