انگلینڈ اور ویلز میں جاری خواتین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں گروپ مرحلے کے آخری مقابلوں کے ساتھ ہی سیمی فائنل کی دوڑ مزید تیز ہوگئی ہے۔ ٹورنامنٹ میں شامل بارہ ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں ہیں اور ہر میچ کے ساتھ مقابلوں کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔آسٹریلیا نے گروپ اے میں اپنی روایتی برتری ایک بار پھر ثابت کی ہے۔ جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف فتوحات نے انہیں سیمی فائنل تک پہنچنے کی مضبوط پوزیشن دے دی ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کی بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں متوازن کارکردگی نے اسے ایک بار پھر ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین دعوے دار ٹیموں میں شامل کر دیا ہے۔بھارت نے بھی کچھ مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ نیدرلینڈز کے خلاف ۹۵ رنز کی بڑی کامیابی میں بھارتی بیٹنگ لائن نے ۲۰۹ رنز کا مجموعہ ترتیب دیا، جس سے ٹیم کی جارحانہ صلاحیت واضح ہوئی۔ تاہم جنوبی افریقہ کے خلاف اتوار کو ہونے والی شکست نے ان کے سفر کو پیچیدہ بنا دیا۔ اس اہم مقابلے میں جنوبی افریقہ کی آل راؤنڈر مریزانے کپ نے ناقابل شکست ۸۱ رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو یادگار کامیابی دلائی اور سیمی فائنل کی امیدیں مزید مضبوط کر دیں۔پاکستان کے لیے یہ ٹورنامنٹ اب تک توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ بھارت کے خلاف ابتدائی شکست کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ایک قریبی مقابلے میں بھی ناکامی ہوئی، جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف بھی شکست نے صورت حال مزید مشکل بنا دی۔ اگرچہ پاکستانی ٹیم حسابی طور پر ابھی بھی دوڑ میں موجود ہے، لیکن سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات اب خاصے محدود نظر آ رہے ہیں۔گروپ بی میں میزبان انگلینڈ نے ہوم کنڈیشنز اور تماشائیوں کی بھرپور حمایت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ سری لنکا، آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف مسلسل فتوحات نے انہیں ٹورنامنٹ کی اہم فیورٹ ٹیموں میں شامل رکھا ہے۔ تجربہ کار کھلاڑیوں کی مسلسل پرفارمنس نے انگلینڈ کو آخری چار میں جگہ بنانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے نیوزی لینڈ کو حیران کن شکست دی، جبکہ سری لنکا نے بھی دفاعی چیمپئنز کے خلاف غیر متوقع کامیابی حاصل کی۔ ان نتائج نے ٹورنامنٹ میں غیر یقینی کیفیت بڑھا دی ہے۔ نیوزی لینڈ، جو گزشتہ ایڈیشن کی چیمپئن ہے، اب دباؤ میں ہے اور اسے باقی میچوں میں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی تاکہ مقابلے میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکے۔اس عالمی ایونٹ میں کئی نوجوان کھلاڑیوں نے متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے، جبکہ تجربہ کار اسٹارز نے بھی بڑے موقع پر اپنی کلاس برقرار رکھی ہے۔ میدانوں میں بڑھتی ہوئی تماشائی تعداد اور عالمی دلچسپی سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نے خواتین کرکٹ کی مقبولیت میں مزید اضافہ کیا ہے۔کرکٹ ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر آسٹریلیا اور انگلینڈ ٹائٹل کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں، تاہم جنوبی افریقہ، بھارت، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیمیں بھی اپ سیٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ باقی گروپ میچز سیمی فائنل کی حتمی فہرست طے کریں گے اور شائقین کو مزید دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔میدان سے باہر بھی یہ ٹورنامنٹ خواتین کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توجہ اور شائقین کی دلچسپی اس کھیل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اب سب کی نگاہیں سیمی فائنلز اور فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں عالمی چیمپئن کے تعین کے لیے مقابلہ اپنے عروج پر پہنچے گا۔
