اسلام آباد، 15 جولائی 2026ء: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا بھرپور صوفی ورثہ رواداری، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں نہایت اہم کردار رکھتا ہے، جبکہ صوفی بزرگوں کی تعلیمات آج کے دور میں تقسیم، عدم برداشت اور انتہا پسندانہ رویوں جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
وہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے)، اسلام آباد میں فنکاروں رومی اور ایمن کی آرٹ نمائش ’’تصوف اینڈ کلچر‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین سینیٹ نے نمائش کے انعقاد پر پی این سی اے کو مبارکباد دی اور فنکاروں کو سراہا کہ انہوں نے پاکستان کی روحانی اور ثقافتی روایات سے جڑے ایک اہم موضوع کو اپنے فن کا حصہ بنایا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کی نہایت مالا مال صوفی روایات کا حامل ہے، جس نے ملک کی شاعری، موسیقی، فن تعمیر، زبانوں اور لوک ورثے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے مطابق تصوف کا پائیدار پیغام احترام، ہمدردی اور بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے، اور یہی وہ اقدار ہیں جن کی موجودہ دنیا میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صوفی بزرگوں کی تعلیمات انسانیت کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ احترام نفرت سے زیادہ مضبوط ہے، مکالمہ محاذ آرائی سے زیادہ دیرپا ہے، اور بقائے باہمی اخراج اور تفریق کے مقابلے میں زیادہ ثمر آور ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ آفاقی اصول زیادہ پرامن، جامع اور مضبوط معاشروں کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے فنکاروں رومی اور ایمن کے تخلیقی کام کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا فن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کا ثقافتی ورثہ آج بھی معاصر اظہار کو متاثر کر رہا ہے اور نئی نسلوں کو دیرپا روحانی اقدار سے جوڑ رہا ہے۔ انہوں نے نمائش کو ممکن بنانے میں پی این سی اے اور تمام متعلقہ افراد کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
تقریب میں فنکاروں، ثقافتی شخصیات، سفارت کاروں، فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
