راولپنڈی: وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت بدلنے کی غیر قانونی اور مذموم کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور کشمیری عوام نے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
وہ یومِ استحصالِ کشمیر کے سلسلے میں وقارالنساء کالج راولپنڈی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں رکن قومی اسمبلی انجینئر قمر الاسلام راجہ، رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ندیم ناصر، رکن صوبائی اسمبلی شازیہ رضوان، پرنسپل وقارالنساء کالج پروفیسر زاہدہ پروین، اساتذہ، طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے فسطائی اور انتہا پسند نظریے کے تحت کیا گیا بھارتی اقدام نہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کو بدل سکا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کے عزم کو کمزور کر سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیری عوام کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے اور مودی حکومت کے غیر قانونی، توسیع پسندانہ اور نوآبادیاتی عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جنہیں کوئی مہذب اور قانون کی پابند معاشرہ قبول نہیں کر سکتا۔
وفاقی پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ بھارت طاقت، جبر یا یکطرفہ قانون سازی کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق آبادی کا تناسب بدلنے، غیر مقامی افراد کو آباد کرنے اور کشمیری عوام کی مذہبی، ثقافتی اور قومی شناخت مٹانے کی تمام بھارتی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، محاصروں، من مانی گرفتاریوں، آزادی اظہار پر پابندیوں اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام کا جذبہ آزادی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔
