انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان 2026 کی اسلام آباد میں رونمائی

newsdesk
5 Min Read
وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام اسلام آباد میں قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا باضابطہ اجرا کیا گیا۔

اسلام آباد: وزارت انسانی حقوق نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا باضابطہ اجرا کر دیا، جس کا مقصد ملک بھر میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے مربوط قومی فریم ورک کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ ایکشن پلان وزارت انسانی حقوق نے یورپی یونین کے حقوقِ پاکستان دوم منصوبے کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

رونمائی کی تقریب میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری، اراکین پارلیمان، سفارت کار، اعلیٰ سرکاری حکام، وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندے، قومی انسانی حقوق اداروں، سول سوسائٹی تنظیموں، اکیڈیمیا، ترقیاتی شراکت داروں، اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کے محافظوں نے شرکت کی۔ تقریب میں توثیق شدہ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کی باقاعدہ نقاب کشائی کی گئی۔

یہ منصوبہ گزشتہ قومی ایکشن پلانز کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے عمل درآمد میں موجود خلا اور انسانی حقوق سے متعلق ابھرتی ہوئی ترجیحات پر توجہ دیتا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کا باضابطہ اجرا کرتے ہوئے اسے پاکستان کے انسانی حقوق کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکشن پلان آئینی ضمانتوں کو عملی اور قابل پیمائش اقدامات میں تبدیل کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ قومی ترجیحات کو آگے بڑھانے اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی معاون ہوگا۔

بیرسٹر عقیل ملک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، قومی انسانی حقوق اداروں، سول سوسائٹی، اکیڈیمیا اور یو این ڈی پی پاکستان کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ایک جامع مشاورتی عمل کے ذریعے اس منصوبے کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری وزارت انسانی حقوق عبد الخالق شیخ نے کہا کہ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 ایک وسیع ملک گیر مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے، جس کی قیادت وزارت انسانی حقوق نے یو این ڈی پی کے تعاون سے یورپی یونین کے حقوقِ پاکستان دوم منصوبے کے تحت کی۔

انہوں نے بتایا کہ انسانی حقوق سے متعلق یہ تیسرا قومی ایکشن پلان ہے، جس میں چھ موضوعاتی شعبے اور 86 عملی نکات شامل ہیں۔ ان نکات کا محور قانونی و پالیسی اصلاحات کو مضبوط بنانا، کمزور طبقات کا تحفظ، انسانی حقوق کی تعلیم کا فروغ، ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ اور ابھرتی ہوئی ترجیحات سے نمٹنا ہے، جن میں ڈیجیٹل حقوق، قیدیوں کے حقوق اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔

پاکستان میں یورپی یونین وفد کے ناظم الامور فلپ اولیور گراس نے اپنے خطاب میں جمہوری حکمرانی اور انسانی حقوق کے استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ یورپی یونین کی مسلسل شراکت داری کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سمیت ہمارا تعاون بنیادی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 واضح ذمہ داریوں اور قابل پیمائش اہداف کے ساتھ ایک عملی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو مؤثر عمل درآمد اور جواب دہی میں مدد دے گا۔

یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک نے بھی حکومت پاکستان کو اس ایکشن پلان کے نفاذ میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو آج لوگوں کو درپیش حقائق کے مطابق ارتقا پذیر ہونا چاہیے۔ یہ ایکشن پلان اسی وژن کی عکاسی کرتا ہے اور یو این ڈی پی وزارت انسانی حقوق اور اس کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس روڈ میپ کو لوگوں کی زندگیوں میں بامعنی بہتری میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔

قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک مربوط عمل درآمدی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے قابل پیمائش اقدامات، بہتر رابطہ کاری اور مؤثر نگرانی کے نظام کے تحت پاکستان بھر میں انسانی حقوق کو فروغ دیا جائے گا۔

Share This Article