پاکستان کے لیے افریقہ میں بے پناہ مواقع موجود، عملی اقدامات ناگزیر: آئی ایس ایس آئی فورم میں ماہرین کا زور
تحریر: تزئین اختر
اسلام آباد: سفارت کاروں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو افریقہ کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لیے محض اعلانات اور منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ فوری اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ افریقی ممالک کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور سفارتی روابط کو نئی جہت دی جا سکے۔
یہ باتیں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے زیر اہتمام منعقدہ یومِ افریقہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افریقہ آج کے دور کا اہم ترین براعظم بن چکا ہے اور پاکستان کے پاس صرف چند سال ہیں جن میں وہ افریقی ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر مضبوط شراکت داری قائم کر سکتا ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ آئندہ ایک دہائی میں افریقہ میں عالمی مقابلہ اس قدر سخت ہو جائے گا کہ پاکستان کے لیے اپنی جگہ بنانا مزید مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت، چین، یورپی یونین، جاپان اور ترکی پہلے ہی افریقہ کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کر چکے ہیں۔
تقریب سے آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان، الجزائر کے سفیر اور افریقی سفارتی کور کے قائم مقام ڈین سفیر براہیم رمانی، افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف اور وزارت خارجہ پاکستان کے ایڈیشنل فارن سیکرٹری (افریقہ) سفیر حمید اصغر خان نے خطاب کیا۔
سفیر خالد محمود نے 63 ویں یومِ افریقہ کے موقع پر افریقی ممالک کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے افریقہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ عالمی معاملات میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے اور پاکستان کو اس کے ساتھ اپنے روابط کو مزید وسعت دینا ہوگی۔
افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین محمود علی یوسف نے کہا کہ افریقہ کا وژن اتحاد، انضمام، وقار اور ترقی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ افریقہ کے موقع پر براعظم اپنی طویل المدتی حکمتِ عملی ایجنڈا 2063 اور ’’دی افریقہ وی وانٹ‘‘ کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
خرم دستگیر خان نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں کو پاکستان اور افریقہ کے درمیان تعاون کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں موجود مواقع پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے دفاعی تربیت اور دفاعی صنعت میں مشترکہ تعاون کو دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔
الجزائر کے سفیر براہیم رمانی نے اپنی حکومت اور افریقی سفارتی مشنز کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل سفارتی عمل تھا جسے پاکستان نے کامیابی سے مکمل کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان افریقی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا اور افریقہ آج بھی اس تاریخی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تاریخی خیر سگالی کو مضبوط معاشی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
ایڈیشنل فارن سیکرٹری (افریقہ) سفیر حمید اصغر خان نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی جغرافیائی اور معاشی حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنوبی ممالک کے درمیان تعاون (South-South Cooperation) کے تحت افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ زراعت، غذائی تحفظ اور قدرتی وسائل کے حوالے سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے اور مستقبل میں عالمی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان صنعت، سائنس، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی مہارت کو افریقی ممالک کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے، جس کے لیے ادارہ جاتی روابط، کاروباری شراکت داری، سفارتی سرگرمیوں اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا ہوگا۔
مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب محمد عبدالحمید حسن نے افریقی فری ٹریڈ ایریا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ افریقی ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ انہوں نے آبی وسائل کے انتظام میں مصر کے تجربات اور افریقی ممالک کے ساتھ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور مصر کے درمیان تجارت، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط کے فروغ کے امکانات پر بھی بات کی۔
روانڈا میں پاکستان کے نمائندے نعیم خان نے شرکاء کو افریقہ میں موجود معاشی اور تجارتی مواقع سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان آج سے سنجیدہ اور عملی اقدامات کا آغاز کرے تو آئندہ دس برسوں میں افریقہ کے وسیع امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
تقریب میں مصر، کینیا، ماریشس، نائیجیریا، جنوبی افریقہ، سوڈان، صومالیہ، تیونس، زمبابوے اور مراکش کے سفارت کاروں نے بھی خطاب کیا اور پاکستان کے ساتھ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ لیبیا اور ایتھوپیا کے سفرا تقریب میں شریک نہ ہو سکے جبکہ ایتھوپیا کے مشن کی نمائندگی نائب سربراہ مشن نے کی۔
افریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں نے بھی آن لائن شرکت کی، جن میں جبوتی، مصر، لیبیا، گھانا، آئیوری کوسٹ اور یوگنڈا میں تعینات سفارت کار شامل تھے۔ انہوں نے اپنے اپنے ممالک میں موجود سرمایہ کاری، تجارت اور تعاون کے مواقع سے متعلق آگاہ کیا۔ تاہم کینیا، نائیجیریا، تنزانیہ اور جنوبی افریقہ سمیت بعض ممالک میں تعینات پاکستانی سفارت کار تکنیکی وجوہات کی بنا پر آن لائن اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افریقہ پاکستان کے لیے مستقبل کے سب سے اہم اقتصادی اور سفارتی مواقع فراہم کرنے والا خطہ ہے، اور اگر بروقت عملی اقدامات کیے جائیں تو دونوں فریقین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سفارتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو نمایاں طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔
