سندھ میں ضلع ساؤتھ کے لیے ماڈل ویکسینیشن مرکز

newsdesk
4 Min Read
عالمی ادارہ صحت اور سندھ حکومت نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اطفال کراچی میں ضلع ساؤتھ کے پچیس لاکھ افراد کے لیے ماڈل ویکسینیشن مرکز قائم کیا۔

ڈاکٹر اظہرہ فاضل پیچوہو کی قیادت میں سندھ حکومت اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ کی شرکت سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اطفال کراچی میں ایک نیا ماڈل ویکسینیشن مرکز قائم کیا گیا جو ضلع ساؤتھ کے تقریباً پچیس لاکھ افراد کی خدمت کرے گا۔ اس مرکز کا مقصد بچوں اور حاملہ خواتین تک معیاری حفاظتی ٹیکہ جات کی بلا معاوضہ فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔یہ ماڈل ویکسینیشن مرکز عالمی ادارہ صحت کی مالی معاونت اور ویکسین الائنس گیوی کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے اور یہاں عام قوت مدافعت بڑھانے والے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین کو ٹیٹنس اور ڈفتھیریا سے بچاؤ کے ٹیکے بھی فراہم کیے جائیں گے۔ مرکز میں بچوں کے لیے مخصوص ویکسینیشن علاقے، والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے انتظار کی جگہ، پانی و صفائی کے انتظامات، فرنیچر اور ویکسین محفوظ رکھنے کے لیے کول چین نظام موجود ہے جبکہ والدین کے رہنمائی کے لیے معلوماتی مواد بھی نمایاں انداز میں فراہم کیا گیا ہے۔سندھ کے پروگرامِ حفاظتی ٹیکہ جات کے سالانہ اہداف میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے مدد شامل ہے، جس کے تحت سالانہ ڈیڑھ ملین بچوں کو ویکسینیشن کی سہولت دی جاتی ہے جن میں تقریباً سات لاکھ بچے کراچی میں شامل ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اطفال کراچی صوبے کا سب سے بڑا سرکاری بچوں کا اسپتال ہے اور نئے مرکز سے روزانہ سینکڑوں بچوں کی ویکسینیشن ممکن بنے گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار پچیس تک سندھ میں معمولی حفاظتی ویکسینیشن کی کوریج اسی فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ابتدائی خوراکِ پینٹا ویلینٹ کی کوریج تین باسٹھ فیصد سے زائد اور ٹی بی روکنے والی ویکسین کی کوریج نوے فیصد سے اوپر ہے۔ قومی سطح پر پروگرام سالانہ سات ملین بچوں اور پانچ اعشاریہ پانچ ملین ماؤں کو ویکسین فراہم کرتا ہے۔یہ مرکز پنجاب کے سروسز ہسپتال لاہور میں دسمبر دو ہزار چوبیس میں قائم کیے گئے ماڈل امیونائزیشن مرکز کے بعد صوبے میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے کھلے جانے والے مراکز کی کڑی کا حصہ ہے اور جلد کوئٹہ میں بھی ایک اضافی ماڈل مرکز کا افتتاح متوقع ہے۔ نئے مرکز کے ذریعے ماڈل ویکسینیشن مرکز کا یہی مقصد ہے کہ ایسے مقامات اور خاندان جہاں معمولی خدمات سے بچے چھوٹ جاتے تھے انہیں باقاعدہ اور معیاری طریقے سے ٹیکہ لگایا جائے۔ڈاکٹر اظہرہ فاضل پیچوہو نے کہا کہ حکومتِ سندھ صوبے بھر کے ای پی آئی مراکز کی بہتری پر زور دے رہی ہے تاکہ بچوں کے والدین بہتر سہولت اور سہولت مند تجربہ حاصل کریں اور ویکسین کی افادیت اور بیماریوں سے بچاؤ کی اہمیت کو سمجھ کر بچے صحت مند زندگی گزار سکیں۔ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے کہا کہ پچھلے پچاس سالوں میں حفاظتی ٹیکہ جات کی وجہ سے لاکھوں بچوں اور ماؤں کی حفاظت ممکن ہوئی ہے اور عالمی ادارہ صحت سند ھ کے ساتھ مل کر ٹیکہ جات کی فراہمی، سےنٹر اسٹاف کی تربیت اور ڈیجیٹل چائلڈ امیونائزیشن رجسٹری کے ذریعے ڈیٹا ریکارڈنگ کو مضبوط کرنے میں تعاون جاری رکھے گا تاکہ کوئی بچہ یا ماں پیچھے نہ رہے۔ نئی سہولت ضلع ساؤتھ کے مرکزی مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے پولیو کے خاتمے کی مہمات کے ساتھ منسلک رہتے ہوئے معمولی ویکسینیشن کی رسائی بھی بہتر کرے گی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اطفال بطور حوالہ اسپتال پورے شہر سے آنے والے بچوں کی ویکسینیشن کا کام انجام دے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے