لاہور: پاکستان میں شمسی توانائی کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شعبے، سولر فوٹو وولٹک (پی وی) اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) میں سرمایہ کاری کے امکانات، نیٹ میٹرنگ کی بدلتی ہوئی پالیسیوں اور قابلِ تجدید توانائی کی صنعت کو درپیش مسائل پر 24 ستمبر 2026 کو لاہور میں منعقد ہونے والی تیسری انٹرنیشنل سولر پاور کانکلیو اینڈ سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 میں تفصیلی گفتگو ہوگی۔
انرجی اپڈیٹ کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانکلیو میں پالیسی ساز، حکومتی نمائندے، توانائی کے ماہرین، سولر انڈسٹری کے رہنما، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے، سرمایہ کار، کنسلٹنٹس اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے۔ اجلاس کا مقصد پاکستان کے توانائی شعبے میں آنے والی تبدیلیوں، مستقبل کے انرجی مکس میں سولر پاور اور انرجی اسٹوریج کے بڑھتے کردار پر تبادلہ خیال کے لیے ایک مؤثر فورم فراہم کرنا ہے۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ کانکلیو میں حکومت، اکیڈمیا اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والی سینئر شخصیات اور نمایاں پیشہ ور افراد بھی شریک ہوں گے، جہاں پالیسی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور پاکستان کی سولر انڈسٹری کی آئندہ سمت پر مکالمہ کیا جائے گا۔
تقریب میں دو اہم پینل مباحثے رکھے گئے ہیں۔ پہلے پینل کا عنوان “Investment Opportunities in Solar PV and Battery Storage System (BESS)” ہے۔ اس نشست میں سولر بجلی کی پیداوار اور انرجی اسٹوریج کے شعبے میں بڑھتے ہوئے سرمایہ کاری امکانات، ابھرتے ہوئے بزنس ماڈلز، کمرشل اور صنعتی استعمال، فنانسنگ کے مواقع اور توانائی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ اعتماد اور لچکدار بنانے میں بی ای ایس ایس کے کردار پر بات ہوگی۔
دوسرے پینل کا عنوان “Solar in Pakistan – Challenges, Policy Reforms & the Way Forward” ہے۔ اس سیشن میں سولر شعبے کو درپیش اہم مشکلات، ریگولیٹری اور پالیسی امور، مارکیٹ کی صورتحال، گرڈ انٹیگریشن، ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اور نیٹ میٹرنگ کے بدلتے ہوئے فریم ورک کا جائزہ لیا جائے گا۔ صنعت کے ماہرین سولر مارکیٹ کی پائیدار ترقی کے لیے ممکنہ پالیسی اصلاحات اور آگے بڑھنے کے راستوں پر بھی گفتگو کریں گے۔
کانکلیو میں تکنیکی نشستیں بھی شامل ہوں گی، جن میں جدید سولر ٹیکنالوجیز، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، سسٹم ایفیشنسی، گرڈ انٹیگریشن، انرجی مینجمنٹ اور پاکستان کی قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی کے اگلے مرحلے کو شکل دینے والی ٹیکنالوجیکل پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
تقریب میں شرکت کرنے والے نمایاں مقررین اور صنعت کے رہنماؤں میں فیضان علی شاہ، ایڈوائزر ٹو منسٹر انرجی (پاور ڈویژن)؛ عادل محمود، چیئرمین پاکستان سولر ایسوسی ایشن؛ میاں فہد، ریجنل ڈائریکٹر ٹی بی ای اے چائنا؛ محمد ذاکر علی، سی ای او انوریکس سولر انرجی؛ ڈاکٹر نوید ارشد، ڈائریکٹر انرجی انسٹی ٹیوٹ لمز؛ زوہیب الحق، ٹیکنیکل سروس مینیجر گروواٹ پاکستان؛ معروف احمد زبیری، انرجی ایڈوائزر اور ہیڈ آف آلٹرنیٹو انرجی، ایچ وی اے سی اینڈ فائر فائٹنگ بزنس، اے ای ایس ایل؛ انجینئر فیض بھٹہ، سینئر انرجی اینڈ بی ای ایس ایس کنسلٹنٹ، ٹرینر اور اسپیکر؛ ڈاکٹر جواریہ شکیل، ڈائریکٹر سسٹین ایبلٹی، ایشور انٹرنیشنل اور ایڈوائزر گروتھ، بی ایچ گروپ؛ جوزف چو، سیلز ڈائریکٹر سی اینڈ آئی انرجی اسٹوریج پی کے، اٹل انرجی؛ فاز دیوان، ڈائریکٹر دیوان انٹرنیشنلز؛ آفاق علی خان، بانی و سی ای او انرجی گروز اور سابق وائس چیئرمین پاکستان سولر ایسوسی ایشن؛ وقاص خلیق، سی ای او اسمارٹ سولر؛ حسنت خان، سابق وائس چیئرمین پاکستان سولر ایسوسی ایشن؛ محمد فرحان، سی ای او پاور ہائی وے؛ اور قرۃ العین چیمہ، سی ای او جین ٹو شامل ہیں۔
اس موقع پر سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026 بھی منعقد ہوں گے، جن میں پاکستان میں سولر انرجی ٹیکنالوجیز اور سولوشنز کی ترقی، نفاذ اور فروغ میں خدمات انجام دینے والی کمپنیوں اور پیشہ ور افراد کو تسلیم کیا جائے گا۔ یہ ایوارڈز ملک کے بڑھتے ہوئے قابلِ تجدید توانائی ایکوسسٹم میں جدت، تکنیکی مہارت اور صنعتی خدمات کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔
یہ کانکلیو ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کے بجلی کے منظرنامے میں سولر پاور کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ ڈسٹری بیوٹڈ سولر کے تیز پھیلاؤ نے گرڈ مینجمنٹ، ریگولیشن، سرمایہ کاری اور انرجی اسٹوریج سے متعلق نئی بحثوں کو بھی جنم دیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ اجلاس صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو خیالات کے تبادلے اور زیادہ قابلِ اعتماد، پائیدار اور ٹیکنالوجی پر مبنی توانائی مستقبل کے امکانات پر غور کا اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
تیسری انٹرنیشنل سولر پاور کانکلیو اینڈ سولر ٹیکنالوجی ایکسیلنس ایوارڈز 2026، 24 ستمبر 2026 کو لاہور میں “Solar PV, Net Metering & BESS: Powering Pakistan’s Next Energy Revolution” کے مرکزی موضوع کے تحت منعقد ہوگی۔
