اسلام آباد: سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ایک پاکستانی شہری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 12 فروری 2025 کو واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والے مبینہ سائبر فراڈ کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں اسے 6 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
متاثرہ شہری کے مطابق نامعلوم افراد نے اس کے ایک جاننے والے شخص کا واٹس ایپ اکاؤنٹ مبینہ طور پر اپنے قابو میں لے کر رقم کا تقاضا کیا۔ پیغام کو اصل سمجھتے ہوئے شہری نے 6 لاکھ روپے ایک بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے، جو شکایت کے مطابق رحمان علی / حافظ سید محمد علی شاہ کے نام سے ایچ بی ایل ایئرپورٹ روڈ برانچ، بہاولپور میں موجود بتایا گیا۔
بعد ازاں شہری کو معلوم ہوا کہ وہ مبینہ دھوکا دہی کا شکار ہو چکا ہے، جس کے بعد اس نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے آن لائن کمپلینٹ پورٹل کے ذریعے شکایت درج کرائی۔ شکایت گزار کا کہنا ہے کہ اس نے واقعے کی تاریخ، رقم کی منتقلی، بینک اکاؤنٹ اور لین دین سے متعلق تفصیلات متعلقہ حکام کو فراہم کیں۔
شکایت گزار کے مطابق 18 ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو رقم کی کوئی واپسی ہوئی اور نہ ہی اسے اپنی درخواست کی پیش رفت کے بارے میں کوئی واضح یا مؤثر اطلاع دی گئی۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ طور پر فراڈ میں شامل افراد کی نشاندہی بھی ہو چکی تھی، تاہم اس کے باوجود رقم کی بازیابی یا نمایاں قانونی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
متاثرہ شہری کا مؤقف ہے کہ اس نے کئی بار متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے اپنی شکایت کی صورتحال جاننے کی کوشش کی، لیکن اب این سی سی آئی اے کی جانب سے مبینہ طور پر اس کے رابطوں کا جواب نہیں دیا جا رہا۔
یہ معاملہ پاکستان میں سائبر کرائم کی تحقیقات کے نظام کی کارکردگی اور جواب دہی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے، خاص طور پر ایسے مقدمات میں جہاں متاثرہ شخص بینک اکاؤنٹ اور ٹرانزیکشن کی تفصیل فراہم کر چکا ہو۔ مالی نوعیت کے سائبر جرائم میں بروقت کارروائی نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ رقم مختلف اکاؤنٹس میں تیزی سے منتقل کی جا سکتی ہے۔
شکایت گزار یہ جاننا چاہتا ہے کہ آیا 6 لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن کو باقاعدہ ٹریس کیا گیا، وصول کنندہ اکاؤنٹ کی جانچ ہوئی، رقم بعد میں کسی اور اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی یا نہیں، اور مبینہ طور پر نشاندہی شدہ افراد کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی گئی۔
بیرون ملک محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی کے لیے 6 لاکھ روپے ایک بڑی رقم ہے، جو طویل محنت اور مالی قربانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ اس کی شکایت صرف رقم کے نقصان تک محدود نہیں بلکہ اسے طویل خاموشی اور غیر واضح صورتحال پر بھی تشویش ہے۔
یہ واقعہ عام شہریوں کو ڈیجیٹل فراڈ سے تحفظ فراہم کرنے کے نظام پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اگر کوئی متاثرہ شخص واقعے کی تاریخ، منتقل شدہ رقم، وصول کنندہ بینک اکاؤنٹ اور مشتبہ افراد سے متعلق معلومات فراہم کرے تو عوامی مفاد میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ معاملہ کس مرحلے پر ہے اور رقم کی بازیابی میں کیا رکاوٹیں درپیش ہیں۔
شکایت گزار کا مطالبہ ہے کہ اس کی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، مبینہ طور پر منتقل کی گئی رقم کا سراغ لگایا جائے، قانونی طور پر ممکن ہو تو رقم واپس دلائی جائے، اور ذمہ دار افراد کو مروجہ قانونی عمل کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔
متعلقہ حکام اور بینکنگ اداروں کی جانب سے اس معاملے پر شفاف وضاحت متاثرہ شہری کے لیے ہی نہیں بلکہ دیگر شہریوں کے اعتماد کے لیے بھی ضروری ہے۔ شکایت گزار کے مطابق 6 لاکھ روپے چند منٹوں میں موبائل فون کے ذریعے منتقل ہو گئے، مگر احتساب اور انصاف کا انتظار اب 18 ماہ سے زیادہ عرصے تک پھیل چکا ہے۔
