رائل سوسائٹی آف کیمسٹری نے اپنی اعزازیات میں سے ایک، کیمسٹری بایولوجی انٹرفیس ہورائزن انعام ۲۰۲۶ سے گلوبل نگلیجڈ ٹراپیکل ڈیزیز نیٹ ورک کو نوازا ہے، جو عالمی سطح پر لیشمانیا اور چاگاس کی بیماریوں کے خلاف تحقیق میں نئے زاویے کھول رہی ہے۔اس بین الاقوامی منصوبے میں پاکستانی محققین مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں جن کی قیادت پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری نے کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری او آئی سی کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل کے طور پر نیٹ ورک میں اہم رابطہ کار رہے اور پاکستانی سائنسی برادری کے لیے یہ ایک تاریخی اعزاز ثابت ہوا۔جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اور بایولوجیکل سائنسز کے محققین پروفیسر ڈاکٹر سمر یوسف اور ڈاکٹر صبا فاروق اس ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے کیمسٹری اور ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مولیکیولر میڈیسن اور دوا سازی کی تحقیق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان محققین نے مشترکہ محنت سے ایسے تحقیقی اوزار تیار کیے جن کی بدولت بیماریوں کے نئے دوا اہداف کی شناخت ممکن ہوئی۔منصوبے کا بنیادی مقصد نئی تکنیکوں اور ٹولز کی تیاری تھی جو متعدد نئے دوا اہداف کی شناخت اور ان کی کیمیائی و جینیاتی توثیق فراہم کریں۔ یہ کام خاص طور پر لیشمانیا اور چاگاس جیسی نظر انداز شدہ گرم علاقوں کی بیماریوں پر مرکوز ہے، اور اس سلسلے میں حاصل شدہ نتائج نے دوا کی دریافت کے عمل کو آگے بڑھانے میں واضح مدد دی ہے، جو سائنس میں کامیابی کے مترادف ہے۔اس تحقیق کو گلوبل چیلنجز ریسرچ فنڈ کی معاونت حاصل تھی اور میڈیکل ریسرچ کونسل کے تعاون سے ڈرمھم یونیورسٹی برطانیہ کی قیادت میں یہ بین الاقوامی تعاون جاری رہا۔ منصوبے میں برطانیہ، یوراگوئے، بھارت، برازیل، ارجنٹینا اور پاکستان کے محققین شامل تھے، جنہوں نے مشترکہ کوششوں سے نچلی آمدنی والے علاقوں میں بیماریوں کے علاج کے نئے دروازے کھولے۔یہ عالمی شناخت نہ صرف شریک محققین کی محنت کا ثمر ہے بلکہ پاکستان کی سائنسی صلاحیتوں اور بین الاقوامی تعاون میں اس کے مؤثر کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اس اعزاز سے مقامی تحقیقی اداروں کی قدر میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں دوا سازی اور حیاتیاتی تحقیق میں مزید سرمایہ کاری اور تعاون کے راستے کھلنے کی امید پیدا ہوتی ہے۔
