اسلام آباد: پاکستان کے یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک کے تحت اپنی ایک نمایاں تحقیقی پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
جامعہ کے مطابق فریم ورک کے آغاز کے ایک سال بعد 2025ء کے دوران 105 فیکلٹی اراکین نے 331 اعلیٰ معیار کی، رینکنگ سے متعلقہ تحقیقی اشاعتیں پیش کیں، جس سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر آئی آئی یو آئی کا تحقیقی پروفائل مزید مضبوط ہوا ہے۔
یہ فریم ورک اگست 2025ء میں صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اپنے Initiative for Scholarly Recognition کے تحت شروع کیا تھا۔ ان کے وژن کے مطابق تحقیقی عمدگی کو ادارہ جاتی ترقی کے مرکزی نکتے کے طور پر اپنایا گیا، جبکہ ان کی ذاتی کوششوں سے مملکتِ سعودی عرب کے تعاون کے ساتھ 48 لاکھ 30 ہزار روپے حاصل کیے گئے تاکہ اہل تحقیقی اشاعتوں پر انعامی اعزازیہ دیا جا سکے۔
صدر جامعہ کی قیادت میں ٹیم ورک کے ذریعے نائب صدر تحقیق و انٹرپرائز پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے فریم ورک کے نفاذ، قومی تحقیقی معیارات سے مطابقت اور بین الاقوامی رینکنگ اشاریوں کے ساتھ ہم آہنگی کے عمل کی رہنمائی کی۔ دفترِ تحقیق، جدت اور کمرشلائزیشن (اورک) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد فاروق نے مقالوں کی جمع آوری اور جائزے کے عمل کو مربوط کیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں یہ اقدام ایک شفاف اور قابلِ عمل نظام کی صورت اختیار کر گیا، جس نے پہلے ہی سال قابلِ پیمائش نتائج فراہم کیے۔
فریم ورک کے تحت ڈبلیو کیٹیگری کی اشاعت کے لیے 100 امریکی ڈالر کے مساوی اعزازیہ مقرر کیا گیا، جبکہ ایکس کیٹیگری کی اشاعت کے لیے 80 امریکی ڈالر کے مساوی رقم مقرر کی گئی، جسے مروجہ شرحِ مبادلہ کے مطابق پاکستانی روپے میں تبدیل کیا گیا۔ زیادہ تعداد میں ڈبلیو کیٹیگری اشاعتیں پیش کرنے والے محققین کے لیے اعزازیے کی بالائی حد ایک لاکھ 50 ہزار روپے رکھی گئی۔
اس فریم ورک میں ان پانچ محققین کو بھی تسلیم کیا گیا جن کی اشاعتوں کو سب سے زیادہ اثر انگیز قرار دیا گیا؛ ہر ایک کو ایک لاکھ 50 ہزار روپے انعامی رقم دی جائے گی۔ سائنسز اور انجینئرنگ کے لیے ڈبلیو کیٹیگری اشاعتوں کو معیار بنایا گیا، جبکہ سماجی علوم، علومِ انسانیہ اور علومِ اسلامیہ کے لیے ڈبلیو اور ایکس دونوں کیٹیگریوں کی اشاعتوں کو زیرِ غور لایا گیا۔ محققین نے اپنا کام آئی آئی یو آئی ریسرچ ڈیٹابیس پر اپ لوڈ کیا، جس کی صداقت اور اہلیت کی تصدیق ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی ایشورنس (کیو اے ڈی) نے کی۔
جامعہ کے 501 پی ایچ ڈی فیکلٹی اراکین میں سے 105، یعنی تقریباً 21 فیصد، نے ایسی تحقیق پیش کی جو یونیورسٹی کے بین الاقوامی رینکنگ پروفائل میں شامل ہوئی۔ مجموعی 331 اشاعتیں فی پی ایچ ڈی فیکلٹی رکن اوسطاً 0.66 رینکنگ سے متعلقہ مقالے کے برابر ہیں۔ ان میں 300 سے زائد ڈبلیو کیٹیگری اور 20 سے زیادہ ایکس کیٹیگری کے مقالے شامل ہیں۔ یہ جائزہ مستقبل میں وسیع تر فیکلٹی شمولیت اور زیادہ مضبوط تحقیقی پیداوار کے لیے حوصلہ افزا بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
فیکلٹی آف سائنسز 221 اشاعتوں کے ساتھ جامعہ میں سب سے آگے رہی، جبکہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز بھی نمایاں کردار ادا کرنے والی فیکلٹیز میں شامل رہیں۔ پی ایچ ڈی فیکلٹی اراکین کی تعداد کے تناسب سے اشاعتوں کے لحاظ سے سینٹر آف ایکسیلنس اِن ایڈوانسڈ الیکٹرانکس اینڈ فوٹو وولٹک انجینئرنگ (CAEPE)، فیکلٹی آف سائنسز اور فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نمایاں ترین پوزیشنوں پر رہیں۔ فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر رہیں، جبکہ ان کے بعد فیکلٹی آف سوشل سائنسز کا نمبر آیا۔
ڈبلیو کیٹیگری میں بڑی تعداد میں اشاعتیں پیش کر کے ایک لاکھ 50 ہزار روپے کی حد تک پہنچنے والے 8 فیکلٹی اراکین میں ڈاکٹر احمد زیشان (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر طاہر محمود (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر روبینہ خان نیازی (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر رحمت الٰہی (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر عمران مرتضیٰ (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر ظفیر ثاقب (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر وقارالنساء (فیکلٹی آف سائنسز) اور ڈاکٹر صابر زمان (فیکلٹی آف سوشل سائنسز) شامل ہیں۔
مزید برآں ڈبلیو کیٹیگری میں سب سے زیادہ اشاعتیں پیش کرنے والے پانچ فیکلٹی اراکین میں ڈاکٹر احمد زیشان (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر طاہر محمود (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر روبینہ خان نیازی (فیکلٹی آف سائنسز)، ڈاکٹر رحمت الٰہی (فیکلٹی آف سائنسز) اور ڈاکٹر احمد شجاع سید (CAEPE) شامل ہیں۔
صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کہا کہ یہ سنگِ میل علم کی تخلیق میں آئی آئی یو آئی کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے اور مستقبل میں زیادہ تحقیقی پیداوار، فیکلٹی کی وسیع تر شرکت اور عالمی جامعاتی درجہ بندی میں مضبوط ادارہ جاتی موجودگی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس امتیاز کے حامل ساتھیوں پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان میں انعامات تقسیم کریں گے۔
