پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل کو دانستہ نقصان پہنچایا، بیرسٹر دانیال چودھری

newsdesk
3 Min Read
وفاقی پارلیمانی سیکریٹری بیرسٹر دانیال چودھری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

اسلام آباد: وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا ہے کہ حکومت مفاہمت پر پختہ یقین رکھتی ہے اور سیاسی معاملات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتی رہی ہے، تاہم پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل کو دانستہ طور پر سبوتاژ کیا۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا کہ حکومت نے مکمل خلوص کے ساتھ پی ٹی آئی سے رابطہ رکھا اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کے متعدد نمائندے بھی مذاکراتی عمل میں شریک رہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے تیار ہے اور سیاسی اختلافات کو جمہوری انداز میں بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ بیرسٹر دانیال چودھری کے مطابق مذاکرات کے معاملے پر پی ٹی آئی کے اندر واضح قیادت کا فقدان رہا، جبکہ حکومت نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدگی دکھائی۔

وفاقی پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ بعض عناصر عوام کو گمراہ کرنے اور نفرت و تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی مفاد میں تمام جماعتوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے تاکہ سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں کے دوران صوبے میں گورننس، عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کو فروغ ملا، جبکہ بنیادی سہولتیں اور انتظامی بہتری بدستور حاصل نہ ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2 ہزار سے زائد واقعات پیش آئے، جبکہ دہشت گرد حملوں میں 72 سے زائد اہلکار جان سے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ قومی کوششیں ناگزیر ہیں۔

بیرسٹر دانیال چودھری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود حکومت تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے مکالمہ اور مشاورت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

Share This Article