مہنگائی کے طوفان کو روکنے کے لیے حقیقی ریلیف ناگزیر ہے، عامر صدیقی

newsdesk
4 Min Read
سماجی رہنما محمد عامر صدیقی نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

راولپنڈی: سماجی رہنما اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے کہا ہے کہ عزم، حوصلہ، جذبہ اور عملی جدوجہد ہی مشکلات سے نکلنے کا راستہ ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے جاری سلسلے نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پہلے ہی بلند ترین سطح پر ہیں، ایسے میں پہلے ماہانہ، پھر پندرہ روزہ اور اب روزانہ بنیادوں پر قیمتوں کا تعین قومی مفاد کے خلاف ہے۔

عامر صدیقی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل مہنگائی کی آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں جاری اضافے کے باعث عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں، جبکہ اسی اضافے سے بجلی، گیس، ایل پی جی، پیک شدہ دودھ، آئل، گھی، دیگر اشیائے خوردونوش اور کرایوں میں بھی مسلسل ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ قوم کو پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کی اسکیموں میں الجھانے کے بجائے حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے لیے بھاری پیٹرولیم لیوی کم کرنا ہوگی۔ سرکاری سطح پر گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال اور مراعات یافتہ طبقے کو حاصل مفت سہولیات قوم پر بوجھ بن چکی ہیں، جن کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عامر صدیقی نے کہا کہ حکمران سادگی کو شعار بنائیں کیونکہ موجودہ مشکل حالات کفایت شعاری اور سادگی کے فروغ کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضے ملکی وقار کے منافی ہیں، اس لیے خود انحصاری کی طرف بڑھنا ہوگا۔ توانائی بحران کے پائیدار حل کے لیے آبی ذخائر کی فوری تعمیر یقینی بنانا ہوگی، جبکہ آئی پی پیز ذرائع سے چھٹکارا معیشت کے لیے سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول کی بلند ترین قیمتوں نے نظام زندگی مفلوج کر رکھا ہے۔ خود انحصاری اور کفایت شعاری زندہ قوموں کا شیوہ ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے مطالبات پر بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ظلم اور ناانصافی ہے۔ عوام مزید مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کی سکت کھو چکے ہیں، اس لیے حکومت قیمتوں کے کنٹرول اور ریلیف کے لیے عملی اقدامات کرے۔

عامر صدیقی نے ہفتے میں تین چھٹیوں کی بازگشت کو اچھی خبر قرار نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران چھٹیوں کے بجائے اوقات کار میں تبدیلی لا کر انہیں دن کی روشنی تک محدود کر سکتے ہیں، جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں جب اخراجات آمدن سے کہیں بڑھ چکے ہیں، بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی سستی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

Share This Article