رپورٹ: نائلہ بتول
اسلام آباد میں ’’دی چائلڈ پروٹیکٹرز آف پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، چائلڈ پروٹیکشن کے نظام کو مؤثر بنانے اور بچوں سے زیادتی کی روک تھام کے لیے آگاہی بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے اسکولوں کی سطح پر بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی اور تربیت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ، والدین اور میڈیا کے لیے عملی تربیتی مواد اور آگاہی مینولز تیار کیے جائیں تاکہ وہ بچوں کو درپیش مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور ضرورت پڑنے پر بروقت مدد فراہم کر سکیں۔
اجلاس میں ابتدائی طور پر تیار کیے جانے والے مینول کے مختلف نکات بھی زیر غور آئے۔ شرکاء نے کہا کہ بچوں کی بات توجہ سے سننا، ان کے ساتھ تعاون کرنا اور انہیں ڈانٹنے یا سخت سزا دینے سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے۔ والدین اور اساتذہ کو بچوں کے رویے اور جذبات میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ بعض اوقات اچانک رویے یا جذباتی تبدیلی کسی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔
شرکاء کے مطابق والدین کی تربیت میں یہ پہلو خاص طور پر شامل کیا جانا چاہیے کہ وہ بچوں کے رویے کو سمجھیں، انہیں اعتماد اور تحفظ کا احساس دیں اور کسی مشکل کی صورت میں ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے ان کی بات سن کر معاونت کریں۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے صرف واقعات کے بعد کارروائی کافی نہیں، بلکہ پیشگی آگاہی، بہتر رابطہ، جذباتی معاونت اور حفاظتی تربیت بھی یکساں طور پر ضروری ہیں۔
اجلاس میں ڈاکٹر رحیم اعوان، انیلا ایاز چوہدری، سید اشتیاق گیلانی، مہوش گیلانی، نائلہ بتول، وقاص واجد، عاطف مغل، فرح باجوہ، عدنان بخاری، افشاں کیانی، سعید اختر اور ڈاکٹر تیمور نے شرکت کی۔
شرکاء نے بچوں کے تحفظ سے متعلق مجوزہ مینولز کی تیاری کو آگے بڑھانے اور اساتذہ، والدین اور میڈیا کے لیے آگاہی و تربیتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
